کاش کہ گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی؛

شکوہ بند نمبر 29
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ گلشن امت اس قدر ویران اور بربادی کا سماں پیدا کر رہا ہے کہ فاختائیں صنور جیسے بلند و بالا درخت کی شاخوں پر بیٹھنے سے بھی گریزاں ہیں؛ یعنی مسلمانوں کی پستی کا یہ عالم ہے کہ اصلاح کرنے والے بھی مایوس ہو چکے ہیں۔

گلشن کے پھولوں کی پتیاں جھڑ کر بکھر چکی ہیں؛ یعنی مسلمان اپنے مرکز سے کٹ کر ایک منظم قوت کے بجائے ایک بکھرا ہوا ہجوم بن چکے ہیں؛ ملت اسلامیہ کے باغ کی پرانی روشیں ویران اور درختوں کی ڈالیوں سے پتوں کا لباس بھی اتر چکا ہے؛ یعنی آج کے مسلمان اپنے پرانے آباؤ و اجداد والے مومنانہ اور مردانہ جوہر و اوصاف کھو چکے ہیں؛ اور خوبصورت اخلاق کا لباس بھی اتار چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمن؛

میرے مولا ایسے خزاں رسیدہ ویران موسم میں بھی اس باغ میں ایک بلبل یعنی شاعر ہے جس کی طبیعت موسم کی قید سے آزاد ہے وہ خزاں کی سختیوں اور مایوسیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوبارا گلشن کو آباد کرنے کی پکار لگا رہا ہے کاش کہ اس ویران گلشن میں اس کی فریاد کو سمجھنے والے پیدا ہو جائیں:

اب اقبال کے اشعار کو ذوق و شوق سے پڑھئے اور پیغام اقبال کو سمجھ کر دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کیجئے؛

مزید پڑھیں: مشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دے

قمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہُوئیں
پتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہُوئیں
وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیں پیراہن برگ سے عریاں بھی ہوئیں

قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش کہ گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

(بزمِ اقبال)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *