سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (گیارہویں قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

قسط نمبر 11

ترجمہ شیخ محمد احمد پانی پتی

ہونیاڈے ہنگر کی بطل جلیل اور اپنے زمانہ میں میسیحت کا بہت بڑا ستون تھا لشکروں کی تنظیم کا اسے خاص تجربہ تھا فنون حرب میں اسے زبردست مہارت حاصل تھی اور شاذو نادر کوئی شخص اس فن میں اس کا مقابلہ کر سکتا تھا. وہ ترکوں کا جانی دشمن اور اس کی ساری عمر ان سے لڑتے بھڑتے گزری..

سمندریا کی جنگ کے موقع پر ہنگری کے اسی جرنیل نے اہل سرویا کو عثمانیوں کے پنجوں سے چھڑایا تھا اس نے اتنی بار عثمانیوں کو شکست دی کی سلطان محمد فاتح کے والد مراد ثانی کو مجبورا اس سے دس سال کے لئے معاہدہ کرنا پڑا جسے معاہدہ؛؛ زیجیڑین؛ ؛ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے..

سجسمنڈ کی موت کے بعد جب اس کا شیر خوار بچہ تخت کا وارث ہوا تو ہونیاڈے کے اقتدار میں پہلے سے بھی بڑھ کر آضافہ ہو گیا اور وہ ملک کے سیاہ سفید کا مالک بن گیا. لیکن اقتدار کی مدت بہت مختصر ثابت ہوئی کیونکہ کچھ عرصہ بعد اہل ہنگری نے فلاڈیسلاف کو اپنا بادشاہ بنا لیا. اس نے بادشاہ ہت سنبھالتے ہی ہونیاڈے کی نصیحت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ترکوں سے کیے ہوئے معاہدے کو توڑ ڈالا پوپ کے ایک نمائندے جان کارڈ ینل نے بھی بادشاہ کے اس فعل کی پوری تائید کی اور برسر مجلس کہا کہ جو معاہدہ مسیح کے دشمنوں سے کیا گیا ہو وہ باطل ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں.

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( دسویں قسط)

سلطان مراد ثانی اس وقت تاج و تخت سے کنارہ کر گیا ہوا تھا اور گوشہ نشینی میں زندگی گزار رہا تھا اور تخت پر اس کا بیٹا براجمان تھا جب اسے ہنگری کی عہد شکنی کا علم ہوا تو وہ مجبوراً گوشہ نشینی سے باہر آ گیا اور فوج لے کر ہنگرویرں کے مقابلے کے لئے نکلا.. ورانہ کے مقام پر زبردست لڑائی ہوئی جس میں اہل ہنگری کو شکست فاش ہوئی ان کا بادشاہ قتل ہوا اور اس کے سر کو نیزے پر اٹھا کر میدان جنگ میں پھرایا گیا ہونیاڈے چند ساتھیوں کے ہمراہ بمشکل میدان جنگ سے فرار ہو سکا…

شہنشاہ فلاڈیسلاف میدان جنگ میں قتل ہو چکا تھا اس لیے ہنگری کی مجلس قوی نے عارضی طور پر ہونیاڈے کو سربراہ مملکت مقرر کر دیا یہ عہدہ سنبھالتے ہی اس نے وارانہ کی شکست کا بدلہ اتارنے کی تیاریاں شروع کر دیں اور چار سال بعد 1448ء 852ھ میں کسووا کے مقام پر جہاں قبل ازیں مراد اول سرویا کی طاقت و قوت پر ضرب لگا چکا تھا سلطان مراد ثانی ہنگرویوں کے بالمقابل خیمہ زن تھا..

اس جنگ کا انجام بھی وارنہ کی جنگ سے مختلف نہ ہوا اور ہنگرویوں کو ایک دفعہ پھر ترکوں کے ہاتھوں شکست فاش کھانا پڑی اس کے بعد سلطان مراد ثانی کے زمانے میں اہل ہنگری کو پھر کبھی ترکوں سے مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہوئی یہاں تک کہ سلطان محمد ثانی کا زمانہ آ گیا…

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (نویں قسط)

جنگ کسووا کی شکست کا اثر ہونیاڈے پر داخلی طور پر کچھ نہ پڑا اور تمام ہنگری قوم بد ستور اس کی مطیع و فرمانبردار رہی کیونکہ ان کے خیال کے مطابق ترکوں کے حملے کا جواب صرف ہونیاڈے ہی دے سکتا تھا اور ہنگری کو بچا سکتا تھا اس دوران ہونیاڈے متعدد داخلی اور خارجی گتھیاں سلجھانے میں مشغول رہا…

جن میں اہم ترین معاملہ ہنگری کے آسڑیا اور بوہیمیا سے تعلقات کا مسئلہ تھا سلطان محمد ثانی نے سریر آراۓ سلطنت ہوتے ہی اس سے صلح کرنے کی خواہش کی چونکہ وہ ترکوں کے ہاتھوں زبردست شکست کھا چکا تھا دوسرے آسڑیا اور بوہیمیا سے تعلقات زیر بحث تھے اس لیے اس نے معاہدہ صلح کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی..

جب سلطان فاتح نے قسطنطنیہ فتح کر لیا تو ہنگری کو سخت تشویش پیدا ہوئی اور انھوں نے ترکوں کے متوقع حملے سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنی شروع کیں..

دریں اثناء سرویا کے شاہ برینکو ویچ نے ترکوں مقابلے میں ہنگری سے امداد کی طلب کی اور اسے صلیبی جنگ شروع کرنے پر آمادہ کرنا چاہا لیکن اس وقت ہنگری کو ایسے حلیف میسر نہ تھے جن پر اسے اعتماد ہوتا ہونیاڈۓ کا اقتدار بھی اس وقت معرض خطر میں تھا اور ملک میں اس کے کئی حاسد پیدا ہو چکے تھے عام لوگ بھی اس سے خوش نہ تھے ان حالات میں سلطنت ہنگری کے لیے ممکن نہ تھا کہ دولت عثمانیہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیتی…

مزید پڑھیں: محمد سلطان فتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (آٹھویں قسط)

لیکن ترکوں نے فریق مخالفت کا انتظار کیے بغیر خود ہی ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور سلطان فاتح نے جرار لشکر اور بھاری توپوں کے ساتھ بلغراد کی جانب پیش قدمی شروع کر دی. بلغراد کو اس وقت ہنگری کا دروازہ خیال کیا جاتا تھا اور ہونیاڈۓ نے اس کے دفاع کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کی ہوئی تھی یورپ نے بھی اس موقع پر اس کی پوری مدد کی کیونکہ ہنگری کے سقوط کے یہ معنی تھے کہ پورا یورپ مسیحیوں کے ہاتھوں سے نکل جاتا اسی خطرے کا احساس کرتے ہوئے پاپا روم نے مسیحیوں کو ہنگری کی مدد کرنے پر ابھارا اور ساٹھ ہزار صلیبی پوپ کے پوپ کے نمائندے کا پستر ان کی سر کردگی میں ہنگری کو ترکوں سے بچانے کے لیے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے…

بلغراد کے حالات قسطنطنیہ سے یکسر مختلف تھے اول بلغراد کو بچانے کے لیے پورا عالم مسیحی ترکوں کے بالمقابل کھڑا تھا لیکن قسطنطنیہ کو بچانے کے لیے کسی مسیحی سلطنت نے بزنطینیوں کو مدد نہ دی تھی

دوسرا بلغراد ایسی جگہ واقع تھا جہاں دور دور تک کوئی علاقہ ترکوں کے قبضے میں نہ تھا گردوپیش کی سب ریاستیں ان کی دشمن تھیں اس وجہ سے انھیں سامان خورد نوش حاصل کرنے میں سخت دقت برداشت کرنی پڑ رہی تھی لیکن قسطنطنیہ کے محاصرے کے وقت یہ حالت نہ تھی گردوپیش کے سارے علاقے ترکوں کے قبضے میں تھے اور سامان خوردنوش اور اسلحہ بڑی آسانی سے حاصل کر سکتے تھے

معلوم ہوتا ہے کہ آبناۓ باسفورس اور قسطنطنیہ پر تسلط حاصل کرنے کے نتیجے میں ترکوں میں کچھ غرور بھی پیدا ہو گیا تھا اور وہ اپنے ساتھ بھاری توپیں لے کر آئے تھے جس کے باعث وہ تیزی کے ساتھ نقل و حرکت نہ کر سکتے تھے ان کا بحری بیڑا بھی ہنگری کے بحری بیڑے کے سامنے نا کارہ ثابت ہوا…

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ساتویں قسط)

آغاز جنگ میں تو ترکوں کا پلہ بھاری تھا ان کی توپوں نے شہر کی فیصلوں میں بڑے بڑے شگاف ڈال دیئے تھے اور ینی چری کے بعض دستے بھی شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اس ابتدائی کامیابی کو دیکھ کر ترکوں کو یقین ہو گیا تھا کہ اس بار بھی فتح انہی کی ہو گی.

لیکن قلعہ جرار لشکروں سے بھرا پڑا تھا جن کی قیادت آزمودہ کار جرنیل کر رہے تھے انہوں نے ترکوں پر اس شدت سے حملہ کیا کہ ایک بار آگے بڑھنے کے باوجود انھیں پھر دوبارہ واپس پلٹنا پڑا سلطان نے ان کی ہمت بندھانے کی بھر پور کوشش کی تھی وہ خود تلوار ہاتھ میں لے کر دشمنوں کی صفوں میں گھس گیا اور کئی بڑے بڑے صلیبی سرداروں کو مار گرایا لیکن صلیبوں کا حملہ اتنا شدید تھا کہ ینی چری بھی اس کی تاب نہ لا سکی اور اس کے بے شمار آدمی شہید ہو گئے عثمانی لشکر درہم برہم ہو گیا اور سلطان کو مجبور واپسی کا حکم دینا پڑا….

یہ شکست سلطان اور اس کی فوج کے لیے سخت خطرے کا موجب ہو سکتی تھی کیونکہ اس وقت وہ چاروں طرف دشمنوں میں گھرا ہوا تھا لیکن قسمت اس کا ساتھ دے رہی تھی قسمت اور اپنے دماغ سے کام لیتے ہوئے سلطان اپنی فوج کو دشمن کے گھیرے سے باہر لے آیا۔ جنگ کے بیس روز بعد ہی ہونیاڈۓ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا

ہونیاڈۓ کے مرنے سے ہنگری کو نہ قابل تلافی نقصان پہنچا اور مسیحیوں کی تمام آرزوؤں خاک میں مل گئ ان کی نظر میں ہونیاڈۓ ہی ترکوں کا مقابلہ بہت اچھی طرح کرتا تھا اور وہ ہنگری اور جرمنی کے لیے ایک ڈھال کا کام دے رہا تھا اس کے مرنے سے وہ بالکل بے یارو مددگار ہو گیۓ

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قسط نمبر 6)

ہونیاڈۓ کو ابھی انتقال ہوۓ کچھ دن ہی ہوۓ تھے کہ پستران بھی جسے پوپ نے ساٹھ ہزار صلیبوں کے ہمراہ ہنگری کی مدد کے لئے بھیجا تھا مر گیا اور ہنگری والوں کا آخری سہارا بھی جاتا رہا۔ انہی وجہ کی بنا پر بلغراد کی شکست سے یورپ میں عثمانیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا اگرچہ بلغراد کافی لمبے عرصے تک ان کے قبضہ میں نہ آ سکا لیکن انھوں نے بلقان میں بوسینا ہرزیگووینا سرویا اور البانیا کے باقی ماندہ حصوں پر اپنا اثر و نفوذ کر لیا…

ہونیاڈۓ کا انتقال اہل ہنگری کے لیے ایک قومی صدمہ تھا اعیان مملکت کی نظروں میں ایسا آدمی نہ تھا کہ جو اس کا صحیح قائم مقام بن سکتا تھا اس لیے انھوں نے مجبوراً شاہی خاندان کے ایک نا تجربہ کار شخص کو جو امور ملکی سے قطعاً نا واقف تھا تخت پر بیٹھا دیا

اس شخص نے ہونیاڈۓ کی خدمات کا اعتراف کرنے کی بجائے اس کے بیٹے کو قتل کر وا دیا تاہم یہ بادشاہ زیادہ عرصہ حکومت نہ کر سکا اور مر گیا 1458ء 863ھ میں اس کی وفات ہوئی اس کے بعد اس کا بیٹا ماتیاس کو ہنگری کے تخت پر بیٹھا دیا گیا اگرچہ یہ شخص بہت بہادر تھا اور اس میں قیادت کی صلاحیتیں بھی موجود تھی تاہم ترکی خطرے کی طرف سے اس کی آنکھیں بند تھی۔ اس نے اپنے زمانے حکومت میں زیادہ توجہ داخلی امور اور اندرونی بغاوتوں کو فرو کی طرف مبذول رکھی

اس کے زمانہ میں شاہ فرانس نے ترکوں کے مقابلے میں مسیحی سلطنتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے اس اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ اسے یقین تھا کہ جنگ کی صورت میں ہنگری بالکل تباہ ہو جائے گا..

اس کی عافیت کوشی کی یہ پالیسی کامیاب ہوئی اور جنوبی ہنگری میں چھوٹی چھوٹی چھڑپوں کے سوا ترکوں کے ساتھ اسے کوئی بڑی لڑائی نہ لڑنی پڑی اور ہنگری کی فتح سلطان سلیمان اعظم قانونی کے عہد تک موخر ہو گئی جس نے 28 اگست 1526ء 20 ذی الحج 932ھ کو موہاکز کے میدان میں ہنگری فوجوں کو شکست دے کر سلطنت ہنگری کا خاتمہ کر دیا……

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (پانچویں قسط)

• فتح بوسینا

بوسینا کی فتح سرویا کی فتح کے 4 سال بعد 1463ء 868ھ میں وقوع میں آئی دیگر ریاستوں کی طرح یہاں بھی جنگ اقتدار بر پا تھی اور آۓ دن کی بغاوتوں اور شورشوں کے باعث ملک کا امن و امان غارت ہو چکا تھا تاہم داخلی پریشانیوں کے باوجود بوسنیا کے لیے ترکی خطرے کی طرف سے جو عین اس کے سر پر منڈلا رہا تھا آنکھیں بند کر لینا ممکن نہ تھا اس کے دن رات اسی ادھیڑ بن میں گزرتے تھے کہ ترکوں سے کیسے نجات حاصل کرے جو اس کی سرحدوں تک پہنچ چکے تھے اور آۓ دن حملے کر کے اسے خراج کی ادائیگی کے لیے مجبور کرتے رہتے تھے اور کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر شاہ بوسینا پوپ کے پاس پہنچا اور اسے ترکی خطرے کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ ترکوں کا مقصد محض بوسینا پر قبضہ کرنا نہیں ہے بلکے وہ چاہتے ہیں کہ بوسینا کی تسخیر کے بعد وہ ہنگری اور وینس کی طرف بڑھیں اور اس کے بعد اٹلی کا رخ کریں اور روم فتح کر کے پوری مسیحی دنیا پر اپنا اقتدار قائم کر لیں..

اس نے یہ بھی بتایا کہ مسیحیوں کے برعکس ترک کسی ملک کو فتح کرنے کے بعد وہاں کے باشندوں سے بہت اچھا سلوک کرتے ہیں تا کہ اس طرح ان کے دل مسخر کر کے انھیں اپنی کامل اطاعت پر آمادہ کر سکیں. اس کے علاوہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کاشت کاروں کو یقین دلاتے ہیں فتح کے بعد انھیں جاگیرداروں کے ظلم و ستم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات دلا دی جائے گی اسی وجہ سے عامتہ الناس ترکی کی حکومت کو اپنے لیے رحمت خیال کرتے ہیں.

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (چوتھی قسط)

پاپاۓ روم کو پہلے ہی ترکی خطرے کا پورا احساس تھا اس نے شاہ بوسینا کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور شاہ بوسینا مطمئن ہو کر واپس آ گیا..جب سلطان محمد فاتح کو معلوم ہوا کہ شاہ بوسینا پوپ سے امداد کا خواہاں ہے اور اس سے قبل اس نے سلطنت عثمانیہ سے صلح کے جو معاہدے کیے ہوئے تھے انھیں فسخ کرنے پر تلا ہوا ہے تو اس نے اپنے ایلچی بھیج کر اس سے اخراج کا مطالبہ کیا شاہ بوسینا نے اس زعم میں کہ پوپ نے اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور بہت جلد مسیحی لشکر جرار اس کی امداد کے لئے بوسینا پہنچ جائیں گے سلطان کے ایلچیوں سے نہایت حقارت آمیز سلوک کیا اور انھیں خراج ادا کرنے سے صاف انکار کر دیا……

سلطان کو یہ برداشت کہاں تھی کہ کوئی ریاست سلطنت عثمانیہ سے کیے ہوئے معاہدوں کو یوں پاۓ حقارت سے ٹھکرا دے اس نے بوسینا پر حملہ کرنے کا فوری ارادہ کر لیا اور اس کی تیاری کرنے لگا….

جب شاہ بوسینا کو یہ خبر ملی تو اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور اس نے خراج ادا کرنے کا اقرار کر کے پندرہ ماہ کے لیے صلح کی پیش کش کی.. سلطان نے بظاہر تو یہ پیش کش قبول کر لی لیکن دل میں اس نے یہ ریاست فتح کرنے کا پکا ارادہ کر لیا چنانچہ بوسینا کے ایلچیوں کی روانگی کے چار دن بعد اس نے لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا اور بڑی تیزی سے سفر کرتا ہوا دارالحکومت کی فصیل کے سامنے پہنچ گیا…

یہ حملہ اتنا اچانک تھا کہ بوسینا کی فوجوں کو مقابلہ کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور عثمانی فوجیں بغیر کسی مزاحمت کے شہر میں داخل ہو گئیں.. شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سلطان نے وہاں کے حاکم کو پہاڑی سے نیچے گرا کر مار ڈالنے کا حکم دیا چنانچہ اس حکم کی فوراً تعمیل کی گئی اور وہ پہاڑی آج تک اسی حاکم (راڈک) کے نام سے موسوم ہے…

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

اس اچانک حملےسے شاہ بوسینا اس قدر سراسیمہ ہوا کہ اسے کامل اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ نظر نہ آیا فتح کے بعد سلطان نے اس کے اور اس کے بیٹوں کے لیے سزائے موت کا حکم سنایا پہلے تو اس کی درخواست پر امان دے دی گئی تھی لیکن مفتی سلطنت نے رسول اللہ صلہ اللہ علیہ والہ سلام کی حدیث مبارک مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا سے استدلال کرتے ہوئے عہد شکنی کی پاداش میں اس کی گردن اڑانے کا حکم دے دیا لہذا امان مسترد کر دی گئی..

یہاں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد سلطان زیگوینا کی جانب متوجہ ہوا اس زمانے میں تمام بلقانی ریاستوں میں جنگ اقتدار جاری تھی اور تخت و تاج پر قبضہ کرنے کی خاطر سخت تنازعات برپا تھے زیگوینا بھی ان جھگڑوں سے پاک نہ تھا اور داخلی کش مکش کی وجہ سے ان کی طاقت بہت کمزور ہو گئی تھی لہذا اسے مجبوراً خراج کی ادائیگی کا اقرار کر کے صلح کا معاہدہ کرنا پڑا سلطان محمد فاتح کے بیٹے سلطان بایزید ثانی کے عہد میں اسے مکمل طور پر فتح کر کے سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا تھا…

بوسینا کی فتح کو اس لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے کہ دیگر بلقانی ریاستوں کے بر عکس یہاں کے سربراہان اور لوگوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا جس پر حکومت نے انھیں؛؛ بک؛؛ کا خطاب دے کر انھیں ان کے علاقوں کا حاکم مقرر کر دیا…

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)
• فتح البانیا

بوسینا کے بعد البانیا کی باری آئی البانوی بلقان کی قدیم ترین قوم ہے اور اسے مختلف ادوار ہیں مختلف قوموں کی غلامی اختیار کرنی پڑی ہے چودھویں صدی عیسوی میں سرویا نے اس پر اپنا تسلط قائم کر لیا لیکن سروی شہنشاہ کے زوال پر جب سرویا کا اقتدار ختم ہوا تو یہاں کے لوگ مختلف قبائل میں بٹ گئے اور کسی منظم حکومت کے قیام کی طرف توجہ نہ دی یہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے رسوم و رواج کے پابند تھے اور کسی دوسرے قبیلے کی قیادت قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے…

پندرھویں صدی کے اوائل میں الباینا پر قبضہ کرنے کے لیے بیک وقت دو طاقتوں نے جدوجہد شروع کی ان طاقتوں پہلی طاقت جمہوریہ وینس بحرہ ایڈریا ٹک کے علاقے میں توسیع مملکت کی خواہاں تھی اور ترک بلقان میں اپنے قدم جمانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ جمہوریہ وینس نے آہستہ آہستہ ساحلی علاقوں پر اپنا قبضہ جما لیا اور اس طرح بحیرہ ایڈریا ٹک پر مکمل طور پر اپنا اقتدار قائم کر لیا….

جمہوریہ وینس جو دراصل ایک بحری سلطنت تھی البانیا کے اندرونی علاقوں پر قبضہ جمانے کی خواہاں نہ تھی کیونکہ خشک اور ویران پہاڑوں اور بے آب و گیارہ میدانوں کے سوا وہاں اور کچھ نہ تھا دوسرے وہاں کے باشندے بھی جنگجو واقع ہونے تھے اور ان سے عہد بر آ ہونا بڑا مشکل کام تھا لہذا وینس نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کی بجائے وہاں کے قبائل کو ترکوں کے خلاف بھڑکانا اور ان سے مقابلے کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا تا کہ ترکوں کا سیلاب ان کی طرف رخ کر کے ان کو تباہ بر باد نہ کر دیں…

مزید پڑھیں: تعلقات بحالی کے لئے اسرائیلی شرائط نے ترکی کو چکرا دیا

اگرچہ یہ سیاست وقتی طور پر سود مند ثابت ہوئی لیکن اس کا انجام نا کامی کی صورت میں ظاہر ہوا کیونکہ وہاں کے باشندوں کی بہادری اور راستوں کی دشوار گزاری کے باوجود ترکوں کے سیلاب کو طویل مدت کے لئے روکنے رکھنا ممکن نہیں تھا…

الباینا پر ترکوں کے حملوں کا آغاز پندرھویں صدی کے اوائل میں ہوا جس کے نتیجے میں وہاں کے؛ یک قیبلے کے سردار جان کاسٹر نے اطاعت قبول کر کے اپنے چار لڑکے بطور ضمانت سلطان ترکی مراد ثانی کی خدمت میں بھیج دیے ان میں تین تو بچپن میں ہی انتقال کر گئے چوتھا لڑکا جارج کاسٹریو جو بہت ہونہار اور عقلمند تھا زندہ رہا مراد ثانی نے اس کی لیاقت سے متاثر ہو کر اسے دینی اور فوجی تعلیم دلوائی اور اٹھارہ سال کی عمر میں ایک صوبے کا حاکم بنا کر اسکندربک کے لقب سے سرفراز کیا….

اسکندربک نے میدان جنگ میں بھی اپنی لیاقت اور شجاعت کا ثبوت دیا اور عثمانی لشکر میں شامل ہو کر سرویا اور وینس کے خلاف متعدد کارنامے سر انجام دیے اسی اثناء میں اس کے والد جان کاسٹر کا انتقال ہو گیا اور مراد ثانی نے اس کی ریاست سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لی یہ ن؛ ت اسکندربک کو بہت نا گوار گذری 1443ء 847 ھ میں جب ہونیاڈے کے مقابلے میں عثمانیوں کو شکست ہوئی تو اسکندربک موقع پا کر ایک البانوی قلعے میں بھاگ گیا اور دوبارہ مسیحت اختیار کر کے ترکوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا….

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

اسکندربک ہونیاڈے کی طرح ترکوں کا بد ترین دشمن تھا حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ہر لحاظ سے ہونیاڈے کا ہم پلہ تھا جس طرح ہونیاڈے میں اعلیٰ درجے کی جنگی قابلیت پائی جاتی تھی اسی طرح اسکندربک میں بھی پائی جاتی تھی جس طرح ہونیاڈے کو جنگ کا ڈھنگ آتا تھا اسی طرح اسکندربک کو بھی آتا تھا جس طرح ہونیاڈے کو قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے اسی طرح اسکندربک کو بھی حاصل ہے جس طرح ہونیاڈے نے ہنگری سرداروں کو اپنے گرد جمع کر کے ترکوں َسے نبرد آزمائی کی تھی اسی طرح اسکندربک نے البانوی سرداروں کو اپنے گرد جمع کر کے علم بغاوت بلند کیا حکومت وینس نے بھی ترکوں کے مقابلے میں اس کا ساتھ دیا…

اسکندربک نے مسلسل 25 سال تک ترکوں کا مقابلہ کیا اور انھیں الباینا پر مکمل تسلط حاصل کرنے سے باز رکھا اس دوران میں سلطان محمد فاتح نے اسکندربک کے مقابلے میں البانوی سرداروں کے باہمی تنازعات سے فائدہ اٹھانا چاہا لیکن اسکندربک نے اپنی ان تھک جدوجہد سے البانوی قوم کو اس کے خلاف متحد کر دیا اس کوشش کا کوئی خاص نتیچہ نہ نکلا اور اسکندربک کو مجبوراً سلطان سے صلح کرنی پڑی لیکن اسی اثناء میں پاپاۓ روم نے اسے مدد دینے کا وعدہ کیا جس پر اس نے معاہدہ صلح فسخ کر دیا اور دوبارہ ترکوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا…

مزید پڑھیں: صاحبزادہ سلطان ایک بار پھر جیپ ریلی جیت گئے

1468ء 873ھ میں اس نے امداد حاصل کرنے کے لیے پوپ کے پاس روم جانے کا قصد کیا لیکن ابھی یہ ارادہ تکمیل نہ ہوا تھا کہ اس کو موت نے دبوچ کیا۔ اسکندربک کی موت کے بعد ترکوں کے لیے الباینا پر قبضہ کرنا دشوار نہ رہا….

اسکندربک کی بدولت ترکوں کو الباینا کی فتح بہت مہنگی پڑی اگر البانیا کی فتح میں دشواری نہ آتی تو ترک بآسانی اٹلی پر حملہ کر کے مسیحیت کے مرکز کو اپنے قبضے میں لے سکتے تھے۔ لیکن اسکندربک نے اپنی زبردست جدوجہد کے باعث ان کے منصوبوں کو پورا نہ ہونے دیا اور ایک لمبے عرصے تک ان کے راستے میں سنگ گراں بنا رہا..

اسکندربک کی وفات بعد سلطان محمد فاتح نے تمام البانیا کو بآسانی مسخر کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا جمہوریہ وینس کی فوجوں کو بھی اس نے ملک سے باہر کر دیا اور اس الباینا کے ساحلی علاقے بھی جن پر اس سے پہلے وینس نے قبضہ جما رکھا تھا سلطان محمد فاتح کے قبضے میں ا گیۓ…..

مزید پڑھیں: سلطان راہی کی 25 ویں برسی

ایشیا اور یورپ میں بعض مزید فتوحات

• سینوپ اور طرابزون کی فتح

ایشاۓ کوچک میں سینوپ اور طرابزون پر ابھی تک دولت عثمانیہ کا قبضہ نہ ہوا تھا سلطان محمد فاتح نے پہلے سینوپ پر حملہ کیا اور بڑی آسانی سے اسے فتح کر لیا اس کے بعد وہ طرابزون کی طرف متوجہ ہوا طرابزون کا شہر اور ملحقہ علاقے قدیم بازنطینی سلطنت کا جزو تھے سلطان محمد فاتح کے زمانے میں وہاں کا حاکم اوزون حسن نامی ایک شخص تھا جس کے قبضے میں آرمینیا عراق اور فارس کے بھی بعض علاقے شامل تھے جب اسے عثمانی لشکر جرار کی آمد کا علم ہوا تو بہت گھبرایا اور شہر والوں کو ان کی قسمت پر چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر لی…

سلطان محمد فاتح نے بری اور بحری دونوں جانب سے اس کا محاصرہ کر لیا اور معمولی جدوجہد کے بعد 1461ء 845ھ میں اسے فتح کر لیا طرابزون کی فتح کے ساتھ ہی ایشاۓ کوچک میں یونانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور اناطولیہ کا علاقہ ترکی کا حصہ بن گیا جس پر پہلی جنگ عظیم کے بعد ایک مختصر سے وقفے کے سوا پھر کبھی یونان کو تسلط جمانے کا موقع نہ ملا….

مزید پڑھیں: ٹیپو سلطان تھانے کی حدود میں جرائم بڑھ گئے

• کریمیا کی فتح

طرابزون کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے دولت عثمانیہ کے مشہور سپہ سالار صدر اعظم احمد کدک پاشا کو کریمیا کی فتح کے لیے روانہ کیا جس نے یہ مہم بڑی آسانی سے سر انجام دی اس طرح دولت عثمانیہ کو بحیرۂ مارمورا اور بحیرۂ ایحبین کے علاوہ بحیرۂ سود پر بھی مکمل اقتدار حاصل ہو گیا….

• کرمانیہ کی فتح

کرمانیہ اور دولت عثمانیہ کی عداوت کافی لمبے عرصے سے چلی آ رہی تھی سلطان محمد فاتح کی تخت نشینی کے بعد کرمانیہ کے امیر ابراہیم نے خراج ادا کرنے کا معاہدہ کر کے سلطان محمد فاتح سے صلح کر لی تھی 1463ء 768ھ میں ابراہیم کا انتقال ہو گیا اس نے اپنے پیچھے 7 لڑکے چھوڑے جنھوں نے تخت پر قبضہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے جنگ و جدل شروع کر دیا 876ھ میں سلطان محمد فاتح نے ان سب کو تاج و تخت سے محروم کر کے کرمانیہ پر خود قبضہ کر لیا اس طرح یہ ریاست بھی سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو گئی اور وہاں کا قدیم سلجوقی نظام ختم ہو گیا…

تا ہم دولت عثمانیہ کی مشرقی حدود ابھی تک غیر محفوظ تھیں کیونکہ اول تو تاتاری سرحدوں پر وقتاً فوقتاً چھاپے مارتے رہتے تھے دوسرے اوزون حسن نے جو طرابزون کے ہاتھ ہاتھ سے نکل جانے پر پیچ و تاب کھا رہا تھا سخت معاندانہ رویہ اختیار کر کے سرحدی شہروں پر غارت گری شروع کر دی اور کئی بستیوں کو جلا کر خاکستر کر ڈالا اس نے کرمانیہ پر بھی حملہ کیا جہاں اس وقت سلطان محمد کا بیٹا مصطفےٰ حکمران تھا…

مصطفےٰ نے حسن کی فوجوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور لشکر کے سپہ سالار کو گرفتار کر کے اپنے باپ کے پاس روانہ کر دیا اس کے علاوہ چند اور لڑائیاں بھی ہوئیں جن میں فتح ترکوں کو حاصل ہوئی یی دیکھ کر اوزون حسن کو خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں عثمانی فوجیں اس کے علاقوں کا رخ نہ کریں اس خطرے کے پیش نظر اس نے روڈوس اور وینس کی حکومتوں سے امداد طلب کی وینس نے اس کے حسب طلب امداد بھی روانہ کر دی جس پر اس نے عثمانی سرحدوں پر پھر حملے شروع کر دیے لیکن ترکی فوجوں کے آگے اس کی کچھ پیش رفت نہ چلی اور اسے میدان جنگ چھوڑ سے جان بچا کر بھاگنا پڑا اس طرح مشرقی حدود پر کسی حد تک امن و امان کی صورت پیدا ہو گئی…

مزید پڑھیں: ⭕ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ، ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ….

• جنیوا وینس اور اٹلی کے ساتھ معرکہ آرائیاں

یورپ میں فتوحات حاصل کرنے اور بازنطینی سلطنت کے مقبوضات پر تسلط حاصل کرنے کے بعد سلطنت عثمانیہ اور اس کے ہمسایہ سلطنتوں جینوا اور وینس کے باہمی تعلقات پر گہرا اثر پڑنا لازمی تھا..

قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران میں سلطان محمد فاتح نے ان دونوں سلطنتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھے چنانچہ اس نے غلطہ پر بھی جو قسطنطنیہ سے متصل جینوا کی آبادی تھی حملہ نہ کیا لیکن فتح کے بعد اس نے جینوا کو حکم دیا کہ وہ غلطہ کے قلعہ اور اس کی فیصلوں کو منہدم کر دیں اور دولت عثمانیہ کو با قاعدہ خراج ادا کریں اس طرح اس کے اور جینوا کے تعلقات خراب ہو گیے…

آخیر اب تعلقات کے باعث سلطان محمد نے بحیرہ اسود میں جینوا کے مقبوضات پر حملہ کرنے کا پروگرام بنایا چنانچہ اس نے صدر اعظم کدک پاشا کو ایک بھاری جنگی بیڑے اور چالیس ہزار فوج کے ساتھ کریمیا روانہ کیا جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے جہاں کا فاکا شہر جینوا کے قبضے میں تھا…..

کافا کا شہر اپنی دولت اور استحکام کے لحاظ سے قسطنطنیہ کوچک کہلاتا تھا لیکن وہ سلطان محمد فاتح کی عظیم الشان فوج کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکا اور چار دن محاصرے کے بعد ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد چالیس ہزار باشندے قسطنطنیہ کو منتقل کر دے گئے اور 1400 سو جنیوی نوجوان ینی چری میں داخل کیے گئے.. کافا پر قبضہ کرنے کے بعد ترکوں نے بڑی سرعت سے باقی کریمیا پر بھی قبضہ کر لیا اور پورا جزیرہ نما ان کے زیر تسلط آ گیا اس کے بعد 3 سو سال کریمیا کے خان دولت عثمانیہ کے محکوم رہے…

مزید پڑھیں: مقام ابراہیمؑ

جنیوا کی طرح اہل وینس سے بھی سلطان محمد کے تعلقات اچھے نہ تھے یونانی ساحلوں پر اور بحیرۂ ایچین میں کئی بار وینس کی فوجوں کا عثمانی فوجوں کے ساتھ تصادم ہوا جس کے نتیجے میں عثمانیوں نے یونانی مجمع الجزائر کے بہت سے جزیروں پر جو وینس اور جنیوا کے زیر حکومت تھے حملہ کر کے انہیں فتح کر لیا ان میں یوبیا لسبوس لمنوس اور سفالوینا خاص طور پر قابل ذکر ہے ان کے علاوہ جمہوریہ وینس کے اور بھی کئی مقبوضات جو موریا کے ساحل پر واقع تھے سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو گئے تھے…

البانیا بوسینا اور پائرس کی فتح کے بعد جمہوریہ وینس کے وہ تمام مقبوضات دولت عثمانیہ کے قبضے میں آ گئے تھے جو بحیرۂ ایڈریا ٹک کے مشرقی ساحل پر واقع تھے دولت عثمانیہ اور جمہوریہ وینس میں پہلے ہی تعلقات کشیدہ تھے اب تو ان دونوں حکومتوں کی جنگ لازمی تھی چنانچہ 768ھ میں جنگ شروع ہوئی اور سولہ سال تک جاری رہی جس میں وینس کے ساحلی مقبوضات یکے بعد دیگرے ترکوں کے قبضے میں آتے گئے 884 ھ میں ایک زبردست ترکی فوج فریولی کے علاقے میں داخل ہوئی جو بحیرۂ ایڈریا ٹک کی شمالی حد پر واقع تھا اس پر تسلط قائم کرنے کے بعد وینس کی طرف بڑھی اس فوج کا سپہ سالار عمر پاشا تھا وینس نے مزاحمت کے لیے فوج روانہ کی لیکن عمر پاشا اسے شکست دیتا ہوا آگے بڑھ گیا اور دریائے پیاوے کے ساحل تک کے تمام زرخیز علاقوں پر قابض ہو گیا

کچھ ہی عرصہ بعد ترکی کی فوجیں وینس کے شہر کے سامنے خیمہ زن تھیں اہل شہر کی گھبراہٹ کی انتہا تھی کیونکہ ان وحشت خیز خبروں کے علاوہ جو ترکی فوج کی پیش قدمی کے متعلق روز بروز مل رہی تھیں وہ اپنی آنکھوں سے شہر کی نواحی بستیوں کو نذر آتش ہوتے دیکھ رہے تھے لہذا اب وینس کے لیے صلح کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا جس میں خراج کی ادائیگی کے اقرار کے ساتھ یہ امر بھی مرکوز تھا کہ اگر دولت عثمانیہ پر کسی اور سلطنت نے حملہ کیا تو جمہوریہ وینس سو جہازوں کا بیڑا دولت عثمانیہ کی مدد کے لیے بھیجے گا اور اگر کوئی طاقت جمہوریہ وینس پر حملہ آور ہوتی ہے تو دولت عثمانیہ ایک لاکھ فوج کے ساتھ اس کی مدد کرے گا اس کے بعد عثمانی فوج واپس آ گئی……

مزید پڑھیں: پاکستان بموابلہ اسرائیل کا آغاز

• جزیرہ روڈس پر حملہ

سلطان کی دیرینہ حواہش تھی کہ جس طرح بھی ہو مسیحت کے سب سے بڑے مرکز اٹلی پر قبضہ کیا جائے جنگ ہاے بلقان کی مصروفیات اور اسکندریہ بک کی شدید مزاحمتوں کے باعث کافی عرصے تک سلطان محمد فاتح کا یہ ارادہ شرمندہ تکمیل نہ ہو سکا ان دونوں کی وفات کے بعد سلطان کو اپنی خواہش پوری ہوتی نظر آئی چنانچہ اس نے اس غرض کے لیے زبردست تیاریاں شروع کر دیں بحری حملے کی راہ میں روڈس کا حائل تھا اس لیے سلطان نے پہلے اسے فتح کرنا ضروری سمجھا تا کہ وہ عثمانی جہازوں کی راہ کا کانٹا نہ بنے اس جزیرے پر ڈیڑھ سو برس سے یروشلم کے مبارزین سینٹ جان کی حکومت تھی جنھوں نے یہاں کافی طاقت فراہم کر لی تھی اور اسی طاقت کے بل بوتے پر وہ بآسانی وقتاً فوقتاً عثمانی جہازوں پر چھاپے مارا کرتے تھے….

سلطان نے اپریل 1480ء صفر 885ھ میں اپنے ایک جرنیل مسیح پاشا کو (جو بازنطینی شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور فتح قسطنطنیہ کے بعد اسلام لا کر اس کا جان نثار خادم بن گیا تھا) ایک سو ساٹھ جنگی جہازوں کا بیڑا دے کر جزیرے پر حملہ کرنے کے لئے روانہ کیا ان جہازوں پر قریباً ایک لاکھ فوج سوار تھی مسیح پاشا نے جزیرے پر اتر کر متعدد مقامات فتح کیے اور پھر شہر خاص روڈس کا محاصرہ کر لیا مسیحی مدافعت کے لیے پوری طرح تیار تھے لہذا محاصرہ طول پکڑ گیا بالآخر 18 ربیع الثانی 885ھ کو ترکوں نے ایک عام حملہ کیا جو اتنا شدید تھا کہ مسیحی باوجود شدید مزاحمت کے اسے روک نہ سکے اور بعض ترکوں نے فصیل پر چڑھ کر عثمانی حکم بھی گاڈ دیا لیکن عین اس وقت جب وہ شہر میں داخل ہوا چاہتے تھے مسیح پاشا کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ تمام مال غنیمت سلطان کے حق میں محفوظ سمجھا جائے گا

اس اعلان سے سپاہیوں میں سخت برہمی پیدا ہو گئی اور جو ابھی باہر تھے انھوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے جو پہلے پہنچ چکے تھے اندد جانے سے انکار کر دیا مسیحیوں نے عثمانی فوج کی حالت دیکھ کر اپنی پوری طاقت کے ساتھ جان توڑ حملہ کیا اور ان ترکوں کو جو شہر میں داخل ہو گئے تھے شکست دے کر باہر نکال دیا مسیح پاشا کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب اس کی تلافی ممکن نہ رہی اسے مجبور ہو کر محاصرہ آٹھانا پڑا اور روڈس کی فتح نصف صدی کے لیے ملتوی ہو گئی…….

مزید پڑھیں: کیا ترکی و سعودی تعلقات بحال ہو سکیں گے ؟

• ٹورنٹو کی فتح

لیکن عین اس روز جب مسیح پاشا کوروڈس میں ہزیمت آٹھانی پڑی تھی فاتح کریمیا احمد کدک پاشا نے سر زمین اٹلی پر قدم رکھا جہاں اس وقت تک کوئی عثمانی سپاہی نہ پہنچا تھا اٹلی کی فتح کے لیے ٹورنٹو پر قبضہ کرنا ضروری تھا کیونکہ یہ شہر اپنے موقع کے لحاظ سے گویا اٹلی کا دروازہ تھا احمد پاشا نے خشکی اور سمندر دونوں جانب سے اس پر حملہ کیا اہل شہر نے مدافعت میں بڑی سر گرمی دکھائی لیکن وہ صرف چند روز مقابلہ کر سکے اور 4 جادی الثانی 885ھ کو عثمانی فوج فاتحانہ ٹورنٹو میں داخل ہو گئی…..

سلطان کی وفات

ٹورنٹو جیسے مضبوط شہر اور بندر گاہ پر قابض ہونے کے بعد سلطان محمد فاتح کے لیے اٹلی کی فتح کا دروازہ کھل گیا تھا دوسرے سال سلطان محمد فاتح کسی جدید مہم کے لیے فوجیں اکھٹی کر رہا تھا اور خیال تھا کہ ٹورنٹو کے بعد غالباً روم پر حملہ ہونے والا ہے..

لیکن اچانک 3 مئ 1481ء 4 ربیع الثانی کو اکاون (51) برس کی عمر لکبوزہ کے مقام پر سلطان محمد فاتح کا انتقال ہو گیا اور یورپ کی جان میں جان آئی۔ سلطان محمد فاتح کو اس مشہور مسجد میں دفن کیا گیا جو اس نے قسطنطنیہ میں خود تعمیر کروائی تھی۔ سلطان محمد فاتح نے اپنے پیچھے دو بیٹے چھوڑے ایک کا نام بایزید تھا اور دوسرے کا نام جمشید تھا دونوں بھائیوں میں تخت کے لئے اختلاف برپا ہوا جس میں بایزید کامیاب ہوا…..

مزید پڑھیں: ترکی کا عالمِ دین انمول مثال بن گیا

عہد حکومت و نظم مملکت

سلطان محمد فاتح نے اپنے عہد حکومت میں دولت عثمانیہ کو پندرہویں صدی کی سب سے زیادہ طاقتور سلطنت بنا دیا تھا جو دریائے فرات کے بالائی حصے سے لے کر بحیرۂ ایڈریا ٹک تک اور بحیرہ روم سے لے کر دریائے ڈینیوب اور کریمیا تک پھیلی ہوئی تھی ایشاے کوچک اور بلقان میں جو طاقتیں ترکوں کے خلاف سر گرم عمل تھیں اس نے انہیں اس بری طرح شکست دی کہ ان میں دوبارہ اٹھنے کی ہمت نہ رہی قسطنطنیہ فتح کر کے مسلمانوں کی ہشت صد سالہ دیرینہ تمنا پوری کر دی اور اس طرح اس کے جانشینوں کے لیے شام مصر عراق ہنگری اور وسط یورپ میں مزید فتوحات کا راستہ کھل گیا..

سلطان محمد فاتح جہاں ایک فتح نصیب جرنیل تھا وہاں اس میں تنظمیی صلاحیتیں بھی بدرجہ تمام پائی جاتی تھیں علم و ادب سے اسے فطری لگاؤ تھا اور شعر و شاعری کا بھی دلدارہ تھا

سلطان محمد فاتح پہلا شخص ہے جس نے دولت عثمانیہ کے نظم و نسق کو نئے سانچوں میں ڈھالا اور تمام ممکنہ وسائل سے کام لینے کے ساتھ اس نے گرد بیش کی تمام تہزیبوں سے بھی کما حقہ استفادہ کیا اس کے زمانے میں ایشیاء اور یورپ کے متعدد علاقے دولت عثمانیہ میں شامل ہو چکے تھے جن کے رسوم و رواج تہزیب و ثقافت اور مذہب و عقائد ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے اور ایک اچھے حکمران کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر ایک ایسے نئے نظام کی تشکیل دے جو تمام سابقہ نظام ہاے حکومت کی خصوصیات کو اپنے اندر سمو سکے..

مزید پڑھیں: ترکی میں سوشل میڈیا پر کنٹرول بڑھانے کے قوانین نافذ

سلطان محمد فاتح نے سلطنت کے داخلی نظام کی اصلاح اور مملکت میں امن و امان اور سکون و اطمینان کی فضا پیدا کرنے کی طرف خاص طور سے توجہ کی اس کی وسیع و عریض سلطنت میں مختلف قومیں آباد تھیں مسلمانوں کے علاوہ یہاں یونانی بھی آباد تھے اور ہنگری بھی بلغاروی بھی بستے تھے اور البانوی بھی کیتھولک بھی پائے جاتے تھے اور یونائی کلیسا کے پیرو کار بھی عثمانی دور حکومت سے پہلے یہ تمام عناصر اتحاد و اتفاق کے نام سے نا آشنا تھے اور ان کی باہمی چپلقش کے باعث ملک میں سخت انتشار برپا رہتا تھا امن و امان مفقود تھا اور سکون و اطمینان کی فضا کہیں بھی نہ پائی جاتی تھی.

اس لیے ضروری تھا کہ ایک ایسا نظام کیا جائے جو بد نظمی اور بے اطمینانی کو دور کر کے امن اور چین کی فضا پیدا کر دے اور باشندگان مملکت ضمیر اور مذہب کی آزادی سے بہرہ ور ہو سکیں جو اس سے قبل باکل نہ تھا اس کے علاوہ ایک ایسے ضابطے کی ضرورت تھی جس کی بنا پر مسلمانوں اور غیر مسلموں اور حکومت اور رعایا کے باہمی تعلقات کی نوعیت متعین کی جا سکے..

استحکام مملکت کی تدابیر

سلطان محمد ثانی نے سریر آراۓ سلطنت ہوتے ہی سب سے پہلے تاج و تخت کے استحکام کی طرف توجہ مبذول کی کیونکہ اس نے تاریخ سے یہ سبق حاصل کیا تھا کہ سلطنت کا استحکام سلطان کی ذات سے وابستہ ہے وہ جانتا تھا کہ سلطنت کے متعدد دعویداروں کی موجودگی میں خانہ جنگی نا گزیز ہو جاتی ہے اور مملکت کو نا قابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہذا اس نے سب سے پہلے فتنہ و فساد کی اس راہ کو بند کرنے کا مصمم ارادہ کیا قبل ازیں وارث تخت کے متعلق عثمانی سلطنت میں کوئی معین قانون موجود نہ تھا

سلطان محمد ثانی نے اس ذیل میں نہایت ہی عجیب و غریب اور نرالا قانون وضع کیا اور وہ یہ کہ تخت نشین ہونے والے سلطان کو یہ خق ہو گا کہ وہ اپنے باقی بھائیوں کو قتل کرادے تا کہ بعد میں تخت پر قبضہ کرنے کی خاطر کوئی شورش برپا نہ ہو سکے اور اس طرح مملکت ہر قسم کے فتنہ و فساد سے محفوظ رہے سکے بظاہر یہ ایک انتہائی ظالمانہ اور سنگ دلانہ قانون نظر آتا تھا لیکن سلطان کے خیال میں مملکت میں کامل امن و امان برقرار رکھنے کا یہی ایک ذریعہ تھا کیونکہ عثمانی تاریخ کے مطالعہ سے اس نے یہ تاثر لیا تھا کہ کئی بھائیوں کا وجود ہمیشہ سلطنت میں خلفشار برپا کرنے کا موجب رہا ہے لہذا فتنہ و فساد کی اس راہ کو بند کرنے کے لیے بھائیوں کا قتل کر دینا ہی مناسب ہے..

مزید پڑھیں: ترکی میں سوشل میڈیا پر کنٹرول بڑھانے کے قوانین نافذ

سلطان فاتح شاہی رعب و داب بر قرار رکھنے کے معاملے میں اپنے تمام پیش روؤں سے بڑھا ہوا تھا اس کی رائے میں سلطان کا درباریوں اور عوام سے بے محابا میل جول شاہی وقار اور تمکنت کے خلاف تھا چنانچہ اسی لیے وہ اکیلا کھانا کھایا کرتا تھا اور اراکین سلطنت میں سے کسی کو بھی دسترخوان پر شریک نہ کرتا تھا اشد ضروری کام کے بغیر سلطنت کے کسی بڑے سے بڑے عہدہ دار سے بھی ملاقات نہ کرتا تھا یہی وجہ وجہ تھی کہ سارے اراکین مملکت اس سے خوف کھاتے تھے اور ان کے دلوں پر اس کا رعب پوری طرح حاوی تھا…

تا ہم اس کا مطلب نہیں کہ فاتح قسطنطنیہ کامل تنہائی اور گوشہ نشینی کی زندگی گزراتا تھا ایام جنگ میں وہ برابر اپنے وزیروں سپہ سالاروں اور فوجی افسروں سے رابطہ قائم رکھتا تھا میدان جنگ میں فوجوں کی خود کمان کرتا تھا اور پر جوش تقریر دل کے ذریعے لشکر کے حوصلے بڑھاتا رہتا تھا شعر و شاعری اور علم و ادب سے فطری لگاؤ کے باعث زمانہ امن میں وہ وقتعا فوقتاً علمی مجلسیں منعقد کر کے علما ادبا اور شعرا سے ادبی اور علمی موضوعات پر دل کھول کر تبادلہ خیالات کرتا تھا………..

مجلسی ضابطوں کی تشکیل

سلطان محمد ثانی نے بازنطینیوں کی اجتماعی زندگی سے متاثر ہو کر مجلسی ضابطوں کی تشکیل بھی دی اور حاضرین مجلس کے لیے لازمی قرار دے دیا تھا کہ وہ ان ضابطوں کی پوری پابندی کریں انہی ضابطوں کی بنیاد پر اس نے قصر شاہی میں امرا اراکین سلطنت کی بازیابی کے لئے بھی خاص قوانین بنا دیے تھے…

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *