سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( دسویں قسط)

تحریر : ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

سلطان کے خاص دستے کے لیے ینی چری کے نوجوانوں کی خدمات لی جاتی تھی اور جب سلطان کسی سفر پر جاتا تو ینی چری کے ڈیڑھ سو (150)نوجوان سلطان کے آگے پیچھے دائیں بائیں سلطان کی حفاظت کے لیے ساتھ موجود ہوتے تھے۔ ینی چری میں جب کوئی سپاہی کمزور یا بوڑھا ہو جاتا تو اس کو کسی قلعے میں بطور چوکیدار رکھ دیا جاتا اور اس کی جگہ تندرست اور تجربے کار سپاہی رکھ کیا جاتا ۔

مندرجہ بالا سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور لشکر کا نظام دراصل ایک تعلیمی نظام تھا اس کے تحت سرکاری اہل کاروں اور فوجیوں کو با قاعدہ ٹریننگ دی جاتی تھی اور پھر ان کی قابلیت کے حساب سے ان کو ان کے عہدوں پر مامور کر دیا جاتا تھا انتخاب کرتے وقت اس کی پوری جان پڑتال کی جاتی دماغی طور پر جسمانی طور پر اور پوری تسلی کر کے اس کو عہدے پر فائز کیا جاتا تھا ۔

سست کمزور ذہن والے افراد کو فوراً اس نظام سے نکال دیا جاتا تھا ان کے لیے اس نظام میں کوئی جگہ نہیں ہوتی تھی اور اگر ان میں کوئی غداری کرتا تو اس کی صرف ایک سزا تھی وہ تھی سزائے موت اور اس غدار کا سر قلم کر دیا جاتا تھا. عثمانی فوج میں نظم و ضبط کی بہت زیادہ سختی کی جاتی تھی اور میدان جنگ میں کوئی ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کر سکتا تھا جب تک سلطان کا حکم نہ ہو ۔

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (نویں قسط)

فوج کی اس طرح ٹریننگ کی جاتی تھی کہ وہ بھوک پیاس میں بھی سفر قائم رکھتے تھے اطاعت فرمانبرداری ان میں خوب بھر دی جاتی تھی اور جنگ کے دوران ان کی رفتار بہت تیز ہوا کرتی تھی جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ان کے گھوڑے عربی نسل کے ہوتے تھے جو بھاگنے میں بہت تیز ہوتے تھے دوسرا عثمانی فوجیوں کے پاس سامان بہت کم ہوتا تھا اور اس کے مقابلے میں یورپی فوجوں کی ایک تو زرئیں ہوتی تھیں جن کو وہ پہن کر سفر کرنے کے عادی تھے دوسرا ان کے گھوڑے عثمانیوں کے مقابلے میں رفتار میں کم حیثیت تھے ۔

عثمانی افواج کی یورپی پر برتری کا اقرار یورپی اور مسیحی معاصرین نے بھی کیا ہے عثمانی حکومت دراصل فوجی حکومت تھی اور حکومت کے سب محکموں میں سب سے زیادہ توجہ جنگ والے محکمے پر دی جاتی تھی دولت عثمانیہ اندرونی اور بیرونی دفاع کے لئے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھتی تھی اور جنگی تیاریوں میں وہ اپنی تمام معاصر طاقتوں پر سبقت لے گئے تھے دفاعی انتظامات میں وہ کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے جنگی اسلحہ کی تیاری اور نۓ ہتھیاروں کی ایجاد میں وہ ہمیشہ مصروف رہتے تھے اور نۓ نۓ راستے تعمیر کرتے تھے کہ ان کو نقل و حمل کرتے وقت کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو فوجیوں کو اسلحہ فراہم کرتے تھے اور فوج کی خوراک کا بہت عمدہ بندوبست کرتے تھے اور فوج کے لباس پر خاص توجہ دی جاتی تھی موسم کے حساب سے ان کا پورا پورا خیال رکھا جاتا تھا اور کوشش ہوتی تھی کہ کسی کو کوئی شکایت نہ ہو ۔

اس کے بر عکس یورپیوں اس چیزوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے اور اپنی فوج کا خیال نہیں رکھتے تھے اس بنا پر ان کے سپاہیوں میں عام بدولی پھیلی ہوئی تھی ۔

مزید پڑھیں: محمد سلطان فتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (آٹھویں قسط)

عثمانی نظام حکومت میں وراثت بے معنی چیز تھی اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کچھ امتیازات اور اعزازات حاصل کر لیتا تھا تو ضروری نہ تھا کہ اس کی اولاد بھی انہیں امتیازات اور حقوق سے بہرہ مند ہو ہر شخص کو اس کی قابلیت کی بنا پر حقوق و مراعات اور اعزازات سے نوازا جاتا تھا اگر اس کی اولاد بھی اسی طرح لائق ہوتی تھی تب تو اسے ان اعزازات اور حقوق و مراعات کا حق دار سمجھا جاتا تھا ورنہ نہیں یورپ کی طرح وہاں طبقاتی تفادت بالکل نہ تھے دولت عثمانیہ کے اوائل میں تمام اقتدار سلطان کی ذات میں مرکوز ہوتا تھا اور سلطان رعایا کے تمام افراد سے کامل مساوات کرتا تھا اسی لیے سلطان کسی غریب اور تہی دست انسان کو اس کی قابلیت کی بنا پر کسی بڑے عہدے پر فائز کر دیتا تو دوسرے ترکوں میں مال دولت سے بڑھے ہوئے ہوتے تھے اس کے خلاف بعض و عداوت اور حسد کا کوئی جزبہ پیدا نہ ہوتا تھا کیونکہ حکومت کی پالیسی ہی اس نہج پر چلائی جا رہی تھی کہ اس کے نیتچے میں رعایا میں مساوات کا شعور عام تھا اور کوئی شخص محض اپنی امارات کی وجہ سے کسی غریب اور مفلس انسان کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھتا تھا..

جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں حکومت کی زیادہ تر توجہ داخلی اور خارجی دفاع اور مملکت کی علاقائی توسیع کی جانب مبذول تھی اور یہ کام اس وقت تک پورے طور پر انجام نہ دیا جا سکتا تھا جب تک لوگوں کے مذہبی جذبات کو نہ ابھارا جاتا مذہبی جذبات کو ابھارنے سے ان میں بے پناہ جوش و خروش پیدا ہو جاتا تھا اور طرف سے آنکھیں بند کر کے اور تمام ممکنہ خطرات اور مشکلات کو نظرانداز کرتے ہوئے دیوانہ وار میدان جنگ میں کود پڑتے تھے ۔

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ساتویں قسط)

دفاعی امور کے بعد حکومت کی توجہ مملکت کے عام نظم و نسق کو بہتر بنانے اور اسے ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کی جانب رہتی تھی اور وہ اس فرض سے بھی بحسن و خوبی عہدہ بر آ ہو رہی تھی ۔

سلطنت کی قوت و طاقت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس کے ابتدائی سلاطین بہت سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے وہ ایرانیوں اور بازنطینیوں کی طرح شان و شوکت کے فضول مظاہروں کو پسند نہ کرتے تھے جب نماز کے لئے مسجد میں جاتے تھے تو عام کپڑوں میں ہی جاتے تھے اور ان کے ساتھ کوئی باڈی گارڈ نہیں ہوتا تھا اور ان کے لیے مسجد میں کوئی خاص اہتمام بھی نہیں ہوتا تھا اور جہاں جگہ ملتی تھی دوسرے نمازیوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرتے تھے یہاں تک کہ اگر کوئی اجنبی وہاں ہو تو اس کو اندازہ نہ ہو کہ اس مملکت کا سلطان ان کے بیج میں موجود ہے یہ حالت سلطان فاتح کے قسطنطنیہ فتح کرنے تک رہی فتح کے بعد چونکہ سلطان کو صرف ترکوں کی سربراہی حاصل نہ تھی بلکہ اس کی حیثیت عملاً بازنطینی شہنشاہ کے جانشین کی ہو چکی تھی اس لیے بازنطینی سلطنت کی طرح سلطنت عثمانیہ بھی شان و شوکت کے مظاہرے راہ پانے لگے…..

یورپ کا ردعمل
جب یورپ کی طاقتوں کو قسطنطنیہ کی فتح کا علم ہوا تو ان کی بے چینی کی انتہا نہ رہی انھیں یہ معلوم کر کے بے حد افسوس ہوا تھا کہ جس شہر کی بنیاد قسطنطین نے رکھی تھی اور جسے اب تک مشرق میں مسیحیوں کے سب سے بڑے مرکز کی حیثیت حاصل تھی مسلمانوں کے ہاتھوں میں جا چکا تھا.

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قسط نمبر 6)

بعض یورپی مورخین کا خیال ہے کہ اگر یورپ کی مسیحی طاقتیں اس موقع پر آپس میں اتحاد کر کے مناسب وقت پر بازنطینی حکومت کو کمک روانہ کر دیتیں تو ترک حاصل نہ قسطنطنیہ پر کبھی تسلط حاصل نہ کر سکتے اور اس طرح وسطی یورپ کے لیے جو خطرہ پیدا ہو گیا تھا ٹل جاتا لیکن ان کا یہ خیال غلط فہمی پر مبنی ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ترکوں کو فتح کے تمام مواقع دستیاب تھے اور ان کی قیادت اعلیٰ درجے کے سلطان کے ہاتھ میں تھی اور ان کے پاس قوت طاقت زبردست تھی اور وہ اس وقت دھن کے پکے تھے اور ہر شخص اطاعت اور فرمانبردار تھا لیکن ان کی حریف سلطنت اس تمام صفات سے عاری تھی اس کے علاوہ قسطنطنیہ کے تمام ارد گرد کے علاقے سلطان نے قبضے میں کر لیے ہوئے تھے وہ کب تک ترکوں کا مقابلہ کر سکتے تھے.

اس وقت ترک اتنی قوت حاصل کر چکے ہوۓ تھے کہ قریب و جوار کوئی ایسی سلطنت نہ تھی جو ان کا مقابلہ کر سکتی تھی انھوں نے سرویا کی طاقت کا خاتمہ کر دیا تھا بلغاریا کی شان و شوکت خاک میں ملا دی تھی وارانہ اور کسووا کی خوف ناک جنگوں میں ہنگری کو شکست فاش دے کر اپنی شجاعت اور طاقت کا سکہ اقوام یورپ پر بیٹھا دیا تھا.

ان حالات کی موجودگی میں نہ تو یورپ میں مسلمانوں کے خلاف اتحاد کرنے کی جرات تھی اور نہ وہ بازنطینی سلطنت کے لیے کوئی لشکر بھیج سکتی تھی ان پر یہ امر بھی اچھی طرح واضح ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ان کا اتحاد کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور وہ ترکوں کو کسی طرح مغلوب نہیں کر سکتے اس سے قبل ترک کئی بار ان کی اتحاد کی کوشش کو خاک میں ملا چکے تھے نیکو پولیس کی عبرت ناک شکست یورپ کے ذہنوں سے ابھی محو نہ ہوئی تھی حالانکہ اس موقع پر تمام یورپ مسلمانوں کے متحد ہو گیا تھا اس شکست کے بعد اہل یورپ کسی مزید تجربے کے لیے تیار نہ تھا.

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (پانچویں قسط)

مزید برآں مسلمانوں کے خلاف اتحاد کی کوششیں اس وقت تک بار آور نہ ہو سکتی تھی جب تک سامان جنگ خریدنے کے لیے کثیر رقم فراہم نہ ہوتی لیکن یورپی طاقتیں ایسی جنگوں میں مال و دولت اور طاقت خرچ کرنے کو تیار نہ تھے جن کے انجام کے متعلق کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا بلکے زیادہ امکان یہ ہی تھا کہ ان کو فاتح کی بجائے شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا.

مسیحی طاقتوں کا جذبہ مخالفت گو سرد پڑ چکا تھا لیکن پوپ یونانی کلیسا کے ساتھ اپنے ہزار اختلافات کے باوجود اس بات کو برداشت نہ کر سکتا تھا کہ مسلمان اس طرح آسانی کے ساتھ ایک مسیحی سلطنت کو فاتح کر لے آن کو ڈر تھا کہ آئندہ مسلمان ان علاقوں کی طرف قدم بڑھائیں گے جو کلیساۓ روم کے پیرو کار ہیں اور پوپ کو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں اس طرح یورپ سے کلیساۓ روم کے اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا ۔

اسی خطرے کے پیش نظر پوپ بیوس دوم نے جوش خطابت اور سیاسی مہارت کو کام میں لا کر ایک نئی صلیبی جنگ کی تیاری اور یورپ کو ترکوں کے خلاف متحد کرنے کی کوششیں شروع کر دیں پہلے تو اس نے چاہا کے ترکوں کو کسی طرح مسیحیت قبول کرنے پر آمادہ کیا جائے اس غرض کے لیے اس نے ایک خط سلطان کے نام لکھا جس میں اسے گناہوں سے توبہ کر کے مسیحیت قبول کرنے کو کہا ظاہر ہے اس کا انجام سواۓ نا کامی کے علاوہ کیا تھا ۔ اس نا کامی کے بعد اس نے اپنا دوسرا ہتھیار استعمال کیا یعنی ایک طرف تو قوت و طاقت کے استعمال کی دھمکی دے کر سلطنت عثمانیہ کو مرغوب کرنا چاہا دوسری طرف دوسری طرف مسیح طاقتوں پر زور دینا شروع کیا کہ وہ اپنے آپ کو ایک نئی صلیبی جنگ کے لیے تیار کریں اور بری اور بحری حملوں کے ذریعے ترکوں کے خلاف اپنی جدوجہد کا آغاز کر دیں تا کہ ترکی یورپ کی طرف مزید پیش قدمی سے باز رہیں اور دین مسیحی ہر طرح سے محفوظ ہو جائے ۔

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (چوتھی قسط)

لیکن مغربی طاقتوں اور خصوصاً اطالوی جہمورتیوں نے پوپ کے منصوبے میں شرکت کرنے سے معذری ظاہر کی حالانکہ ترکی حملہ کا خطرہ سامنے نظر آ رہا تھا اس کے برعکس انھوں نے ترکوں سے اپنے تعلقات خوشگوار بنانے کی سعی شروع کر دی بعض حکومتوں نے پوپ کی اپیل پر اس کی مدد کرنے کا وعدہ تو کر لیا لیکن جب وقت آیا تو انھوں نے داخلی مشکلات کا عذر کر کے اپنا دامن بچا لیا انگلستان اپنے دستوری مشاغل اور خانہ جنگی میں مصروف تھا فرانس کی داخلی حالت بھی ایسی نہ تھی کہ وہ ترکوں کے ساتھ جنگ چھیڑ کر ایک مزید درد محاذ کھول لے جس سے اس کی طاقت کم ہو جاتی ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس زمانے میں یورپی طاقتوں میں دین مسیحی کی حمایت کا جذبہ سرد پڑ چکا تھا اور اس کی بجائے ان میں قومیت اور وطنیت کا جذبہ پروان چڑھ رہا تھا۔ پوپ کے دل و دماغ پر اس نا کامی کا بہت برا اثر ہوا اور اس کی صحت آہستہ آہستہ جواب دینے لگی کچھ ہی عرصے بعد وہ یہ حسرت دل میں لیے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گیا اب صرف ہنگری اور وینس کی سلطنتیں ترکوں کے مقابلے میں باقی رہ گئیں ۔

دوسرا یورپ قسطنطنیہ کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھڑا بھی کیسے سکتے تھے جبکہ خود ان کے درمیان سخت اختلافات چل رہیں تھے اور ایک فریق دوسرے فریق کا جانی دشمن بنا ہوا تھا 1454 ء(858 میں یورپی طاقتوں اور اطالوی نے ترکوں کے خلاف متحدہ محاذ بنایا تھا لیکن یہ اتحاد زیادہ عرصے تک قائم نہ رہا سب سے پہلے جمہوریہ وینس نے اس سے علیحدگی اختیار کر کے ترکوں سے دوستی کا معاہدہ کر لیا تا کہ اس طرح وہ مشرق قریب میں اپنے مفادات محفوظ کر سکے ادھر جزیرہ نما اٹلی میں خانہ جنگی پھوٹ پڑی اور کیتھولک مذہب کے پیروں کاروں نے ترکی کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے کی بجائے یوحنا ہوس کے مبلغین پر مظالم ڈھانے شروع کر دیے ۔

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (چوتھی قسط)

یورپ میں دیگر فتوحات

• فتح یونان

سلطان محمد ثانی نے صرف تئیس برس کی عمر میں قسطنطنیہ کو فتح کیا تھا یہ امر قابل ذکر ہے کہ دیگر عظیم سپہ سالاروں نے بھی اسی عمر میں عظیم الشان فتوحات حاصل کی تھیں. سکندر مقرونی نے اکیس برس کی عمر میں جوانیکوس کی جنگ کے موقع پر ایرانیوں کے مقابلے میں زبردست فتح حاصل کی تھی اور نپولین بونا پارٹ نے چھبیس برس کی عمر میں لودی کے معرکہ میں آسڑیا کو زبردست شکست دی تھی ۔

قسطنطنیہ کی عظیم الشان فتح کے بعد بھی سلطان چین سے نہیں نہ بیٹھا وہ جنگ کا دھنی تھا اور اس کی ساری عمر میدان جنگ میں یا جنگ کی تیاری میں گزری اس زمانے میں بلقان کی سیاسی حالت اس بات کا تقاضا کر رہی تھی کہ سلطان اس جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرے. بلقان اور جزیرہ نما یونان میں کوئی پائیدار اور متحدہ سلطنت قائم نہ تھی بلکہ یہ علاقے مختلف امارتوں میں تقسیم تھے ہر علاقے کا حاکم (دوق) ہوتا تھا جو آپنی جگہ خود مختار ہوتا تھا چونکہ یہ امارتیں منتشر تھیں اور ان کے مابین کسی قسم کا اتحاد نہ تھا اس لیے انھیں عثمانی خطرے کا احساس تک نہ ہوا..

پندرہویں صدی کے اوائل میں اہل وینس پیلو بوبیز (بلاو موریا) جزیرہ کریٹ اور بحیرہ ایچین کے بہت سے جزیروں پر قابض تھے اگرچہ جزیرہ نما موریا کے بعض حصے بعد میں فرانسیسیوں کے زیر تسلط آگے تا ہم ساحل کے بہترین علاقے اور بحیرۂ ایچین کے جزائر بد جمہوریہ وینس کے قبضے میں رہے بعد میں ہسپانوی اور اطالوی باشندوں نے بھی یہاں آ ڈیرہ جمایا ۔

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

رفتہ رفتہ ان علاقوں میں بد نظمی پیدا ہونے لگی جس نے کچھ مدت میں شدت اختیار کر لی اطالویوں اور فرانسیسیوں میں لا متناہی جنگ و جدل اور داخلی تنازعات کا سلسلہ جاری ہو گیا بالا آخر فرانسیسیوں کو اطالویوں کے سامنے ہار ماننی پڑی اور وہ ان علاقوں کو خالی کر کے چلے گئے اطالویوں نے ہسپانویوں کو بھی یہاں سے جانے پر مجبور کر دیا اس کش مکش کے دوران میں ترکوں نے بھی اپنی کارروائی جاری رکھی ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ کسی فریق کے خلاف دوسرے فریق کی مدد کرتے اور جب یہ دیکھتے کہ دونوں فریق باہمی جنگ و جدل کے باعث کمزور ہو چکے ہیں تو ان کے علاقوں پر قبضہ جما لیتے..

اس بد نظمی اور انتشار کے باعث بلقان اور جزیرہ نماۓ یونان کے لوگ عجیب مصیبت میں مبتلا ہو گئے آۓ دن کی شورشوں کے نتیجے میں انھیں اپنے گھر باہر چھوڑ کر مارا مارا پھرنا پڑتا تھا ان کی غیر حاضری میں قریبی ریاستوں مثلاً البانیا وغیرہ کے لوگ آ کر ان کی جگہوں پر قابض ہوتے تھے اور اس طرح جنگ و جدل کا سلسلہ برابر جاری رہتا تھا جس میں بیسیوں شہر اور بستیاں ویران ہو جاتی تھیں اس صورت حال کا خاتمہ سلطان محمد فاتح نے آ کر کیا ۔

سلطان محمد فاتح پہلا شخص نہ تھا جس نے ان علاقوں پر فوج کشی کی تھی اس سے پہلے سلطان بایزید اول اور سلطان مراد ثانی نے بھی اپنے جرنیلوں کو بھیج کر ان علاقوں کو تخت و تاراج کر چکے تھے لیکن سلطان محمد فاتح سے پہلے کسی سلطان کے قدم یہاں مضبوطی سے نہ جم سکے ۔

یونانی خود مختار امارتوں میں سب سے بڑی امارات ایتھنز کی تھی لیکن انتشار اور بد نظمی یہاں انہتا کو پہنچ چکی تھی جہاں کا حاکم مر چکا تھا مرتے وقت اس نے اپنا جانشین آپی بیوی اور بچے کو بنایا تھا لیکن اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی بیوی نے عشق و محبت کا کاروبار شروع کر دیا اور ایک علاقے کے حاکم کو اپنی زلف محبت میں الجھا لیا شادی کی شرط یہ طے پائی کہ حاکم پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے تا کہ اس کی راہ میں کوئی کانٹا حائل نہ رہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور دونوں کی شادی ہو گئی لوگوں کو یہ بات بہت نا گوار گزری اور انھوں نے سلطان محمد فاتح کی خدمت میں درخواست کی کہ وہ ایک فوج بھیج کر دونوں کو ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھاۓ اس نے ایک اور علاقے کے دوق کو بھیج دیا جس نے جا کر عورت کو قاتل کر دیا تا ہم اس علاقے کے انتشار اور بد نظمی میں کوئی کمی نہ آئی یہ دیکھ کر سلطان محمد فاتح نے اپنے ایک سپہ سالار عمر بن طرخان کو ایتھنز بھیجا تا کہ وہاں جا کر امن و امان اور نظم و ضبط قائم کرے اور مفسدوں اور شرارت پسندوں کو کڑی سزائیں دے بعد میں سلطان محمد فاتح نے کامل امن و امان قائم کرنے کی غرض سے خود بھی سر زمین یونان کا قصد کیا ۔

1458ء(863ھ)میں وہ جزیرہ نما موریا پہنچا اور وہاں کے قلعوں پر بآسانی قابض ہو گیا پادریوں نے شہر کے دروازے اس کے لیے کھول دیے اور بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا موریا سے وہ ایتھنز پہنچا اور کچھ عرصے تک وہاں قیام کیا دو سال کے عرصے میں جزیرہ نماۓ یونان کے تمام حصوں پر سلطان محمد فاتح کا تسلط قائم ہو گیا اور یہ علاقہ انیسویں صدی کے ربع اول تک سلطنت عثمانیہ کی عملداری میں شامل رہا ۔

مزید پڑھیں: ترکی کا عالمِ دین انمول مثال بن گیا
• سرویا کی اطاعت گذاری

فتح قسطنطنیہ سے قبل بلقان اور خصوصاً سرویا کے امراء کے متعلق سلطان کی پالیسی یہ تھی کہ ان کے ساتھ دوستی اور صلح کے معاہدے کیے جائیں اور جس حد تک ممکن ہو انھیں اپنے سے ناراض نہ کیا جائے تاکہ وہ ان کی طرف سے بے پرواہ ہو کر ان عظیم مہم کو کامیابی سے انجام دے سکے شمالی سرویا کی طرف سے جس کا حکمران جارج برینکو ویچ تھا اسے کبھی حقیقی اطمینان نصیب نہ ہوا تھا یہ شخص کبھی ہنگری کے ساتھ اتحاد کر لیتا تھا اور کبھی ترکوں سے معاہدہ صلح کر کے خراج دینے پر آمادگی ظاہر کر دیتا تھا اس علاقے میں فوجیں نا ممکن تھا اس لیے اس کے اس معاہدے کی تجدید پر ہی اکتفا کیا جو سلطان مراد ثانی نے شمالی سرویا سے کیا تھا اس معاہدے کی رو سے سرویا کو ہر سال ایک قلیل رقم بطور خراج ادا کرنی پڑتی تھی ویسے داخلی معاملات میں وہ بالکل خود مختار تھا سلطان مراد ثانی نے سرویا کے ایک سردار کی بیٹی سے شادی کی تھی والدہ کی وفات کے بعد سلطان محمد فاتح نے خیر سگالی کے طور پر اسے اعزاز و اکرام کے ساتھ اس کے وطن واپس بھیج دیا اور اس کے اخراجات کے لئے ایک خطیر رقم مقرر کر دی ۔

سلطان کی اصل غرض یہ تھی کہ قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران میں وہ جارج برینکو ویچ کو ہنگری کے ساتھ مل جانے سے باز رکھے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا دوران محاصرہ میں برینکو ویچ نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی جس سے ترکوں کو نقصان پہچنے کا اندیشہ ہوتا. فتح قسطنطنیہ کے بعد اس نے سلطان کو مبارکباد بھی کہلا بھیجی اور سالانہ خراج بھی ادا کر دیا بایں ہمہ سلطان کے دل سے اس کی سابقہ معانرانہ کارروائیوں کی یاد فراموش نہ ہوتی تھی اور وہ دل میں سرویا کو فتح کرنے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے تھا ۔

قسطنطنیہ کی فتح سے فراغت پانے کے بعد وہ ایک زبردست لشکر لے کر بلغراد روانہ ہوا جو اگرچہ سرویا کی شمالی سرحد پر واقع تھا لیکن اس وقت ہنگری کے قبضے میں تھا اس مہم کی غرض یہ تھی کہ سرویا اور ہنگری دونوں پر ضرب کاری لگائی جائے اور انھیں عثمانی مقبوضات میں شامل کر لیا جائے اگرچہ سلطان بلغراد پر تسلط حاصل کرنے میں تو کامیاب نہ ہو سکا البتہ فائدہ مند ضرور ہوا کہ اس جنگ میں اس کا شدید دشمن ہویناڈے مارا گیا. برینکو ویچ کا انجام بھی بہتر نہ ہوا اسے قید کیا گیا اور حکومت کا انتظام اس کی بیوی ایرین اور اس کے لڑکے کے ہاتھوں میں آ گیا لیکن بہت جلد ان میں جھگڑے شروع ہو گیۓ جو اس حد تک بڑھے کے لڑکے نے باپ کو قید سے چھڑاونے کے لیے زرفدیہ تک ادا کرنے سے انکار کر دیا کچھ عرصہ بعد ایرین مر گئی اور حکومت کا انتظام برینکو ویچ کے لڑکے کے ہاتھ میں آ گیا اس نے مصالحا نہ روش اختیار کرنی چاہی اور سلطان کو سالانہ خراج ادا کر دیا.. لیکن دوسرے ہی سال اس کا انتقال ہو گیا اور اس کے جانششینوں میں تخت پر قبضہ کرنے کی خاطر سخت کش مکش برپا ہو گئی.. سلطان نے اس بد نظمی کا خاتمہ کرنے کی خاطر 1459ء 864ھ میں سرویا کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا اور یہ علاقہ انیسویں صدی کے اوائل تک دولت عثمانیہ کے قبضے میں رہا ۔

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

ہنگری سے تعلقات کی نوعیت

شمال مغربی جانب سے ہنگری دولت عثمانیہ کی ہمسایہ سلطنت تھی جو فوجی نقطہ نظر مسیحیوں کی سب سے مضبوط طاقت تھی یہاں کے لوگ ترکوں کی طرح جنگجو واقع ہوئے تھے اور یہاں کے بادشاہ اپنے آپ کو مسیحت کے محافظ اور سردار خیال کرتے تھے دیگر علاقوں کے مسیحی بھی ہنگری کو ترکوں کے مقابلے میں ایک زبردست روک سمجھتے تھے اور انھیں یقین تھا کہ یہ سلطنت ترکوں کو وسط یورپ کی طرف کبھی پیش قدمی نہ کرنے دے گی ۔

لیکن یہ طاقتور سلطنت بھی متعدد وجہ کی بنا پر یہ کام سر انجام نہ دے سکی. پہلی وجہ تو یہ تھی کہ جمہوریہ وینس سے اس کی دیرینہ کش مکش چلی آتی تھی کیونکہ یہ ساحل بحیرہ ایڑریا ٹک کی جانب پیش قدمی کرنا چاہتی تھی اور جمہوریہ وینس اس کی راہ میں روک بنی ہوئی تھی اس کش مکش کے باعث یہ سلطنت عثمانیہ کی جانب پوری طرح توجہ مبذول نہ کر سکتا تھا. دوسری وجہ یہ تھی کہ سلطنت ہنگری کا تعلق کلیساۓ روما سے تھا اور وہ کیتھولک مذہب کو دوسرے مذاہب کے پیروکار پر جبرن ٹھونسنا چاہتے تھے.. اس لیے اہل سرویا اپنے علاقہ میں ہنگری کے اقتدار کو نا پسند کرتے تھے اور عثمانی تسلط کو ہنگری کے اقتدار سے بد درجہ بہتر خیال کرتے تھے. ان وجوہات کی بنا پر ترکوں کو یورپ میں قدم رکھنے کا موقع مل گیا ۔

ایک اور وجہ سلطنت ہنگری کی کمزوری کی یہ ہوئی کہ شاہان انجونے جو عثمانی سلطنت کے قیام کے وقت ہنگری پر حکمران تھے وہاں کے مقامی رسوم و رواج کو مٹا کر مغربی تہذیب و تمدن کی ترویج شروع کر دی. یہ چیز وہاں کے باشندوں کے لیے سخت اشتعال کا موجب بنی. اس طرح حکومت اور عوام کے درمیان کش مکش شروع ہو گئی. حصول اقتدار کی جدوجہد اس کے علاوہ تھی.. بالآخر ایک ہنگروی امیر سجسمنڈ تخت پر بیٹھا. لیکن اس کے عہد میں بھی باشندگان ملک کو اطمینان اور سکون نصیب نہ ہوا اور اس کے ابتدائی عہد ہی سے شورشیں برپا ہونی شروع ہو گیئں ۔

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

صورت حال دیکھ کر ترکوں کو جرات پیدا ہوئی اور انہوں نے سرحدوں پر حملے شروع کر دیے سقوط سرویا کے بعد ان حملوں نے مزید شدت اختیار کر لی تھی ۔

ہنگریوں کے لیے مناسب تھا کہ وہ اپنی کوشش صرف دفاع تک محدود رکھتے لیکن انہوں نے سوچا کہ دفاع کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دشمن کو حملہ کا موقع دیے بغیر خود ہی پہل کر دی جائے چنانچہ انھوں نے اپنا دفاع کرنے کی بجائے خود ترکوں پر حملہ کرنے کے منصوبے بنانے شروع کر دیے.. چونکہ ان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اکیلے ترکوں کی عظیم قوت کے آگے ٹھہر سکتے اس لئے انہوں نے جرمنی اور فرانس سے مدد مانگی ۔

یہ دونوں سلطنتیں بھی رومن کیتھولک مذہب کی پیرو کار اور ان کا خیال تھا کہ صرف ہنگری ہی ترکوں کے قدم وسطی یورپ میں بڑھنے سے روک سکتی ہے اس لیے انھوں نے بڑی خوشی سے حامی بھر لی اور بھاری لشکر ہنگری کی مدد کے لیے روانہ کیے چنانچہ 1396ء 795 ھ میں نیکوپولیس کا تاریخی معرکہ پیش آیا جس میں جرمنی فرانس اور ہنگری کی مشترکہ فوجوں کو ایک عبرتناک شکست ترکوں کے ہاتھوں کھانی پڑی ۔

سجسمنڈ میدان جنگ سے بری طرح بھاگا اور اگر عین وقت پر بعض اہل وینس اس کی مدد نہ کرتے تو وہ ضرور ترکوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر قتل کر دیا جاتا ۔

مزید پڑھیں: سلطان محمود غزنوی اور محبتِ رسولﷺ

سجسمنڈ بہت ظالم بادشاہ تھا اس لیے اہل ملک اسے پسند نہ کرتے تھے اور آۓ روز اس کے خلاف بغاوتیں ہوتی رہتی تھی ایک مرتبہ تو باغیوں نے پکڑ کر اسے قید کر دیا لیکن حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ باغیوں کو اسے چھوڑنا اور دوبارہ تخت پر بٹھانا پڑا، ہنگریوں کی بد قسمتی سے 1411ء 814 ھ میں اہل جرمنی نے بھی اسے بادشاہ تسلیم کر لیا اس طرح ہنگری کی مستقل حیثیت ختم ہو گئی اور اس کے مصالح و مفادات جرمنی کے تابع ہو کر رہیں گئے ۔

دریں اثناء ہنگری اور اس کی ہمسایہ سلطنت وینس کے درمیان پھر تنازعات شروع ہو گیۓ جن میں ہنگری ہی کو نقصان اٹھانا پڑا… معاملہ یہی تک محدود نہ رہا سجسمنڈ کو بوہیمیا کا بادشاہ بھی منتخب کر لیا گیا اس طرح ایک ایسے شخص کے سر پر تین تین تاج رکھ دیے گئے جو ایک تاج کا بوجھ بھی برداشت بہ کر سکتا تھا ۔

سجسمنڈ کی مصروفیات بڑھ جانے کے ساتھ اس کی مشکلات میں بھی آ ضافہ ہو گیا ملک میں؛؛ حنا ہوس؛؛ نام کی ایک جماعت پیدا ہو گئی تھی جو مساوات کی علمبردار تھی اور حکومت کو عوام کا حق سمجھتی تھی اس کے نظریات کو لوگوں میں بہت فروغ حاصل ہوا اور اس کے حامیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا سجسمنڈ کو یہ دیکھ کر بہت تشویش ہوئی اور اس نے اسے خلاف قانون جماعت قرار دے کر اس کی سرگرمیاں ختم کرنا چاہیں. لیکن جماعت کے حامیوں کو یہ بات کیونکر گوارا ہوتی. وہ سجسمنڈ کے خلاف آٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی پریشانیوں میں مزید آ ضافہ ہو گیا ۔

تا ہم ان مصائب و مشکلات کے باوجود ہنگری کی سلطنت ابھی تک کافی طاقتور تھی کیونکہ اول تو سجسمنڈ نے ملک کی جنوبی حدود کو جو ترکی سلطنت سے ملحق تھی کافی مضبوط کر لیا اسی طرح بلغراد کو بھی ایک اول درجے کے قلعہ میں تبدیل کر دیا تھا. دوسرے اس نے ہنگری کی فوج کو طاقتور بنانے میں کافی جدوجہد سے کام لیا اور ایسا انتظام کیے کہ ضرورت پڑنے پر بلاتا تا خیر ایک لشکر جرار فراہم ہو سکتا تھا ۔

مزید پڑھیں: مہنگائی و بے روزگاری کی وجہ سے وزیر اعظم فوری مستعفی ہوں : مہر سلطانہ ایڈوکیٹ

تیسرے حکومت نے دریائے ڈینیوب میں ایک مضبوط دریائی بیڑا تیار کروایا تا کہ اس کے ذریعے جنوبی سرحدوں کی مزید حفاظت ہو سکے چوتھے ہنگروی سپاہ کی قیادت ایک ایسے شخص کے سپرد کی جو جنگی فنون بہت اچھی طرح جانتا تھا اور بہت ماہر آدمی تھا اور ترکوں سے نبروآزمائی کے طریقے اچھی طرح جانتا تھا اس کا نام ہونیاڈے تھا صرف ہنگری کے بڑے بڑے سرداروں اور بہادروں نے اس کی اطاعت قبول نہ کی تھی بلکہ سرویا سے بھی بہت سے بہارد لوگ ہنگری پہچ کر اس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے تھے جس سے ہنگری کی فوج کی طاقت میں بے پناہ آ ضافہ ہو گیا تھا ۔

انہی وجہ کی بنا پر ہنگری یونان سرویا اور بلغاریا کی نسبت بہت زیادہ عرصے تک ترکوں کے بے درپے حملوں کا مقابلہ کرتا رہا لیکن اس کے باوجود اس میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ آگے بڑھ کر خود ترکی علاقوں پر حملہ کرتا اس نے جب بھی ایسی کوشش کی منہ کی کھائی اور فوج کا سپہ سالار جونس ہونیاڈے بھی جو ترکوں کا بد ترین دشمن اور بہترین مد مقابل تھا اسے شکست و نا مرادی سے نہ بچا سکا ۔

جانس ہونیاڈے کی قیادت کے باعث ہنگری کو ترکوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے میں مسیحت کے دفاعی مرکز کی حیثیت حاصل ہو گی۔ ہونیاڈے ایک فوجی سردار تھا جو مغربی یورپ سے آ کر سجسمنڈ شاہ ہنگری کی ملازمت میں داخل ہو گیا تھا. چند ہی دنوں میں اس نے اپنے عظیم کارنامے کی بدولت تمام ملک پر اپنی دھاک بٹھا دی ۔ بادشاہ نے اسے بہت کچھ مال و متاع اور اعزاز و اکرام سے نوازا اور اسے ترکی سے ملحقہ سرحد پر ایک جاگیر عطا کی اس جاگیر کی حفاظت کی خاطر اس کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ ہر ممکن طریقے سے ہنگری میں ترکوں کی پیش قدمی کو روکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہنگری اور سلطنت عثمانیہ میں جنگ و جدل کی بیشتر ذمہ داری جانس ہونیاڈے پر تھی اور جنگ کا ایک بوجھ اس نے کلیتہ اپنے کندھوں پر آٹھایا ہوا تھا ۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *