موت کی کتاب

’’موت کی کتاب‘‘
تبصرہ : مسلم انصاری

موت کی کتاب کی پہلی اشاعت ہندوستان میں سن 2011 میں ہوئی جبکہ ترجمے کے بعد یہ کتاب پاکستان میں 2012 میں شائع کی گئی
حالیہ دنوں اور گزشتہ کچھ وقتوں میں یہ کتاب زبان زدعام رہی
اپنے خاص اسلوب اور فکر کو لیکر اسے سمجھنے اور سمجھانے کے لئے باقاعدہ مزید کتب لکھی گئیں ہیں
جبکہ شمس الرحمن فاروقی کا کتاب کے حوالے سے یہ جملہ اہمیت رکھتا ہے کہ
“ممکن ہے (موت کی کتاب) اور صحیفہ ایوب میں مشابہت سرسری یا اتفاقیہ ہو یا ممکن ہے نہ ہو!! مگر صحیفہ ایوب کی زبان جس قدر سادہ شائستہ اور میٹھی ہے ۔ موت کی کتاب کی زبان اتنی ہی کھردری بوجھل ڈراؤنی اور ہمیں خود سے شرمندہ کرنے والی ہے”

کتاب کی بنت مضبوط اور تلخ ہے
کہانی کا اس میں مذکور فکشن کا پلاٹ کاٹ دار ہے
مکمل سکوت پسند یا تلخ حقائق کو برداشت کرنے والے فرد کے لئے یہ کتاب بے مول ذخیرہ ہے
یہی وجہ ہے کہ فکشن میں موجودہ ابھرے ہوئے ناموں میں خالد جاوید صاحب کا نام سر فہرست ہے
کتاب خودکشی کی طرف مائل کرنے والی ، طبعی رجحان کو ابھارنے والی اور اپنی پیدائش سے لیکر موت تک کے تمام احوال سے ڈراتے ہوئے اپنے وجود سے اکتاہٹ پیدا کرنے کا سبب بنا سکتی ہے

لیکن ایک بات سچ ہے
جیسا کہ مشہور بات ہے کہ ایک ہی کتاب دو افراد ایک طرح نہیں پڑھتے
عین اسی طرح ہر کتاب کا اثر ہر ایک پر الگ طرح سے ہوسکتا ہے
یہ کتاب آپ کو لاحق ہو سکتی ہے !!

میں نے ایک ہی ماہ میں یہ کتاب دو مرتبہ بغور پڑھی ہے جس کے بعد میرے لئے خالد جاوید کا نام ایسے ہوگیا ہے جیسے ورجینیا وولف، کافکا، مظہر الاسلام، منٹو اور گارسیا مارکیز ہیں
مجھے اس کتاب کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے گرم گرم پگھلا ہوا لوہا حلق میں انڈیل دیا ہو
یہ کتاب عمومی طور پہ افہام و ابہام پہ مشتمل جملوں پہ مبنی ہے یعنی اس کا سمجھنا اور تسلیم کرنا قاری پہ چھوڑ دیا گیا ہے
یہ آپ پہ ہے کہ آپ اس سے کیا اخذ کرتے ہیں!!
کچھ راتیں آپ اس کتاب کے بارے میں سوچ بھی سکتے ہیں!!

اگر آپ قاری ہیں اور پھر مستقل قاری ہیں
کتابوں میں فکشن کو بھی زیرِ مطالعہ رکھتے ہیں
اور اس سب کے باوجود کچھ ایسا پڑھنا چاہتے ہیں جو اب تک نہیں پڑھا تو اسے خرید لیجیے!

کتاب کے کچھ اقتباسات درج ذیل ہیں جس سے آپ کتاب کا رویہ جان سکیں گے
آخری یعنی چھٹا اقتباس لازمی ملاحظہ فرمائیں!!

1) لکھنا ایک تکلیف دہ عمل ہے لکھ کر آپ دوسروں کو ایذاء پہنچاتے ہیں اور خود آپ کے اندر بھی ایک گہرا زخم اُگ آتا ہے ۔

2) یہ جو دنیا کے بارے میں اتنی من گھڑت کہانیاں سنائی جاتی رہتی ہیں ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں یہاں موجود انسانوں کی بھیڑ، ان کا جمّ غفیر، رشتے، طبقاتی کشمکش، سماجی ناانصافیاں، جنگ و جدل، محبتیں، نفرتیں، دہشت گردیاں، سیاسی اور معاشی بے ہمواریاں اور نہ جانے کیا کیا الّم غلّم ۔۔۔۔۔۔ یہ سب ازل سے ویران کرہ ارض پر کسی دوسرے سیارے کے انسانوں کے دیکھے گئے خواب ہیں یہ اس دنیا میں لٹکتی ہوئی الٹی تصویریں ہیں ہزاروں سال سے اس دنیا کو بہتر بنانے کے لئے بڑی سنجیدگی اور جوش کے ساتھ جو کوششیں جاری ہیں اُن کی حقیقت ہواؤں میں جھولتی تصویروں پر خنجر بازی کے ایک شوقِ رائیگاں کے سوا کچھ بھی نہیں…..

3) دنیا ۔۔۔۔۔ یہ کم بخت دنیا، مایوس کن حد تک ایک خالی جگہ ہے

4) دنیا میں یہی سب ہے ایک خالی ڈبے میں کانچ کی گولیاں گھمانے جیسا، ڈبّے کے اندر کونسی گولی کس سے ٹکرا رہی ہے کیا پتہ!

5) اصلی خواب بھی ایک تنہا جسم چاہتے ہیں خوابوں کو بھی غفلت چاہئے وہ دور نادیدہ خلاؤں سے سوتے ہوئے کسی اکیلے شخص کے لئے آتے ہیں مگر وہ اُس کے تکیے پر کوئی دوسرا سر دیکھ کر واپس مُڑ جاتے ہیں

6) “آؤ ریل سے کٹتے ہیں” میں خود بھی اس امر کا قائل ہوں کہ خودکشی کے لئے ریل کی پٹری پہ آکر کھڑے ہو جانے سے بہتر اور کچھ نہیں، ندی یا کنویں میں چھلانگ لگانا، بلیڈ یا چاقو کا استعمال کرنا گلے میں پھندا ڈالنا یا نیند کی گولیاں کھانا خودکشی کی شان اور اس کی ماہیت کے خلاف باتیں ہیں، بات دراصل یہ ہے کہ خودکشی کو بھی سب کچھ ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے یکھنے سے مسرت ملتی ہے جس طرح خالقِ کائنات کو کائنات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے طمانیت حاصل ہوئی، ایک دن پھر وہ اس کائنات کو پرزے پرزے کرکے ہوا میں بکھیر دے گا، میں خودکشی کے دوسرے تمام طریقوں پہ لعنت بھیجتا ہوں!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *