داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں؛

شکوہ بند نمبر 30

علامہ اقبال شکوہ کے اس بند میں بارگاہ الہٰی میں عرض کرتے ہیں کہ مولا ملت اسلامیہ کے زوال کے اس دور میں جینا مرنا ہے کار ہو چکا ہے؛ اگر کوئی مزہ ہے تو بس اپنے سینے موجود درد دل کے گھونٹ پینے میں ہے؛ میرا دل ملت کو اٹھانے والے اعلی افکار کے آشکار ہونے کے لئے بیتاب ہیں؛ اور میرے سینے میں روشن افکار کے جلوے تڑپ رہے ہیں؛ مگر میری ملت میں ایسے افراد نظر ہی نہیں آتے جو میرے درد دل کو محسوس کریں اور میرے پیغام کو سمجھیں اور غلبہ اسلام کو مشن بنا کر اٹھیں اور گلشن امت میں چھائی خزاں کو بہار میں بدل ڈالیں جیسے لالے کے پھول صحرا کو گل و گلزار بنا دیتے ہیں؛

مزید پڑھیں: کاش کہ گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی؛

اب علامہ اقبال کے اشعار کو ذوق و شوق سے پڑھئے اور پیغام اقبال کو اپنے دل کی تختی پر نقش کیجیے؛

لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خون جگر پینے میں
کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں
کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

(بزمِ اقبال)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *