بنت فاطمہ اولڈ ہوم دکھیاری ماؤں کا سائباں

تحریر: عنایت شمسی


ہمارے یہاں عموماً مغرب کے سماجی رویے بہت زیر بحث رہتے ہیں، اس ضمن میں مغرب کی مادہ پرستانہ زندگی کے مظاہر، نتائج، اثرات اور عواقب ہر شخص کیلئے اہم ترین موضوع بحث کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عموماً یہ بات کی جاتی ہے کہ مغربی سوسائٹی میں حد سے بڑھی ہوئی مادہ پرستی نے رشتوں کا احساس مٹا دیا ہے۔ خود غرضی کی آکاس بیل نے ہر جذباتی احساس کا گلہ دبا کر اسے نا بود کر دیا ہے۔ ہر چیز پر مادہ پرستی کا ایسا سایہ پڑ گیا ہے کہ خلوص، بے لوث محبت، رشتوں کی قدر و لحاظ جیسے لطیف جذبات اور اخلاقی قدریں عنقا ہو چکی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مغربی سوسائٹی میں جہاں بہت سی خوبیاں موجود ہیں، وہاں یہ اخلاقی برائیاں اور خود غرضی کے اثرات مغربی سوسائٹی اور اس کی پوری فیبرکس میں سرایت کر چکے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ، مگر کیا ہم نے اپنے معاشرے کے بدلتے رویوں پر بھی کبھی غور کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا مشرقی اور اسلامی معاشرہ ان اخلاقی برائیوں سے یکسر پاک ہے، جن برائیوں اور خود غرضیوں کو ہم مغرب کی تباہی کا سبب گردانتے نہیں تھکتے؟

مغرب کے طرز معاشرت اور زندگی گزارنے کے مادی طور طریقوں نے وہاں کے انسان کو اس حد تک انا پرستی کا خوگر بنا دیا ہے کہ خود غرضی وہاں کے انسان کی سماجی مجبوری بن چکی ہے۔ وہاں پورا طرز حیات مادی فکر کے سانچے میں ایسا ڈھل گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو اس سے مفر نہیں ہے۔ بالغ ہونے کے بعد ہر شخص اپنا کماتا، اپنا کھاتا ہے۔ وہ کسی کا بوجھ اٹھاتا ہے، نہ کسی سے سہارے کی آس لگاتا ہے۔ زندگی گزرتی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ عمر کی اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ اس کے جسم میں کما کھانے کی طاقت نہیں رہتی۔ اب وہ سوسائٹی کے لیے بھی بے کار پرزہ بن جاتا ہے اور زندگی کی بچی کھچی سانسیں کسی اولڈ ہوم میں کھینچتا اور پوری کرتا ہے۔ یہ بڑا نسانی اور سماجی المیہ ہے، مگر چونکہ یہ مغربی طرز زندگی کے ایک لازمہ کی صورت اختیار کر چکا ہے، اس لیے وہاں کی ریاستیں اس المیہ صورتحال کو سنبھالنے کا انتظام بھی کرتی ہیں۔ ایسے لوگ جن کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا، یا جو معمر ہونے کے باعث اپنی زندگی اپنے بل بوتے پر پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ریاستی سطح پر ان کیلئے الاؤنس بھی مقرر ہوتا ہے اور اولڈ کیئر ہومز کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ ایسے سینئر شہری اور بزرگ ان اولڈ ہومز میں سرکاری دیکھ بھال میں اپنی زندگی پوری کر لیتے ہیں۔

سیدنا عمر فاروق اعظم انسانی تاریخ کے چند مدبر، منتظم اور مصلح حکمرانوں میں سے ہیں، آپ وہ عظیم ریفارمر ہیں جن کی اصلاحات اور اسلوب حکمرانی کو آج کے اس جدید دور میں بھی گورننس کے فن میں قابل تقلید سمجھا جاتا ہے۔ اپنے دور امارت میں ایک بار سیدنا حضرت عمر نے مدینے کی گلیوں میں ایک بوڑھے غیرمسلم کو بھیک مانگتے دیکھا۔ سیدنا عمر غیر مسلم بوڑھے بھکاری کو دیکھ کر رکے اور اس حالت کی وجہ دریافت کی۔ بوڑھے نے جواب دیا،میں ذِمی شہری ہوں،مجھے ریاست کو جزیہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کی فکر بھی لگی رہتی ہے، چنانچہ یہ دوہرا بوجھ ڈھونے کیلئے محدود آمدن کے ساتھ بھیک بھی مانگنے پر مجبور ہوں… سیدنا عمر نے یہ سنا تو بہت دل گرفتہ ہوئے، بیت المال سے بوڑھے ذِمی کا وظیفہ (الاؤنس) مقرر کیا اور تاریخی جملہ کہا، فرمایا: ”ہم نے اس کی جوانی کو کھایا، زندگی بھر اس سے ٹیکس وصول کیا،اب اس عمر میں بھی اس سے جزیہ وصول کریں، یہ انصاف نہ ہوگا۔” اگر مغرب کی مادہ پرست سوسائٹی میں انسان رشتوں کو بھلا چکا ہے، تو یہ بھی اسی معاشرے کا ایک رخ ہے کہ وہاں کی ریاستیں بزرگ شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتیں۔ اسلامی فقہ کی ایک جزئیہ ہے کہ جس کا کوئی والی وارث نہ ہو، سلطان یعنی حکومت و ریاست اس کی وارث و نگہبان ہوتی ہے۔ اس جزئیہ اور اس اخلاقی ذمے داری کو مغرب کی حکومتوں نے تو اپنا لیا ہے، مگر ہمیں اپنے گریباں میں جھانک کر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

مغرب کی اچھائیاں تو ہم نہیں اپنا سکے، مگر افسوس اس کی سماجی خامیاں اور اخلاقی برائیاں آج ہمارے مشرقی اور اسلامی معاشرے میں تیزی سے اثر و نفوذ کا دائرہ بڑھاتی چلی جا رہی ہیں۔ گزشتہ دن ایک اولڈ ہوم کے مشاہدے کیلئے جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم جن بنیادوں پر مغرب کی برائیاں کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں، آج انہی عوامل نے ہمارے گھر میں بھی سر اٹھا لیا ہے، مگر کیا ہم اس کے عواقب کا سامنا کرنے کیلئے بھی تیار ہیں؟ کیا ہمارے یہاں بھی ریاستی سطح پر بے کس و لا چار بزرگوں کی مناسب کفالت کا کوئی انتظام اور گنجائش ہے… اس سوال کے جواب میں دور تک مایوسی کے اندھیرے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

مزار قائد کے فاتحہ خوان قاری شمس الدین ہمارے عزیز دوست اور ہر دم فعال ومتحرک شخصیت ہیں، دوستوں کی خبر گیری، ان کا دکھ درد بانٹنا اور ہر ایک کے کام آنا کچھ اس طرح ان کا مزاج بن گیا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے یہ سب بھی ان کی سرکاری ڈیوٹی میں شامل ہو۔ گزشتہ دن قاری صاحب نے اپنے ہمراہ ڈی ایچ اے میں واقع ”بنت فاطمہ اولڈ ایج ہوم” کو دیکھنے کی دعوت دی تو ملکی حالات کے پس منظر میں کسی روایتی اولڈ ہوم کی جو تصویر بن سکتی تھی، اس کے نقوش ذہن کی اسکرین پر ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ ہمارے ہمراہ قومی ادارہ برائے امراض قلب (NICVD) کے سینئر، مخلص اور فرض شناس ڈاکٹر سعید احمد صاحب، ان کے ساتھی ڈاکٹر سعد صباح وقاص اور الرٹ نیوز کے ہمارے دوست شاکر احمد خان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر سعید احمد صاحب بھی ماشاء اللہ یاروں کے یار، انسانیت کے خدمتگار، دکھیاروں کے غم گسار اور درد مند دل رکھنے والے انسان اور حقیقی معنی میں مسیحا ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نہایت قابل اور اتنے ہی اپنے پیشے اور انسانیت کے ساتھ مخلص فیملی و ایمرجنسی فزیشن ہیں اور آج کل قومی ادارہ برائے امراض قلب میں کارڈیالوجی میں اختصاص (specialization) کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات قبول فرمائے، آمین۔ راستے بھر ہم سب کا یہی خیال تھا کہ یہ ایک روایتی سا اولڈ ہوم ہوگا، جہاں بوڑھے افراد کو واجبی سہولتوں اور خدمات کے ساتھ رکھا گیا ہوگا۔ ہمارا یہ بھی خیال تھا کہ یہ ایک نیم خیراتی قسم کا ادارہ ہوگا، جہاں بے سہارا افرادکو رکھنے کیلئے کچھ چارجز بھی وصول کیے جاتے ہوں گے، مگر ڈی ایچ اے پر طویل سڑک پیمائی کے بعد فیز ایٹ میں واقع ایک عالیشان بنگلے کے باہر ہمیں اتارا گیا تو ہمیں یقین ہی نہیں آیا کہ جا اینجا است… اندر داخل ہوئے تو خدمت کے جذبے سے سرشار پر عزم نوجوان اسد شعیب نے کھلی بانہوں کے ساتھ استقبال کیا اور پھر ہمیں ایک خوبصورت اور نفیس روم میں بٹھا کر پانی آنے تک انہوں نے جو تفصیل اجمال سے بیان کی، ہم پر حیرتوں کے در ایک ایک کرکے وا ہوتے چلے گئے اور جو کچھ سوچتے آئے تھے، ایک ایک کرکے غلط ثابت ہوتے چلے گئے…

القصہ ہم نے جو دیکھا اور سنا وہ یہ ہے کہ 2007ء میں نوجوان جناب اسد شعیب کی والدہ محترمہ فرزانہ شعیب صاحبہ نے ایک بے سہارا پڑوسی خاتون کی مدد سے جس عظیم کام کا بِیڑا اٹھایا، وہ اب ان کے اسی ذاتی عالیشان بنگلے میں پچپن ضعیف اور بے سہارا ماؤں کی بے لوث اور بھرپور خدمت کے منظم سلسلے تک جا پہنچا ہے۔ کراچی کے علاوہ محترمہ فرزانہ شعیب صاحبہ کی فیملی ڈی ایچ اے لاہور اور اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع اپنے ذاتی گھروں میں بھی پچیس اور بیس ایسی ہی بے آسرا ماؤں کو سہارا اور آسرا فراہم کرکے ان کی دن رات فی سبیل اللہ خدمت میں مصروف ہے اور اس کیلئے یہ خدا ترس فیملی اپنے مال کے بڑے حصے کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل لائف کی بھی قربانی دے رہی ہے۔ پوری فیملی ان تمام خواتین کو جن سے ان کا دور دور کا بھی کوئی خونی رشتہ نہیں ہے، کی دلداری اور ہر ضرورت پوری کرنے کیلئے رات دن کوشاں رہتی ہے۔ آج کل کے دور میں لوگوں سے اپنے بال بچے نہیں سنبھالے جاتے، جبکہ یہ فیملی سو ایسی ضعیف خواتین کو انتہائی عزت، احترام اور زندگی کی تمام تر سہولتوں اور آسائشوں کے ساتھ سبھالے ہوئے ہے، جنہیں ان کے پیاروں، خونی رشتوں اور پورے معاشرے نے ٹھکرا دیا ہے۔اتنی بڑی تعداد کو اپنے گھر میں رکھنا بڑا دل گردے کا کام اور بڑا امتحان ہے، مگر مسز فرزانہ، ان کے شوہر، ان کی بہوئیں اور بیٹے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اپنا فرض سمجھ کر یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب کیسے کیا جاتا ہے، نوجوان اسد شعیب اخلاص کی مٹھاس میں گھلی زبان کے ساتھ تفصیل بتاتے جا رہے تھے اور ہم سب پلکیں جھپکانا بھی بھول کر ہمہ تن گوش بر آواز تھے… انہوں نے بتایا: ”ہم نے ان ماؤں کو کبھی ایک لمحے کیلئے بھی غیر نہیں سمجھا، ہم فیملی ممبرز کی طرح ان کا دیکھ بھال کرتے ہیں۔” وہ بتا رہے تھے: ”ان ماؤں کو پناہ دینے کا فیصلہ ہماری ماں کا ہے اور ہماری پوری فیملی ماں جی کے اس فیصلے اور جذبے کو عملی جامہ پہنانے کو اپنی سعادت سمجھتی ہے۔” ان کا کہنا تھا: ”ہم ان ماؤں کو وہی لائف اسٹائل دیتے ہیں، جو ہمیں خود پسند ہے، جو ہم اور ہمارے بچے کھاتے پیتے اور پہنتے اوڑھتے ہیں، وہی کچھ ہم ان تمام ماؤں کو فراہم کرتے ہیں۔” اسد شعیب بولتے اور ہماری حیرت میں اضافہ کرتے جا رہے تھے…

اسد شعیب کی بریفنگ کے بعد ہم نے یہاں مقیم ماؤں سے ملاقات کی اور ان کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا مشاہدہ کیا۔ انتہائی نفاست سے سجے ہوئے کمرے، ان میں سلیقے سے رکھے ہوئے بیڈ، گدے، شیٹس، ہر کمرے میں فرسٹ ایڈ باکسز، الغرض ضرورت کا ہر سامان۔ کمروں کے باہر وسیع ٹی وی لاونج، جس میں فارغ اوقات میں سب مائیں آرام دہ صوفوں پر بیٹھ کر ہلکی پھلی تفریح کے ذریعے وقت کاٹتی ہیں۔ ہم لاونج میں داخل ہوئے تو تمام مائیں صوفوں پر بیٹھی ہماری منتظر تھیں۔ سبھی صاف ستھرے لباس میں نہایت خوش دکھائی دے رہی تھیں،مگر ان کے چہروں پر اپنوں کی بے اعتنائی اور بے رخی کا دکھ، درد اور گھاؤ نوشتہ دیوار کی طرح کندہ تھا… فرزانہ باجی کی فرمائش اور حکم پر قاری شمس الدین صاحب نے مزار قائد پر آنے والے ڈیلی گیشنز کی حاضری کے وقت اپنی فاتحہ خوانی کے طرز پر تمام ماؤں کو تلاوت قرآن سنائی، جس سے سب کے چہرے کھل اٹھے اور ہم ان دکھی ماؤں سے دعائیں لے کر باہر آگئے۔

بلا شبہ یہ ایک ایسا کام ہے، جس کی جزا رب کریم کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ ہم نے کچھ وقت ان بے سہارا ماؤں اور ان کے فی سبیل اللہ کفیل خاندان کے ساتھ گزارا اور اس احساس کے ساتھ لوٹ آئے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے، تاہم انسانیت کی کچھ رمق ان افراد میں بھی جاگ جانی چاہیے، جن کی ضعیف مائیں اور لا چار بوڑھی رشتہ دار خواتین بنت فاطمہ اولڈ ہوم میں ان کی بے حسی اور بے رخی سے گھائل ہو کر رشتوں کی مٹھاس اور اپنائیت کے لمس کو ترس رہی ہیں… بلا شبہ محترمہ فرزانہ شعیب صاحبہ اس نفسا نفسی کے دور میں اللہ تعالیٰ کی ولیہ ہیں۔ ہم سب کو چاہیے کہ خیر کے اس کام کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کریں اور حسب توفیق اس کار عظیم میں اس خاندان کا ہاتھ بٹائیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اعمالِ خیر کی توفیق اور سعادت نصیب فرمائے، آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *