تبلیغ سے تجارت تک

مولانا طارق جمیل

تحریر: علی ہلال


مہنگا برینڈ متعارف کرنے والے سابق مبلغ نے دینی مدارس سے چندہ اور زکاۃ نہ لینے کی اپیل کی ہے کاش یہ اپیل وہ اپنے امیرالمومنین سے کرتے تو گزشتہ اڑھائی برس کے دوران ملک کے حصےمیں اتنی بدنامی کبھی نہ آتی۔

اللہ بھلا کرے بچپن میں اکوڑہ خٹک کے ایک مقرر مولوی کی تقریر سنی تھی ۔ جس میں انہوں اس وقت کی حکومت کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ تم بھی چندہ مانگتے ہو ہم بھی چندہ مانگتے ہیں ۔ تم چندہ بھی کرتے ہو ۔دھندہ بھی کرتے ہو اور پھر ملک کو گندہ بھی کرتے ہو۔ میں چندہ کرتا ہوں مگر نہ دھندہ کرتا ہوں اور نا ہی ملک کو گندا کرتا ہوں ۔ تمہارے چندے کا نام مگر کچھ اور ہے اور میرے کا نام چندہ ہی ہے۔

سابق مبلغ کا المیہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر تاجر اور گلوکار فن وتجارت کرکے تبلیغ کی طرف آتے ہیں جبکہ یہ بیچارے یوٹرن لیکر تبلیغ سے مارکیٹ کا رخ کررہے ہیں ۔ بہت سے اندھے معتقدین کی باچیں تعریف کرکے بند نہیں ہورہی کہ حضرت کوئی کارنامہ دکھا گئے ہیں ۔ بھئی تجارت تو اس ملک کے بیشتر مولوی کرہی رہے ہیں ۔

ملتان کے مفتی زکریا سے کراچی کے ابن عالم تک مولویوں کی تجارت سے ایک دنیا فیضیاب ہورہی ہے ۔ بادام اور پستہ سے سونے اور بٹ کوئن تک ہر چیز میں مولوی کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔

ہمیں تجارت پر اعتراض نہیں ۔ناراضگی اس پر ہے کہ تم تبلیغ کے ایک غیر متنازع منبر کو اپنے برینڈ کی پبلسٹی کے لیے استعمال کرو اور پھربھی مطمین رہو۔ شاد وفرحان رہو اور دوسروں پر طنز کرنے کے مواقع پیدا کرو۔ اغیار کی زبان بولو۔ گل وبلبل سے ہمنشینی کو بھول جاو۔ تم نے بھی تو صدقات کھاکر رشیدیہ میں پڑا تھا ۔ آپ ہی تو کہتے تھے میرا جاگیردار باپ مجھے خرچہ نہیں دیتا تھا ۔ صدقہ ہی تو تھا جس نے تجھے جاگیردار باپ کے دنیا دارانہ نِظریات کے جبر وتسلط سے بچاکر مبلغ بنادیا ۔

باقی جہاں تک زکاۃ وصدقات کا معاملہ ہے اس پر لکھوں گا کہ نائن الیون کے بعد اسلامی دنیا کی زکاۃ ہی عالمی قوتوں کا سب سے بڑا ہدف اور ٹارگٹ تھا اور ہے ۔ کہ یہ اسلامی دنیا کوچلانے والی وہ توانائی ہے جس کا جواب اور علاج مغرب کے پاس نہیں ہے۔ ٹیررازم فنڈنگ کی آڑ میں اسلای دنیا کے سینکڑوں اداروں کو بینڈ کیا جاچکا ہے رہی سہی کسر زرخرید مبلغین سے پوری کروائی جارہی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *