صد سال سے ہم استعمار کا دسترخوان ہوئے.

شاعر: محمد ہمایوں عزیز

عمر بیتی ہے کہ ذلت کا سامان ہوئے.
اک صدی پوری ہوئی گھر کو بیابان ہوئے.

وہ جو وارث تھے کبھی سطوتِ شاہانہ کے.
اب کہ اجڑے تو درِ غیر کے دربان ہوئے.

ہزار ہائے کہ اس سوختہ حالی میں.
نذرِ آتش میرے سارے گلستان ہوئے.

ملکِ عدم لوٹ چکے غیرت کو جگانے والے.
جو رہے باقی وہ اغیار کے درمان ہوئے.

کتنے ہی فاصلے بڑھائے ان لکیروں نے.
کتنے معصوم اس جہالت پہ قربان ہوئے.

میری امت کے غیور، شجاعت کے مینارے.
جرمِ حق گوئی میں، اسیرِ زندان ہوئے.

ہم نے تاریخ ہے چھوڑی صفحہِ جہاں پہ.
ہم کہ ہر دور میں سکندر و سلطان ہوئے.

تیری ہیبت کا عالم تجھے معلوم ہے کچھ.
کتنے طوفان تجھ سے ٹکرا کے بےنشان ہوئے.

چل عزیز اس نظام کی طرف کہ جسکے بنا.
صد سال سے ہم استعمار کا دسترخوان ہوئے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *