محمد سلطان فتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (آٹھویں قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ
قسط نمبر 8

فتح قسطنطنیہ

شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش میں متعدد بار نا کام ہونے کے باوجود سلطان محمد ثانی مایوس اور بد دل نہ ہوا. بلکہ اس کے عزم پہلے سے زیادہ پختگی پیدا ہوتی گئی اسی دوران میں وہ مہم واپس واپس قسطنطنیہ واپس آ چکی تھی جسے شہنشاہ نے وینس کے اس بحری بیڑے کی تلاش میں بھیجا تھا جس کے متعلق اس کا خیال تھا کہ وہ بحیرۂ ایحبین میں موجود ہے شہنشاہ کا خیال تھا اگر یہ بیڑا قسطنطنیہ پہنچ گیا تو جنگ کا پانسہ پلٹ جائے گا. لیکن اور اس کی مدد سے عثمانیوں کو بآسانی شکست دے کر شہر کا محاصرہ ختم کرنے پر مجبور کر سکے گا. لیکن اس مہم کو بیڑے کا سراغ نہ مل سکا اور اسے مایوس ہو کر واپس آنا پڑا. جب اہل شہر کو اس مہم کی نا کام کا حال معلوم ہوا تو ان پر گویا بجلی گر پڑی اور شہنشاہ کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے. اس بیڑے سے ان کی بہت سی توقعات وابستہ تھیں اور ان کی امیدوں کا آخری سہارا تھا لیکن یہ آخری سہارا بھی ختم ہو گیا اور ان کی آرزوؤں حسرتوں میں تبدیل ہو گئیں…

یہ 23 مئی 1453ء 14 جمادی الثانی 857ء کی شام کا واقعہ ہے. اہل قسطنطنیہ کو معلوم تھا کہ جونہی ترکوں کو اس مہم کی نا کامی کا حال معلوم ہو گا وہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے آخری کوشش شروع کر دیں گے. چنانچہ تمام صورتحال پر غور کرنے کے لیے شہنشاہ نے فوجی افسروں پادریوں اور شہر کے معززین لوگوں کی ایک مجلس بلائی اور ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ان لوگوں نے شہنشاہ کو شہر چھوڑ کر بھاگ جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اگر ہم شہر کو دشمنوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے تو کم از کم اپنے بادشاہ کی جان تو محفوظ کریں لیکن شہنشاہ نے ان کا مشورہ سختی سے رد کر دیا اور کہا کہ اس شہر کے لئے ہزاروں آدمیوں نے اپنی جانیں دی ہیں. میں بھی میدان جنگ میں لڑ کر مر جانا منظور کروں گا لیکن موت کے خوف سے بھاگ کر بزدلی اور نا مردی کا داغ اپنے اوپر لگوانا قبول نہ کروں گا..

دوسری طرف ترکوں کو یقین تھا کہ اگر انھوں نے ہمت اور صبرو استقلال کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی تو وہ دن دور نہیں جب قسطنطنیہ کی فصیل پر عثمانی جھنڈا لہراتا نظر آئے گا چنانچہ انھوں نے گولہ باری کا سلسلہ شب و روز جاری رکھا گولہ باری کے لئے انھوں نے تین مقامات منتخب کیے ہوئے تھے باب اورنہ باب سینٹ تومانوس اور باب الحربی کیونکہ یہ مقامات دفاعی لحاظ سے کمزور تھے اور یہاں کی فصیلیں بہت نازک ہو چکی تھیں…

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

جب سلطان نے دیکھا کہ شہنشاہ کسی طرح ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تو اس نے اسماعیل حمزہ اسفندیار کو اس کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ جنگ جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں شہر جلد یا بدیر مسلمانوں کے قبضے میں آ جائے گا اور اس وقت باشندگان شہر سے وہ ہی سلوک کیا جائے گا جو مفتوحین سے کیا جائے گا اور مال و اسباب چھین کر بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا. اس صورت حال سے بچاؤ کا صرف یہ علاج ہے کہ شہنشاہ شہر کو مسلمانوں کے حوالے کر دے اور خود اپنے اہل و عیال اور حاشیہ نشینوں کو لے کر پیلو بونیز (بلاد موریا) چلا جاۓ اہل شہر میں سے جو اس کے ساتھ جانا چاہئیں وہ بھی بے شک اپبے اہل و عیال اور سامان کے ہمراہ چلے جائیں اس صورت میں نہ صرف یہ کر تمام باشندگان قسطنطنیہ کو امان دے دی جائے گی اور ان کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی بلکہ شہنشاہ کو بلاد موریا کی حکومت بھی سپرد کر دی جائے گی…

اسفندیار کے قسطنطین سے قدیمی تعلقات تھے اس لیے اس نے شہنشاہ کو صلح پر آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی. بعض مورخین کا خیال ہے کہ سلطان کی یہ پیش کش خلوص نیت پر مبنی نہ تھی وہ اس طرح صرف باشندگان قسطنطنیہ کی نفسیاتی حالت کا اندازہ لگانا چاہتا تھا لیکن ہمیں سلطان کی نیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اسے پہلے ہی سے علم تھا کہ شہر والے آخری دم تک مقابلہ کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور مزید خون ریزی سے بچنے کے لیے قسطنطین کو صلح کی پیش کش کی تھی ورنہ یہ تو اسے معلوم ہی تھا کہ اگر یہ پیش کش قبول نہ بھی کی گئی تب بھی شہر بالا آخر اس کے قبضے میں آ ہی جائے گا…

تاہم کچھ بھی ہو شہنشاہ قسطنطین نے صلح کی یہ پیش کش قطعی طور پر نا منظور کر دی اور سلطان کو واشگاف الفاظ میں بتا دیا کہ وہ اپنے دارالحکومت کو جس پر ایک ہزار سال سے اس کے آباو اجداد حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں کبھی بھی چھوڑ سکتا اور قسطنطنیہ کے بدلے اور کسی علاقے کی حکومت قبول نہیں کر سکتا وہ آخری دم تک سلطان کی فوجوں کا مقابلہ کرے گا اور سلطان کی اطاعت پر موت کو ترجیح دے گا….

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ساتویں قسط)

جب سلطان اس طرف سے مایوس ہو گیا تو اس نے شہر پر حملے کے لیے اپنی پوری قوت کو بروئے کار لانے کا تہیہ کر لیا 27 مئی 1453ء 18 جمادی الثانی 857ھ کو اس نے اپنے خیمے میں اعلٰی افسروں کی جنگی مجلس مشاورت بلائی اس مجلس میں اس کے سامنے دورائیں پیش کی گئیں پہلی رائے بوڑھے وزیراعظم پاشا کی تھی جس میں احتیاط کا مادہ بد درجہ زیادہ پایا جاتا تھا سلطان نے اگرچہ اسے اس کے عہدے پر برقرار رکھا ہوا تھا تاہم اس کے مشوروں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا تھا بعض لوگ اس پر مسیحیوں سے نرمی کا برتاؤ کرنے کا الزام بھی لگاتے تھے.

خلیل پاشا کی رائے یہ تھی کہ موجودہ مرحلے پر شہر کو حاصل کرنے کے لیے اس قدر سخت جدوجہد اور خونریزی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ شہر مسلمانوں کے قبضے میں آ ہی جانا ہے اس کے علاوہ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ کیا یورپ قسطنطنیہ پر مسلمانوں کا تسلط خاموشی سے برداشت کر لے گے خلیل پاشا کے خیال کے مطابق یورپ مسیحیت کے اس آخری قلعے کو مسلمانوں کے قبضے میں دیکھنا کسی صورت میں بھی گوارا نہیں ہو گا. جمہوریہ وینس ہنگری کو اپنے ساتھ ملا کر ضرور قسطنطنیہ پر حملہ کر دے گا اور اپنے بحری بیڑے کی مدد سے اس پر قابض ہونے کی ہر ممکن کوشش کریں گا اپنی تائید میں خلیل پاشا نے یہ دلیل بھی پیش کی تھی کہ ہمیں شہر کا محاصرہ کیے ہوئے کافی دن ہو گئے ہیں اس دوران میں شہر پر قبضہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور ترکوں نے اس راہ میں بھاری قربانیاں پیش کیں لیکن ہماری ابھی تک کی تمام جدوجہد بے سود گئی ہے اور ہمیں کامیابی نصیب نہیں ہوئی اس لیے بہتر ہے کہ فی الحال شہر پر قبضے کا خیال ترک کر دیا جائے اور اس وقت تک انتظار کیا جائے جب تک ترکوں کی طاقت اس قدر مضبوط نہ ہو جائے کہ وہ آسانی سے اس شہر پر تسلط حاصل کر سکیں…

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *