نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری؛

شکوہ بند نمبر 31

حکیم العصر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی معرکہء آرا نظم۔۔۔ شکوہ ۔۔۔ کے آخری بند میں درد دل میں ڈوب کر بارگاہ الہٰی میں عرض کرتے ہیں؛ کہ مالک میری شاعری میں ایسا سوز اور تاثیر رکھ دے کہ میری نوا سے مسلمانوں کے دل بیدار ہوں؛ میری پکار سوئے ہوئے قافلہء ملت کے لئے بانگ درا ثابت ہو اور بانگ درا اس گھنٹی اور آواز کو کہتے ہیں جسے سن کر قافلہ بیدار اور تیار ہو کر اپنی منزل کی طرف چل پڑتا ہے؛

میرے مولا میرے کلام کو ایسا پرسوز پیغام بنا دے جس کے ذریعے آج کے مسلمانوں کے دل ایک بار پھر صحابہ کی طرح اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ وفا کے عزم و عہد سے سرشار ہو جائیں اور پھر مسلمانوں کے دل اسی بادہء دیرینہ یعنی پرانی شراب کے پیاسے ہوں؛ یہاں شراب سے مراد ایمان؛ عشق؛ اور قربانی و وفا کا جذبہ ہے جو پرانے مسلمانوں کا شیوہ و شعار تھا؛ آگے اقبال اپنے کلام کے بارے میں کہتے ہیں کہ مولا میرا پیالا اور پیمانہ عجمی یعنی غیر عربی ہے تو کیا ہوا

مزید پڑھیں: داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں؛

اس پیمانے میں موجود شراب تو حجازی ہے یعنی میرے کلام میں دی گئی فکر تو خالص اسلامی انقلابی فکر ہے سو اگر میرا نغمہ ہندی زبان میں ہے تو کیا ہوا اس کی لے یعنی سر تو حجازی ہے؛ یعنی میرے اردو و ہندی کلام میں پیغام اور مضامین تو حجازی مقدس سے اٹھی اور ابھری ہوئی تحریک اسلام کے ترجمان ہیں؛…

اب علامہ اقبال کے اشعار کو ذوق و شوق سے پڑھئے اور پیغام اقبال اپنے دل کی تختی پر نقش کیجیے؛

چاک اس بلبل ت تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں
یعنی پھر زندہ نۓ عہد وفا سے دل ہوں
پھر اسی بادہء دیرینہ کے پیاسے دل ہوں

عجمی خم ہے تو کیا؛ مے تو حجازی ہےمری
نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری

(بزمِ اقبال)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *