سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بارہویں قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

قسط نمبر 12 آخری
قانون نامہ کی تدوین

قوانین مملکت کی تشکیل کی طرف بھی اس کی خاص توجہ تھی اس غرض کے لیے اس نے علماء اور فضلا کی ایک کمیٹی بنائی جس نے کافی محنت کے بعد ان احکام اور فرامین کو جمع کیا جو سلطان فاتح کے آباؤ اجداد نے مختلف امور کے متعلق اپنے اپنے عہد میں صادر کیے تھے ان احکام و فرامین کو اس نے سلطنت عثمانیہ کے لیے با قاعدہ قانون کا درجہ دے دیا اور اپنے بعد آنے والے سلاطین کے لیے اس قانون نامہ پر عمل پیرا ہونا لازمی قرار دے دیا مملکت کا یہ دستور اگرچہ کسی طرح کامل تو نہیں کہا جا سکتا تا ہم اس کے ذریعے ایک مکمل دستور کی بنیاد ضرور قائم ہو گئی تھی…

یہ قانون تین ابواب پر مشتمل تھا اور اس میں سلطنت کے نظام حکومت شاہی ضابطوں اور سزاؤں وغیرہ کی تفصیل بیان کی گئی تھی اس طرح سلطان نے اپنی حکومت کو نئی بنیادوں پر استوار کیا اس کام میں صدر اعظم محمد القرمانی نے اس کی بہت مدد کی قانون نامہ میں سلطنت کو ایک خیمے سے تشبہہ دی گئی تھی جو چار ستونوں پر قائم تھا

1. وزرائے سلطنت
2. قضاۃ عسکر
3 دفتر دار (خارن)
4. نشانجی (معتمر سلطنت)

اس شاہی خیمہ کا بلند دروازہ باب عالی کے نام سے موسوم تھا جس سے مراد حکومت عثمانیہ تھی سلطان نے وزراء کی تعداد چار (4)مقرر کی تھی صدر اعظم لشکر سپہ سالار اور حکومت کی مجلس حل وعقد (دیوان) کا صدد ہوتا تھا اگرچہ بیشتر کام سلطان خود اپنے ہاتھ سے سر انجام دیتا تھا

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (گیارہویں قسط)

نظم و نسق کی مشینری میں سلطان نے بعض معمولی باتوں کے سوا کوئی اہم تبدیلی نہ کی اور کم و بیش پرانے نظام کو ہی قائم رکھا اس نظام کی رو سے سلطنت صوبوں اور اضلاع میں تقسیم تھی

صوبوں کو بایلر بایاب کہا جاتا تھا اور اضلاع کو؛؛ صناجق؛ ؛ ابتدا میں بعض سلاوی علاقوں کو خود مختاری حاصل تھی اور وہاں کے سرداروں کو اپنے اپنے علاقے کا حاکم مقرر کر دیا جاتا تھا تاہم وہ سلطنت عثمانیہ کے ماتحت تھے اور اپنے اپنے علاقے سلطان کے جاری کردہ احکام کو نافد کرنے کے ذمہ دار تھے اگر ان میں سے کوئی حاکم سلطان کے احکام کو لباس عمل پہنانے میں کوتاہی کرتا تھا یا حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کا ارادہ کرتا تھا تو اسے سخت سزا دی جاتی تھی..

فوجی تنظیم

فوج کی جانب سلطان کی خاص توجہ تھی اس کے خیال میں مملکت کے استحکام کا سارا دارومدار ہی فوج پر تھا لہذا اس نے فوجی تنظیم کو ہر چیز پر مقدم رکھا فوج مختلف دستوں میں تقسیم ہوتی تھی اور ہر دستے کے سردار کو آغا کہا جاتا تھا ینی چری کے آغاز کو دوسرے تمام سرداروں پر تفوق حاصل ہوتا تھا اور وہ براہ راست صدد اعظم سے احکام حاصل کرتا تھا جسے فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت حاصل تھی..

جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے فوج میں جس قدر اہمیت ینی چری کو حاصل تھی اور کسی کو نہ تھی ینی چری کی افواج ان نوجوانوں غلاموں پر مشتمل ہوتی تھی جو مقبوضہ علاقوں سے ہر سال بطور خراج حاصل کیے جاتے تھے چونکہ یہ فوج نو عمر لڑکوں پر مشتمل ہوتی تھی اور اس کی تربیت کی طرف بھی خاص توجہ دی جاتی تھی اس لیے یہ مملکت کے لیے ہمیشہ مفید ثابت ہوتی تھی اور ہر اہم موقع پر اسی کو آگے بڑھایا جاتا تھا سلطان نے اپنے عہد میں اس کی ازسر نو تنظیم کی اور اس کے سردار کو اس کے اصل فرائض منصبی کے علاوہ استنبول کی پولیس کا نگران بھی مقرر کر دیا سلطان کی خاص توجہ کے نیچے میں ینی چری ایک نا قابل تسخیر فوج بن گئی اور اسے پہلے سے بھی بڑھ کر کامیابیاں نصیب ہونے لگیں..

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( دسویں قسط)

فوجی تنظیم کے سلسلے میں سلطان نے ایک آمر کی طرف خاص توجہ دی اس زمانے میں یورپی سلطنتیں اہمیت سوار دستوں کو دیتی تھیں لیکن سلطان کی نظروں میں پیدل دستوں کو زیادہ اہمیت حاصل تھی اس لیے اس کی بیشتر توجہ انہی کی تنظیم کی طرف رہی یہ امر قابل تعجب ہے کہ اس زمانے میں جن قوموں نے پیدل دستوں کی تنظیم کی طرف توجہ دی وہی اپنی مخالفت طاقتوں کے مقابلے میں کامیاب ہوئیں مشرق میں ترکوں نے یہ حربہ آزمایا اور مغرب میں ہسپانویوں نے اور جنگی نقطہ نظر سے یہی دونوں قومیں اس زمانے میں یورپ کی سب سے طاقتور قومیں شمار ہوتی تھیں…

سلطان کے عہد میں یوں تو بہت سے فوجی افسروں نے نام پیدا کیا اور سلطنت کی خاطر بڑے کارنامے نمایاں سر انجام دیے لیکن ان میں سر فہرست دو قائدین ہیں ایک محمود پاشا دوسرے احمد پاشا یہ دونوں مسیحی الاصل تھے اور ان دونوں کو اپنی تنظمیی صلاحیتوں کے باعث وزارت اور صدارت کے منصب پر فائز ہونے کا موقع ملا…

محمود پاشا کا نام ولی الدین محمود تھا اس کے والدین سروی تھے البتہ روایت میں مذکور ہے کہ والد یونانی تھا اور والدہ سروی اس کی تعلیم و تربیت اورنہ میں ہوئی اس زمانے میں سلطان مراد ثانی تخت پر تھا اپنی حیرت انگیز دماغی اور تنظمیی قابلیت کی وجہ سے یہ اپنے معاصرین میں ممتاز تھا چنانچہ سلطان محمد ثانی نے خلیل پاشا کے بعد اسے ہی صدر اعظم مقرر کیا تھا یہ تمام جنگوں میں سلطان کے ساتھ رہا سرویا کی تسخیر کے لیے سلطان کی نظر اسی پر پڑی اسی نے طرابزون اور سینوب کے معرکوں میں عثمانی بحری بیڑے کی قیادت کی جبکہ خود سلطان بری فوج کی قیادت کر رہا تھا ہنگری اور بوسینا کی جنگوں میں بھی یہ سلطان کے ساتھ رہا اسے گیلی پولی کا حاکم بھی مقرر کیا گیا تھا اس نے استنبول میں ایک مسجد اور ایک مدرسہ بھی بنایا تھا یہ شخص علم ادب کا دلدارہ اور شعر شاعری کا بہت شوقین تھا اس نے ایک دیوان بھی اپنی یادگار چھوڑا ہے….

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (نویں قسط)

احمد پاشا کیدیق ابتدا میں ینی چری کا ایک معمولی سپاہی تھا لیکن قابلیت کی بدولت قیادت کے منصب تک پہنچ گیا اسی کے ہاتھوں ایشاے کوچک میں سلجوقی دور حکومت کا خاتمہ ہوا اوزون حسن کو اسی نے شکست دی کیلیکیا کی فتح اسی کے ہاتھوں عمل میں آئی صدر اعظم کے عہدے پر پہنچنے کے بعد اس نے کریمیا کو فتح کیا اٹلی کے شہر عدد ٹورنٹو کی فتح کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے…

فوجی امور کے ساتھ ساتھ سلطان فاتح نے مالی امور کی طرف بھی توجہ مبذول رکھی محصولات کے نظام میں اس نے اہم اصلاحات کیں تا کہ ٹیکسوں کی وصولی با قاعدہ ہوتی رہے اور روپے کی کمی کی وجہ سے حکومت کے کاموں میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہو دولت عثمانیہ میں مالی امور کے نگران کو دفتر دار کہا جاتا تھا جو ایک فارسی لفظ ہے…

سلطان فاتح نے قانون نامہ محکمہ قضا کو ایک ستون قرار دیا تھا اس کے زمانے میں قاضی عسکردہ تھے ایک یورپ کی عثمانی عدالتوں کا صدر تھا دوسرا ایشیاے کوچک کی عدالتوں کا ان قاضیوں کو تمام مملکت میں بڑی عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا وہ حکومت کی مجلس حل و عقد (دیوان) کے رکن تھے اور انہیں وزراء سے آگے جگہ دی جاتی تھی سلطان فاتح ہی نے سب سے پہلے مملکت کے مفتی کو؛؛؛ شیخ الاسلام ؛؛؛ کا لقب دیا تھا چونکہ مملکت کے قوانین کی بنیاد شریعت اسلامیہ پر رکھی گئی تھی اس لیے اس منصب نے بعد میں بہت اہمیت حاصل کر لی اور مفتی کو زبردست اختیارات حاصل ہو گئے…

مزید پڑھیں: محمد سلطان فتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (آٹھویں قسط)

غیر مسلم رعایا سے حسن سلوک

مملکت عثمانیہ میں غیر مسلم رعایا کے حقوق کا بے حد خیال رکھا جاتا تھا انہیں اپنی اپنی عبادت گاہوں میں عبادات کرنے اور مذہبی رسوم بجا لانے کی پوری آزادی حاصل تھی ان کے باہمی تنازعات اور قومی معاملات کا تصفیہ ان کی اپنی ملی عدالتوں میں طے کیا جاتا تھا سلطان نے یونانیوں کے قانون نکاح اور قانون وراثت کو بد ستور قائم رکھا اور ان کا نفاذ بطریق اور مذہبی عدالتوں کے سپرد کیا ان کے مذہبی امور میں کسی قسم کی دخل اندازی نہ کی جاتی تھی اور وہ نہایت اطمینان اور چین کی زندگی بسر کر رہے تھے جو عثمانی حکومت سے قبل انہیں میسر نہ تھی..

ترک مسلمانوں اور مسیحیوں میں اس درجہ مساوات رواد رکھتے تھے کہ ایک مرتبہ مفتی نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ اگر ایک ہزار مسلمان ایک ایسے مسیحی کو نا حق قتل کر ڈالیں جو سلطان اور مملکت کا وفادار ہو تو اس مسیحی کے قصاص میں ان ایک ہزار مسلمانوں کا قتل کرنا واجب ہو گا….

کلیساۓ یونان کے ساتھ تعلقات

سلطان کی بیشتر رعایا یونانی کلیسا سے وابستہ تھی اس لیے اس نے قسطنطنیہ پر قبضہ کرنے اور شہر میں امن و امان ہونے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ وہ یونانی کلیسا کا حامی اور سر پرست بنا تا کہ مسیحی صدق دل سے اس کی اطاعت اختیار کر لیں اور اس کے خلاف بغاوت کا خیال دل میں نہ لاۓ اس نے کلیسا کی سابقہ عظمت کو برقرار رکھا اور اس کے اندرونی نظام میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی قسطنطین کے عہد میں کلیسا کی حالت بے حد ابتر ہو چکی تھی اس لیے اس نے حکم دیا کہ تمام پادری جمع ہو کر نۓ بطریق کا انتخاب کریں تا کہ کلیسا کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے..

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ساتویں قسط)

چنانچہ پادریوں نے مل کر گناڈیوس کو اپنا بطریق منتخب کیا یہ وہ شخص تھا جس نے قسطنطین کے عہد میں یونانی اور رومی کلیساؤں کے اتحاد کی سخت مخالفت کی تھی اور بڑے پر جوش الفاظ میں حکومت کو اس اقدام کے ہولناک نتائج سے آگاہ کیا تھا گناڈیوس کے بطریق منتخب ہونے کے بعد سلطان نے اسے ان تمام اعزازات سے نوازا جو بازنطینی کے دور حکومت میں بطریق کے لیے مخصوص تھے اس کی عزت تکریم میں آ ضافہ کرنے کے لیے اسے ایک خوبصورت گھوڑا بھی دیا اور ینی چری کا ایک دسیہ بطور باڈی گارڈ بھی اس کی تحویل میں دے دیا کلیسا کے قوانین میں کسی قسم کا رد و بدل نہ کیا گیا اور مسیحیوں کو اپنے مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت دے دی گئی بد نظمی اور انتشار کے زمانے میں گرجاؤں سے جو قیمتی اشیاء اڑا لی گئی تھی بڑی تلاش کے بعد انہیں اکٹھا کیا گیا اور پادریوں کے حوالے کر دیا گیا کہ وہ انہیں ان کی اصلی جگہوں پر رکھ دیں….

اگرچہ کلیسا پابند تھا کہ تمام احکام میں سلطان کی اطاعت کرے اور سلطان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ بطریق اور دوسرے مذہبی پیشواؤں کو جب چاہے معزول کر دے لیکن عملی طور پر سلطان نے کسی ایک موقع پر بھی کلیسا اور اس کے عہدیداروں کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا اور ان سے حسب معمول بڑی رواداری سے پیش آتا رہا سابق مسیحی سلطنتوں نے اپنے ہم مذہب لوگوں پر قسم قسم کی سختیاں روا رکھی تھیں اور ان کے مذہبی امور میں طرح طرح کی دست اندازیاں کی تھیں لیکن سلطان ان تمام باتوں سے بالکل علیحدہ رہا اور اس نے ان کے مذہبی معاملات میں کبھی دخل اندازی نہ کی اس کا نتیجہ یہ تھا کہ سلطان کی تمام مسیحی رعایا اس سے بے حد خوش تھی اور بطریق اور کلیسا کے دوسرے عہدیدار اس کے کامل وفادار تھے….

سلطان کے عہد میں قسطنطنیہ کی شان و شوکت

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قسط نمبر 6)

اگرچہ واقعہ یہ ہے کہ اس نے عام رواج کے مطابق قسطنطنیہ فتح ہونے کے بعد تین روز کے لئے فوج کو شہر کے لوٹنے کی اجازت دے دی تھی لیکن یہ معیاد ختم ہونے کے بعد پھر کسی سپاہی کو یہ اجازت نہ دی گئی تھی کہ وہ باشندگان شہر پر کسی قسم کی سختی کریں محاصرے کے دوران بے شمار باشندے قتل ہو گئے تھے یا شہر سے بھاگ گئے تھے جس کے باعث شہر باکل ویرانہ معلوم ہوتا تھا سلطان قسطنطنیہ کی عظمت اور اس کی اجتماعی و اقتصادی زندگی بحال کرنا چاہتا تھا

اس لیے اس نے ایک طرف تو شہر کے برجوں فیصلوں محلات اور دوسری عمارتوں کی مرمت کا حکم دیا جو گولہ باری کی وجہ سے باکل شکستہ ہو چکی تھیں دوسری طرف عام معافی کا اعلان کر دیا تا کہ جو لوگ خوف کی وجہ سے شہر سے بھاگ گئے تھے دوبارہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئیں ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے جو خلا پیدا ہو گیا تھا وہ پر ہو سکے اس کے علاوہ اس نے ترکی یونانی البانوی خاندانوں کو بھی قسطنطنیہ میں بلا کر آباد کیا ارمنی ایرانی اور عرب باشندے بھی یہاں آ کر آباد ہونے لگے تھے

سلطان نے شہر کی شان و شوکت میں آ ضافہ کرنے کے لیے مزید کئی عمارتیں تعمیر کروائی ان عمارتوں میں سب سے پہلی عمارت دارلسعادت تھی علاوہ ازیں سلطان نے اپنے نام پر مسجد بھی بنانے کا حکم دیا یہ مسجد ایک اونچے ٹیلے پر واقع تھی اور اسے ایک مشہور انجینئر خیر ستودولاس نے سینیٹ ابوتر کے کھنڈرات پر تعمیر کیا تھا اس کے دو منار تھے اور یہ مسجد سمندر میں بڑی دور تک نظر آتی تھی بعد میں زلزلوں کی وجہ سے اسے بہت نقصان پہنچا جس پت سلطان مصطفی ثالث نے اسے دوبارہ بنانے کا حکم دیا

سلطان نے اس کے علاوہ تین (3)اور مسجدیں بھی تعمیر کروائیں ان میں ایک جامع ابو ایوب انصاری جو ابو ایوب انصاری کے مزار کے متصل واقع تھی دوسری جامع شیخ بخاری اور تیسری جامع انکشاریہ (ارطہ جامعی) تھی پہلی دو مسجدیں باب اورنہ کے قریب تھیں سلطان کی بیوی ملکہ ستی خاتون نے اورنہ میں ایک مسجد تعمیر کرائی اسی طرح اس کی بیٹی سلطانہ عائشہ نے بھی قسطنطنیہ میں ایک مسجد بنوائی سلطان نے جامع مسجد کے ارد گرد آٹھ مدرسے بھی تعمیر کرانے کا حکم دیا ان مدرسوں کے پیچھے حمام شفاخانہ اور طلبہ کی رہائش گاہیں بھی شامل تھیں مدرسہ کے قریب مسافروں کے لیے ایک سراۓ بھی تعمیر کی گئی

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (پانچویں قسط)

جامع مسجد میں ایک کتب خانہ بھی تھا جو استنبول میں اپنی نوعیت کا واحد کتب خانہ تھا اسی کے قریب سلطان کی والدہ ہانم کا مزار بھی ہے ایک مشہور سیاح رامرتی نے جو 1535 ء میں قسطنطنیہ میں وارد ہوا تھا لکھا ہے کہ سلطان کی بنائی ہوئی جامع مسجد کے قریب ایک سراۓ ہے جس میں باہر سے آئے ہوئے ہر شخص کو قیام کرنے کی اجازت ہے تین روز تک اس کی حکومت کی طرف سے مہمان داری ہوتی ہے اور شہد چاول گوشت روٹی سے اس کی خاطر داری ہوتی ہے ٹھہرنے کے لیے علیحدہ کمرہ دیا جاتا ہے ہزاروں لوگ آتے ہیں اور ان میں قیام کرتے ہیں سڑکیں چوڑی چکلی صاف ستھری اور خوب صورت ہیں….

استنبول میں ایک میدان بھی ہے جسے سلطان کے نام پر فاتح میدانی اور آفاق میدان کہا جاتا ہے شہر کا ایک محلہ بھی سلطان کے نام سے منسوب ہے اس میں ایک مسجد اور ایک مدرسہ بھی ہے شہر میں ایک ایسا بازار بھی تعمیر کیا گیا تھا جہاں غریبوں کو سستی قیمت پر ضروریات زندگی کی اشیاء دستیاب ہوتی تھیں….

سلطان کے عہد حکومت میں دارالسلطنت میں بعض اور بھی مسجدیں تعمیر کی گئیں سینٹ ایاصوفیہ کے گرجے کو مسجد میں تبدیل کر کے اس کا نام جامع آیا صوفیا رکھ دیا گیا اسی طرح ایک اور گرجا کو مسجد میں تبدیل کر کے ملا زیرق کے نام پر اس کا نام جامع زیرق رکھ دیا گیا سلطان کے دو وزیر دل محمد پاشا اور مراد پاشا کے نام پر بھی دو مسجدیں جامع محمد پاشا اور جامع مراد پاشا تعمیر کی گئیں…

سلطان کا محل اگرچہ کافی بڑا تھا لیکن اس کی سادگی پسندی کا آئینہ دار تھا محل میں سلطان کی بیگمات بیٹوں اور بیٹیوں کے کمرے موجود تھے اور ہر کسی کے لیے الگ الگ کمرے تھے ساتھ ساتھ ہی جو محل کے ملازمین تھے تھے ان کی رہائش الگ بنائی گئی تھی …

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (چوتھی قسط)

فاتح کے بعد قسطنطنیہ کی حالت بدل گئی تھی جابجا عظیم الشان مسجدیں تعمیر ہو رہی تھی جو اپنی شان و شوکت خوبصورتی بلند بالا میناروں اور بڑے بڑے گنبدوں کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھیں سلطنت عثمانیہ کے مقابر بھی فن تعمیر کا بہترین نمونہ تھے قسطنطنیہ کو ابھی نصف صدی بھی نہ گزری تھی کہ شہر میں عظیم الشان محلات اور خوبصورت باغات وجود میں آ گۓ تھے جس سے شہر کی رونق میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا..

کیتھولک کلیسا کے مظالم کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپانیہ سے ہزاروں مسلمان اور یہودی قسطنطنیہ چلے آئے تھے۔ چنانچہ سلطنت عثمانیہ نے تاجروں کو خاص مراعات دی ہوئی تھیں اس لیے دور دراز ممالک سے تاجر قسم قسم کی اشیاء لے کر یہاں آتے تھے جس کے باعث قسطنطنیہ کے بازار ہر قسم کی ملکی اور غیر ملکی مصنوعات اور بیش قیمت سامان تجارت سے بھرے پڑے تھے…. قسطنطنیہ کی شان و شوکت اور عظمت کے آثار اب بھی پلوں عالیشان مسجدوں اور بلند بالا عمارتوں کی صورت میں آج بھی موجود ہیں چنانچہ رامرتی نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے

چار صدیوں تک قسطنطنیہ مشرق و مغرب کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا اس کی رونق اور عظمت میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا جغرافیائی عسکری اور سیاسی لحاظ سے اس کی مرکزیت بر قرار رہی اسی عرصے میں استنبول ہی یورپ کا سیاسی مرکز بنا رہا اور اس کی عظمت و شوکت کے آگے یورپ کے دوسرے بڑے شہروں کی عظمت ماند پڑی رہی جب تک ترکوں نے اسے چھوڑ کر انقرہ کو اپنا دارالحکومت نہ بنا لیا اسے دینا کا ایک عظیم الشان شہر بنانے میں سلطان محمد فاتح کا بہت بڑا حصہ ہے اور جب تک تاریخ کے صفحات میں قسطنطنیہ کا ذکر ہوتا رہے گا تب تک سلطان محمد فاتح کا نام لیا جاتا رہے گا

بعض لوگوں کے خیال سے جب سلطان محمد ثانی نے قسطنطنیہ فاتح کیا تو اس کے بعد کہتے ہیں ویران ہو گیا اور اس کی بربادی کا بتاتے ہیں ایسا کچھ نہیں بلکے اس کے الٹ ہیں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کی عظمت و وقار کو اپنی خدا داد صلاحیتوں سے کئی گنا بڑھا دیا تھا….

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

ان کے عہد میں علم و اب کی گرم بازاری

سلطان محمد فاتح کی علمی اور ادبی صلاحیتیں بھی اس کی سیاسی حربی اور تنظیمی صلاحیتوں سے کسی طرح کم نہیں سلطان علماء فضلاء اور دینی بزرگوں کی بے حد تعظیم و تکریم کرتا تھا اور وہ اس وصف میں اپنے تمام پیش رووں سے بڑھا ہوا تھا لوگوں کے دلوں میں علماء کی قدر و منزلت قائم کرنے اور ان کے لیے با عزت روز گار کی فراہمی کے سلسلے میں اس نے بہت بڑا کام کیا وہ انہیں ان چار ستونوں میں قرار دیتا تھا جن پر مملکت کی سیاسی عمارات استوار تھی اس کا اعتقاد تھا کہ محض جنگی قوت اس وقت تک کسی قوم کو رفعت اور عظمت سے ہمکنار نہیں کر سکتی

جب تک اس کی علمی استعدادیں بھی ہر لحاظ سے بڑھی ہوئی نہ ہوں یہی وجہ تھی کہ سلطان کو علم ادب سے بڑی دلچسپی تھی اس کا شعری ذوق بہت پاکیزہ تھا ہزاروں اشعار اسے زبانی یاد تھے اور وہ انہیں مناسب موقعوں پر سناتا رہتا تھا وہ خود بھی شعر کہتا تھا ترکی زبان میں اس کا ایک دیوان بھی موجود ہے جسے سلطان سلیم اول کے زمانے میں ایران کے ایک بہت مشہور خطاط عماد نے لکھا تھا بعد میں اسے برلن سے شائع کیا گیا تا ہم شہاب الدین سلیمان بک مولف تاریخ یکی عثمانی (تاریخ اوبیات) کے بیان کے مطابق وہ نا مکمل ہے یہ دیوان؛؛؛؛ دیوان عونی؛؛؛ ؛ کے نام سے مشہور ہوا اور تمام کا تمام غزلوں پر مشتمل ہے اس کے چند اشعار بطور نمونہ درج ذیل ہیں

1
سا قیامی صوک کہ برکون لالہ زارالدین کید
ابر یشور فضل خزاں باغ و بہار الدین کیدر
عزہ اولما دلبر حسن و جمالہ قبل وفا
باقی قالماز کیمسہ بہ نقش و نگارا کیدر
2

جگرم پارہ لدی خنجر جو دستمک
صبر مک جامہ سنی اور غرادی مقراص غمک
سجدہ کاہ ایلر ایدی کعبہ محراب کبی
کوبک ایجندہ ملک کو رسہ نشان قدمک

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

1
ساقیا گل لالہ کے مر جھانے فصل خزاں کے شروع ہونے
موسم بہار کے رخصت ہونے اور باغوں کی رعنائی ختم ہونے سے پہلے ہماری طرف جام شراب کا رخ پھیر دے اے میری محبوبہ جس کے حسن و جمال پر میں فریفتہ ہو چکا ہوں مجھے اپنے وصال سے نہ روک کیونکہ زنیب اور حسن دونوں پر ایک نہ ایک زوال آنے والا ہے..
2
تیرے ناز وادا کا تیر میرے جگر کے پار ہو چکا ہے اور تیرے جو روجفا کے خنجر نے میرا دل پارہ پارہ کر دیا ہے. اگر فرشتے تیرے قدم کے نشان دیکھ لیں تو محراب کعبہ سمجھتے ہوئے ان میں سجدہ ریز ہو جائیں…

سلطان مطالعے کا بیحد شوقین تھا اور اس طرح اپنے علم میں برابر آضافہ کرتا رہتا تھا خواجہ زادہ اور ابن الخطیب جیسے جلیل القدر علماء کو خاص اس غرض کے لیے ملازم رکھا ہوا تھا کہ وہ اسے مختلف علوم کی کتابیں پڑھ کر سناتے رہیں اور اس کی علمی تشنگی کو دور کرتے رہیں اپنے زمانے کے علماء فضلاء کی کتابوں اور رسالوں پر اس کی گہری نظر تھی اور وہ بڑے عالمانہ انداز سے ان پر تنقید و تبصرہ کیا کرتا تھا اس کے پاس اپنا ذاتی کتب خانہ تھا جس میں ہزاروں نایاب اور قیمتی کتابیں جمع تھیں اس کتب خانے کی نگرانی ملا لطفی کے سپرد تھی جو کافی عرصے تک اس خدمت پر مامور رہا..

سلطان نے شعبہ تعلیم کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے اور طلبہ کی استعدادوں کو ہر لحاظ سے بہتر بنانے میں اپنی پوری توجہ صرف کر دی تھی اپنے وزیر محمود پاشا کو اس نے نظام تعلیم کی اصلاح کا کام سپرد کیا تھا اس اہم کام کو سر انجام دینے کے لیے اس سے بہتر آدمی ملنا واقعی بہت مشکل تھا یہ شخص بہت بڑا عالم اور شاعر تھا اور تعلیمی امور سے اسے بے حد دلچسپی اور واقفیت تھی سلطان فاتح کے زمانے میں ان مدرسوں کے ساتھ ساتھ جو پہلے ہی سے شہروں اور قصبوں میں موجود تھے بڑے بڑے کالج قائم کیے گئے جن میں تعلیم دینے والے اساتذہ کو سلطان خود منتخب کرتا تھا وہ اکثر ان اساتذہ سے تعلیمی نصاب کے متعلق بحث و مباحثہ کرتا رہتا تھا

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

اساتذہ سے وہ یہ دریافت کرتا رہتا تھا کہ ان کے شاگردوں میں سے سے کوئی ایسا شاگرد ہے جو غیر معمولی صلاحیت کا مالک ہو اور کمزور شاگردوں پر کہتا تھا خاص توجہ دو اگر کوئی طلبہ ذہن اور لائق ہوتا تو اس کے وظیفے لگا دیتا تھا ان کالجوں میں ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت مذہبی علوم اور عربی فارسی ادب اور فلکیات کی تعلیم دی جاتی تھی تاہم علوم دینیہ مثلا علم کلام علم توحید علم الاصول فقہ اور حدیث میں کمال حاصل کرنے اور امام کی ڈگری لینے کے لیے طالب علم کو متعدد سخت امتحانات میں سے گزرنا پڑتا تھا جن کی کم از کم مدت پندرہ ماہ تھی جب طالب علم یہ امتحان پاس کر لیتا تو وہ مملکت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کا حق دار بن جاتا تھا

انہی طالبہ میں سے کوئی مفتی کوئی کالج کا پروفیسر اور کوئی شیخ الاسلام کا درجہ حاصل کر لیتا تھا ان علماء کے لیے سلطان فاتح نے ایک خاص مالی نظام بھی مرتب کیا ہوا تھا… شریعت اسلامیہ اور فقہ کی ترویج کے سلسلے میں سلطان فاتح کا زمانہ خاص اختیار رکھتا ہے یہی وجہ ہے اس دور میں بے شمار فضلاء علماء اور مصنفین گزرے اور سینکڑوں کتابیں تالیف کی گئی بسا اوقات سلطان علماء فضلاء کو جمع کر کے علمی اور لغوی مسائل پر بحث مباحثہ کرایا کرتا تھا ان مباحثوں میں بعض اوقات وہ خود بھی شامل ہوا کرتا تھا اس کی تقلید میں اس کے وزراء محمود پاشا اور سنان پاشا نے بھی علماء فضلاء کے مناظرے کرانے شروع کر دیے اور اس طرح علم کی ترویج میں معاون ثابت ہوۓ….

حکومت اور عوام کی جانب سے عزت افزائی کے باعث علماء میں بھی خود اعتمادی کے جذبات پیدا ہو گیۓ تھے اور روحانی قوت ان میں کار فرماں نظر آتی تھی انہیں عزت نفس کا اس قدر پاس تھا کہ اگر کبھی کسی عالم سے ناروا سلوک ہوتا تو علماء کا پورا طبقہ مجسم احتجاج بن کر کھڑا ہوتا تھا سلطان ان سے جس قدر مروت اور عزت سے پیش آتا تھا اس کا اندازہ مولف کتاب؛؛ الشقابق النعمانیہ ؛؛(جس کے والد سلطان فاتح کے معاصر تھے) کی بیان کردہ ایک روایت سے ہوتا ہے مشہور عالم فخرالدین العجمی کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ سلطان محمد حضرت ایوب انصاری کے مزار کی زیارت کو جاتے ہوئے اکثر ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتا تھا جب کبھی وہ گزرتا تو میرے والد دروازے پر آ جاتے اور سلام کرنے کے بعد ان کو شربت پیش کرتے سلطان کہتا خدا کی قسم یہ شربت تو میں ضرور پیوں گا چنانچہ وہ میرے والد کے ہاتھ سے پیالہ لے کر پیتے اور سلام کر کے چلے جاتے…

مزید پڑھیں: صاحبزادہ سلطان ایک بار پھر جیپ ریلی جیت گئے

سلطان فاتح کے عہد میں استنبول علماء فضلا کا مرجع بنا ہوا تھا اور تمام اسلامی علاقوں سے اہل علم و فضل جوق در جوق یہاں آ کر جمع ہو رہے تھے سلطان کی طرف سے ان کے لیے جملہ سامان آسائیش و روز گار فراہم کیے جاتے تھے اور انہیں بڑی فراخدلی سے قیام و طعام کی سہولتیں بھی مہیا کی جاتی تھیں قوشجی (جس نے لمحدیہ کے نام سے علم حساب کے بارے میں ایک رسالہ لکھ کر اسے سلطان محمد کے نام سے معنون کیا تھا) سراج الدین الخطیب قطب الدین العجمی اور شیروانی وغیرہ ہم انہی مذکورہ علماء کے زمرے میں شامل تھے….

سلطان نے مملکت کے طویل و عرض میں ہزاروں مدرسے جاری کیے یہ مدرسے مسجدوں کے ساتھ ملحق تھے اور ان میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرتے تھے قسطنطنیہ کے مدرسوں میں مدرسہ آیا صوفیہ اور مدرسہ ابو ایوب انصاری بہت مشہور ہیں ان کے علاوہ جامع محمد میں بھی آٹھ مدرسے قائم تھے جہاں جملہ علوم متدادلہ کی تعلیم دی جاتی تھی

سلطان کے عہد کے علماء فضلاء

سلطان کے عہد میں فقہ اور دیگر علوم شرعیہ میں جن علماء نے کمال حاصل کیا ان کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کرتی ہیں ان کا تفصیلی ذکر احمد بن مصطفیٰ المعروف بہ بطاش کبری زادہ نے اپنی کتاب؛؛ الشقائیق النعمانیہ فی علماء الدولہ الثمانیہ؛؛؛ میں کیا ہے…

ان علماء میں سہر فہرست ملا خسرو محمد بن قراموز الرومی یہ رومی الاصل تھے اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ حیدر الہردی کے آگے زانوئے تلمز تہیہ کیا جو اس وقت بلاد روم کے مفتی تھے تحصیل علم کے بعد ادرنہ کے مدرسے میں مدرس مقرر ہو گئے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد انہیں شہر استنبول اور وہاں پر مقیم اسلامی لشکر کا قاضی مقرر کیا قضاء کے جملہ فرائض کے علاوہ جامع آیا صوفیا کے مدرسہ میں درس و تدریس کے فرائض بھی سر انجام دیتے تھے سلطان محمد ثانی ان کا بے حد احترام کرتا تھا آور انہیں اپنی مملکت کے لیے باعث فخر خیال کرتا تھا. سلطنت عثمانیہ کے دستور؛؛ قانون نامہ؛؛ کی تدوین کا کام بھی سلطان نے انہی کے سپرد کیا تھا افتا کا کام بھی انہی سے متعلق تھا سیوطی اور بان العماد نے بھی اپنی کتابوں میں ان کا تفصیلی ذکر کیا ہے شریعت اسلامیہ اور فقہ کے بارے میں انہوں نے کئی کتابیں تالیف کیں جن میں سے مرقات الاصول معہ مراۃ الوصول. غررالا حکام فی شرح دررالحکام؛ الرسلتہ الولائیہ و کاشفات الشبہات الولائیہ ؛ رسالتہ فی آلا ستخلاف للخطبہ آور رسالہ فی اسرار الفاتحہ مشہور ہیں….

مزید پڑھیں: محمد سلطان فتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (آٹھویں قسط)

اس عہد کے ایک اور مشہور عالم شیخ احمد بن اسماعیل الکورانی ہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم قاہرہ میں حاصل کی جہاں امیر اجقمق کی ان پر خاص نظر کرم تھی سلطان فاتح کا باپ مراد ثانی ان کی بے حد تعظیم کرتا تھا اس نے انہیں اپنے لڑکے کا اتالیق مقرر کیا ہوا تھا جب عنان حکومت سلطان فاتح کے ہاتھ میں آئی تو اس سے پہلے تو انہیں قاضی عسکر کا مددگار مقرر کیا پھر شہر بورصہ کا قاضی بنا دیا آخر میں افتا کا عہد بھی سلطان نے انہی کے سپرد کر دیا ان کی وفات 893ء میں سلطان فاتح کے لڑکے بایزید ثانی کے عہد میں ہوئی بایزید کے دل میں بھی ان کی اتنی قدر منزلت تھی کہ وہ نہ صرف ان کی نماز جنازہ میں شامل ہوا بلکہ آخر وقت تک تجہیز و تکفین میں بھی شریک رہا ان کی تصانیف میں غایات الامانی؛ البدور العوامع ؛؛لواعم الغررفی شرح فوائد الدرر؛؛ کشف الاسرارعن قرات الائمتہ؛ الاخیار اور غایات الزمان فی تفسیر الکلام الربانی؛ مشہور ہیں…..

ایک مشہور عالم جلال زادہ خضر بک تھے جو فقہ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے انھوں نے عقائد کے بارے میں ایک کتاب؛؛ النونیہ؛ ؛؛کے نام سے تالیف کی تھی اس دور میں ان کے علاوہ اور بھی بے شمار علماء گزرے ہیں جنہوں نے اپنے آپنے فن میں کمال حاصل کیا ان میں چند کا ذکر درج ذیل ہیں…

مصلح الدین بروسی انہوں نے امام غزالی کی؛ تہافتہ الفلاسفہ؛ ؛کے رد میں ایک کتاب لکھی اس کے علاوہ رسالہ فی الحرکتہ کے نام سے بھی ایک کتاب تصنیف کی.. علاء قوشحی… ان کی مشہور کتابیں؛؛ الرسلتہ المضر ویہ ؛ عقو والمعجز ؛ہیں جو طب کے بارے میں ہیں.. علی بن مجدالدین شاہرودی الہردی. یہ امام فخرالدین رازی کی نسل سے تھے انہوں نے علم نحو کے بارے میں چند کتابیں لکھیں جن میں؛ شرح الارشاد اور شرح الصباح؛ مشہور ہیں..

مزید پڑھیں: بکرا مالک کی شکایت لیکر ٹیپو سلطان تھانے پہنچ گیا

ان کے علاوہ فارسی میں بھی چند کتابیں تالیف کیں، ملا لطفی. انہوں نے تاریخ الحکمت کے نام سے ایک رسالہ تصنیف کیا۔ عبدالرحمن بن موید.. ان کے متعلق مشہور ہے کہ ان کی تصانیف کی تعداد سات سو سے بھی زیادہ ہے، ان کے علاوہ خطیب زادہ بن تاج الدین؛ ملا خیانی؛؛ مصطفیٰ القسطلانی؛؛ علاءالدین عربی؛؛ تکساری؛ ؛تاجی بک زادہ؛؛ جعفر؛؛ سعدی شبلی؛؛ جمالی؛؛ ابن کمال؛؛ ابوالسعود المعروف بہ کمال پاشا زادہ؛؛ کا شمار بھی اس دور کے مشہور علماء میں ہوتا ہے۔ ابن کمال نے فقہ تفسیر؛ کلام؛ حکمت؛ تاریخ اور معافی کے بارے میں متعدد کتابیں تصنیف کیں وہ فارسی اور ترکی کی زبان کے شاعر بھی تھے..

ابوالسعود پہلے قضاء کے عہدے پر فائز تھے پھر شیخ الاسلام بنا دیے گئے روایت ہے کہ جب مکہ اور مدینہ میں ان کی وفات کی خبر پہنچی تو وہاں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ایک دن میں ایک ایک ہزار فتوے صادر کیا کرتے تھے انہوں نے قرآن پاک کی ایک تفسیر بھی لکھی ہے ان کی ایک کتاب شرح البردہ کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں عربی زبان پر بے حد قدرت اور عربی ادب میں کامل مہارت حاصل تھی وہ اپنی عبارت میں سجع اور صنعت لفظی کا خاص خیال رکھتے تھے…

ایک اور عالم محمد بن قطب لازنقیی تھے ان کی کتابوں میں التعبیر و التاویل اشرف؛ شرح الادراد؛؛ رسالتہ فی المعزفتہ اور فتح فتاح الغیب مشہور ہیں

؛ فلسفہ میں مندرجہ ذیل علماء نے کمال حاصل کیا

کمال الدین مسعود اشروانی انہوں نے علم کلام؛ منطق اور حکمت کے بارے میں ایک رسالہ تالیف کیا تھا اس کے علاوہ شرح السمر قندیہ اور شرح المواقف کے نام سے بھی دو کتابیں لکھی تھیں۔ یوسف بن حسن القرمسطی ان کی تصانیف میں رسالتہ فی المواقف؛ الوجیزنی اصول الدین؛ زبدۃالوصول الی علم الاصول مشہور ہیں..حاجی شبلی انہوں نے رسالتہ علی المبداالاول اور شرح المواقف کے نام سے دو کتابیں ہیں

علم لغت میں السید بن علی اور لطف اللہ شبلی نے شہرت حاصل کی السید محمد بن السید حسن نے جامع اللغت کے نام سے ایک کتاب لکھی لطف اللہ شبلی مشہور لغوی عالم علامہ سعد الدین تفتازانی کے شاگرد تھے ان کی تصانیف؛؛ متصرفات الاسماء و مقدمات العلماء؛؛ بہت مشہور کتاب ہے

سلطان محمد فاتح کے عہد میں جو لوگ تقویٰ اور طہارت کے لحاظ سے بلند مقام کے مالک تھے ان میں الشیخ آق شمس الدین کا مرتبہ سب سے بلند ہے قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران میں سلطان نے انہیں اپنے پاس بلا لیا تھا مولف کتاب؛؛ الشقائق النعمانیہ ؛؛کے بیان کے موجب انہوں نے سلطان کے وزیر احمد پاشا کو نہ صرف فتح کی خوشخبری دی بلکہ وہ وقت بھی بتا دیا جب یہ فتح ظہور میں آنے والی تھی وزیر نے یہ خوشخبری سلطان کے کانوں تک پہنچا دی موعود گھڑی قریب آ پہنچی لیکن فتح کے آثار نظر نہ آۓ وزیر بہت ڈرا کہ کہیں سلطان ان سے ناراض نہ ہو جائے وہ بھاگا ہوا شیخ کے پاس گیا وہاں پہنچ کر اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتے اور فتح کے لیے دعائیں مانگتے ہوئے پایا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر کے سلطان کو فتح فرمائی اور ترک دستے بتاۓ ہوئے وقت کے عین مطابق شہر میں داخل ہو گئے اس پر سلطان نے کہا کہ مجھے فتح سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ مجھے ایک کامل ولی اللہ کی صحبت نصیب ہے…..

مزید پڑھیں: پشاور اب بھی قدیم و جدید امتزاج کا مظہر

ایک روایت یہ بھی آتی ہے کہ فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان نے ان سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے خدائی الہام کے مطابق حضرت ایوب انصاری کا مزار بتائیں جس کا نشان امتداد زمانہ کے باعث مٹ چکا تھا شیخ شمس الدین نے مراقبہ کیا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بتایا گیا کہ مزار فلاں جگہ پر ہے چنانچہ وہ سلطان کو اس جگہ پر لے گئے اور اسے چند علامتیں اور نشانیاں ایسی دکھائیں جن کی بنا پر اسے یقین ہو گیا کہ مزار یہیں ہے چنانچہ اس نے اس مقام پر ایک گنبد تعمیر کروایا اور اس کے متصل ایک عالی شان مسجد بنائی جس کا نام جامع ابو ایوب انصاری رکھا گیا….

صحت کے اعتبار سے یہ روائتییں خواہ کس درجے کی ہوں تا ہم ان سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ سلطان صوفیا کرام اور اولیا اللہ سے کتنا تعلق خاطر تھا..سلطان میں سخاوت کا مادہ بھی بے حد تھا اس نے ہزاروں بیواؤں یتیموں اور مسکینوں کے وظائف مقرر کیے ہوئے تھے جو انہیں ہر ماہ ملتے تھے ضرورت پڑنے پر کپڑے اور دوسری اشیاء ان کو مفت دی جاتی تھیں ایسے کام کر کے سلطان کو دلی سکون ملتا تھا…

اسلام کے راستے میں قابل رشک خدمات دینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خاطر اپنا کل مال و اسباب وقف کر دینے کے باعث ترکوں کے دلوں میں آپ کی قدر منزلت بہت اونچے مقام پر تھی۔ بازنطینی بھی آپ کے مزار کا قرار واقعی احترام کرتے تھے…

جامع ابو ایوب انصاری کو تمام مملکت میں نہایت تعظیم کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا جب بھی کوئی نیا سلطان منتخب ہوتا تو اس کی تخت نشینی کی رسم اسی مسجد میں ادا کی جاتی اور وہ اپنے وقت کے شیخ الاسلام کے ہاتھ سے تیغ عمر رضی اللہ عنہ. بن الخطاب زیب کمر کرتا تلوار حمائل کرنے کے بعد اسی جگہ شکرانہ کے نوفل ادا کرتا….

سلطان کے عہد میں حمدی شاعر نے ملا جانی کی طرز پر قصہ لیلی و مجنوں اور قصہ یوسف و زلیخا کو ترکی زبان میں نظم کیا….

مزید پڑھیں: ترکی کا عالمِ دین انمول مثال بن گیا

مختصر یہ کہ سلطان کا عہد ہر لحاظ سے ایک مثالی عہد تھا جہاں فتوحات نے بے حد وسعت اختیار کی وہاں علم ادب نے بھی بے حد ترقی کی اور ثقافت کو زبردست عروج نصیب ہوا. یہی وجہ ہے کہ تمام دنیا مسلمان اسے بطل جلیل قرار دیتے ہیں ترکوں کو ان سے بے پناہ عقیدت ہے اور وہ فخر کے ساتھ اس کے کارنامے دوسرے کے سامنے بیان کرتے ہیں

ان کے جذبات کا اندازہ مشہور ترکی شاعر عبدالحق حامد کے اشعار سے ہو سکتا ہے جو اس نے سلطان فاتح کی قبر پر کہے تھے اور جن میں اس جلیل القدر شہنشاہ کو اس طرح خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے

ہر کو سندہ دھرک
نام بقا مدارک
شامستہ ورونیلسر
عالم سنک مزارک
بیت خدا بہ قوتمش
جاہک مطاع اسلام
طور مش باشکدہ بکلر
برقوم تربہ دارک
میدان حربی فیدک
سن تخت کا شوکت
توحید ایدی مراک
اسلام ایلہ انامی
برمحمج سیاست
بولدک عقول جسبان
دوران ایدی رقیبک
اللہ ایدی نکارک
ترجمہ
تیرے عظیم کارناموں کی بدولت تیرا نام زندہ جاوید ہو چکا ہے.
دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں تیرا نام نہ گونج رہا ہو…..
تیرا مزار جو خانہ خدا میں واقع ہے اہل اسلام کے لئے انتہائی قابل تعظیم ہے.
تمام ترک قوم تیری قبر کی حفاظت کی خاطر کمر بستہ کھڑی ہے..
تو نے میدان جنگ کو اپنی تخت گاہ بنا دیا تھا..
تیری تمام جدوجہد کا منتہائے مقصود دنیا میں توحید کو قائم کرنا تھا..
اور تیری تمام صلاحیتیں اسی مقصد کے لیے وقف تھیں…
تو نے اگرچہ دنیا میں بہت تھوڑا عرصہ گزرا..
لیکن یہی قلیل عرصہ تاریخ کا ایک عظیم الشان دور گنا جاتا ہے…
تیری زندگی میں زمانہ تیرا موافق رہا…
اور تائید ایزدی تھجے ہر دم میسر رہی…
جس نے تیرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا……..
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💓💓💓💓💓💓💓

اسی کے ساتھ ہی محمد سلطان فتح اپنے اختتام کو پہنچی گئی ہے
یہ پہلی کتاب ہے جو میں نے کتاب سے دیکھ کر لکھی ہے کیونکہ میں نے فیس بک کی دینا سے یہ کتاب بہت تلاش کی لیکن مجھے نہ ملی آخر میں نے کتاب خرید کر خود لکھنا شروع کی جو آج الحمد اللہ مکمل ہو گئی ہے
کوئی لکھائی میں غلطی ہو گئی ہو تو اس کے لیے معافی چاہتا ہوں
دعاؤں میں یاد رکھیں گا
محمد اسلم

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *