سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ساتویں قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ
قسط نمبر 7

حقیقت یہ ہے کہ بادی النظر میں یہ کام معجزہ دکھائی دیتا ہے اور ایک ہی رات میں طویل راستے پر تختے بچھا کر کشتیوں کو ان پر چلانا اور راہ میں حائل ہونے والے متعدد بلند بالا ٹیلوں پر انھیں چڑھا کر صبح ہونے سے پہلے پہلے گولڈن ہارن میں اتارنا دینا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے.. جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت کی طرف سے سلطان کو کس قدر اعلیٰ دماغ و دیعت کیا گیا تھا اور وہ کیسے مضبوط عزم ارادے کا مالک تھا. اس کے علاوہ اسے ساتھی بھی ایسے ملے تھے جو اس کے ہر حکم کی بجا آوری کو فرض عین سمجھتے تھے اور ہولناک مصائب اور مشکلات کی قطعاً پروا نہ کرتے تھے.

اس عظیم کارنامے کی بجا آوری کے سلسلے میں ترکی انجینروں کی کس قدر تعریف کی جائے کم ہے. خود معاصر اور غیر ملکی مئورخین نے بھی ان کی لیاقت اور بے نظیر صلاحیتوں کی دل کھول کر تعریف کی ہے جن سے کام لے کر انھوں نے اس بظاہر نا ممکن کام کو ممکن کر دکھایا اور گولڈن ہارن کی محفوظ آبناۓ باسفورس کو غنوس پاشا کر رحم و کرم پر لا ڈالا..

ترکی بیڑے کی منتقلی کے دوران میں عثمانیوں کا توپ خانہ ایک لمحہ کے لئے بھی خاموش نہ رہا برابر گولہ باری میں مصروف رہا اس سے غرض یہ تھی کہ یونانی جہازوں کو گولڈن ہارن میں پہنچنے والی کشتیوں پر حملہ کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے اور ترکی کشتیاں بحفاظت تمام آبناۓ باسفورس میں پہنچ جائیں..

موجود صورت حال کے پیش نظر بازنطینیوں کے لئے اپنی فوجوں کا ایک حصہ گولڈن ہارن کی جانب منتقل کرنا اور اس طرف کی بوسیدہ فیصلوں کو درست کرنا ضرروی ہو گیا تھا. شہر کا یہ حصہ دفاعی لحاظ سے بہت کمزور تھا اور 1204 ء601 ھ میں اس جانب سے صلیبی شہر پر قابض ہو چکے تھے.. یہی وجہ تھی کہ بازنطینیوں نے گولڈن ہارن کے دہانے کو بند کر کے اس کمزور حصے کا بچاؤ کرنا چاہا تھا..

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

ترکی کشتیوں کے گولڈن ہارن میں پہنچ جانے سے نہ صرف شہر غیر محفوظ ہو گیا تھا بلکہ بازنطینی بیڑے کو بھی سخت خطرہ لا حق ہو گیا تھا اس لیے محاصرین کو ترکی بیڑے پر کڑی نظر رکھنی پڑی تھی تا کہ کہیں وہ بے خبری میں ان کی کشتیوں کو تباہ برباد نہ کر دے. شہر کے دفاع کے ساتھ ساتھ اب انھیں یہ فکر بھی لا حق تھا کہ ترکی بیڑے کو کس طرح تباہ کیا جائے. یہ کام صرف بازنطینی بیڑا سر انجام دے سکتا تھا لیکن اس کے لیے غلطہ کے جینویوں کے تعاون کی ضرورت تھی. ادھر اہل غلطہ سلطان کے خلاف اعلان جنگ کرنے یا کوئی ایسا کام کرنے کے لیے تیار نہ تھے جس سے سلطان کو نقصان پہنچنے کا ڈر ہو. بہت غور فکر کے بعد یہ راۓ قرار پائی کہ غلطہ والوں سے مشورہ لیں اور ان کی رضا مندی کیے بغیر اپنے بحری بیڑے کو بیڑے پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا جائے اور وقت ضائع کیے بغیر بسرعت تمام یہ مہم پایہ تکمیل پہنچا دی جائے..

24 اپریل 1453ء 14 ربیع الثانی 857 ھ کر چار جہاز اس مہم کو سر انجام دینے کے لیے تیار ہوۓ ان کی بد قسمتی سے بیڑا اور غلطہ کے جینویوں نے سلطان کو بازنطینی منصوبے سے آگاہ کر دیا جس پر اس نے فوراً احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں اور گولڈن ہارن میں موجود اپنے جہازوں کو بھاری تعداد میں اسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیا دراصل بات یہ تھی کہ اس زمانے میں جمہوریہ جینوا اور جمہوریہ وینس کے باہمی تعلقات سخت کشیدہ تھے چونکہ ترکی بیڑے پر حملہ کرنے کی مہم میں وینس والے بھی حصہ لے رہے تھے اس لیے محض ان کی دشمنی کے باعث جینویوں نے سلطان کو اس منصوبے کی اطلاع دے دی تا کہ ایک طرف تو اہل وینس کو نیچا دیکھا سکیں دوسری طرف سلطان کو ممنون احسان کر سکیں….

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

تا ہم صورت حال اتنی خطرناک ہو چکی تھی کہ بازنطینیوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ترکی بیڑے پر حملہ کر کے اسے ختم کرنے کی کوشش کریں. وہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ ترکی بیڑے کی قوت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور اگر ابتدا ہی میں اس کا تدارک نہ کیا گیا تو پھر معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا چنانچہ منصوبے کے مطابق 27 اپریل کو تین بڑے جہازوں اور متعدد چھوٹے جہازوں نے ترکی بیڑے کی طرف بڑھنا شروع کیا. لیکن بد قسمتی کے یہاں بھی پیچھا بہ چھوڑا.. بعض جہازوں کے کمانڈروں نے اس خیال سے کہ حملہ کرنے کا شرف انھیں حاصل ہو اگلے جہازوں سے آگے بڑھنا چاہا جس پر لا یک افراتفری مچ گئی اور نظم و ضبط قائم نہ رہا..

ترکی بیڑے کے افسروں نے صورت حال کو بھانپ لیا اور بازنطینی جہازوں پر شدت سے گولہ باری شروع کر دی. کئی جہاز گولہ باری کی تاب نہ لا کر بمعہ سپاہیوں کے غرق ہو گۓ آور جو باقی بچے وہ انتہائی گھبراہٹ کے ساتھ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے اور اس طرح یہ حملہ سرا سر نا کام ثابت ہوا..

قدرتی طور پر اس ہزہمت کا اثر محصورین پر بہت برا پڑا ان کی آرزوئیں اور امیدیں خاک میں مل گئیں اور اپنے آپ پر سے ان کا اعتماد بہت حد تک آٹھ گیا. غرق شدہ جہازوں کے جو ملاح تیر کر کنارے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے انھیں ترکوں نے گرفتار کر لیا اور بازنطینیوں کی نگاہوں کے سامنے شہر کی دیواروں کے نیچے ان کی گردنیں آڑا دیں. اس کے جواب قسطنطین نے اس طرح دیا کہ ڈیڑھ سو کی تعداد میں جو ترک باشندے اس نے قید کیے ہوئے تھے انھیں ترکی فوج کے سامنے شہر کی فصیل پر پھانسی دے دی..

ادھر قسطنطنیہ میں وینس اور جنیوا کے جو باشندے موجود تھے انھوں نے آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کر دیا. ہر فریق اس مہم کی نا کامی کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہراتا تھا. یہ تکرار اس حد تک بڑھی کہ شہنشاہ کو مسیحیت کا واسطہ دے کر اسے ختم کرنا پڑا…

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

ترک بد ستور گولہ باری کے ذریعے شہر کی فیصلوں کو مہندم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے. گولڈن ہارن کے بائیں جانب متعین کی ہوئی فوجوں سے رابطہ پیدا کرنے کے لیے سلطان نے ایک مضبوط پل بھی تعمیر کرایا جس کی وجہ سے ترکوں کو شہر کی فصیل کے کمزور ترین حصوں پر دھاوا بولنے کا موقع بھی مل گیا. یہ دیکھ کر قسطنطین کو اپنی فوج کا ایک حصہ مجبوراً ادھر بھی منتقل کرنا پڑا…

بازنطینیوں کی حالت روز بروز نازک ہوتی جا رہی تھی ان کی فوجی قوت اول تو پہلے ہی کمزور تھی لیکن اس قوت کے منقسم ہو جانے سے تو انھیں نا قابل تلافی نقصان پہنچا. چونکہ انھیں اطمینان قلب نہ تھا اس لیے وہ کسی جگہ بھی جم کر مقابلہ نہ کر سکتے تھے. سامان خوراک کا ذخیرہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا تھا اور یہ دکھائی دے رہا تھا کہ اگر چند روز اور یہی حالت رہی تو شہر والوں کو بھوک کے مارے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا…

اس نازک صورتحال حال کو دیکھ کر شہنشاہ نے ایک بحری مہم اس امید میں بحیرہ ایحبین میں بھیجی کہ وہ وینس کے بحری بیڑے کے کمانڈر سے مل کر اسے فوری امداد کی طرف توجہ دلاۓ گی. لیکن سلطان کی خوش قسمتی سے یہ جو اہل قسطنطنیہ کا آخری سہارا تھی نا کام واپس آ گئی اور اسے وینس کے بیڑے کا پتہ ہی نہ مل سکا….

جب ہر طرف سے مایوسی اور نا امیدی دلوں پر چھا گئی تو بطریق اغظم شہر کے مشہور اشخاص اور جان جسٹیانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ شہر کی جو حالت ہے وہ آپ پر عیاں ہے. ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ قسطنطنیہ کو چھوڑ کر کسی اور جگہ تشریف لے جائیں اور وہاں بیٹھ کر عثمانیوں کے خلاف مقابلے کی تیاریاں کریں. اس طرح دوسری مسیحی طاقتیں بھی آپ کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گی اور آپ قسطنطنیہ کے علاوہ اپنی سلطنت کے باقی حصوں کو بھی ترکوں کے ہاتھوں سے آزاد کرا سکیں گے. جسٹیانی نے اپنی ایک تلوار شہنشاہ کی خدمت میں پیش کی اور شہر سے باہر نکلنے کے سلسلے میں ہر ممکن امداد کا یقین دلایا. شہنشاہ نے بڑی خاموشی سے ان لوگوں کی باتیں سنیں. کچھ دیر تک سر جھکائے غور و فکر کرتا رہا. پھر سر اٹھایا اور اپنے ساتھیوں کے اس خیر خواہانہ مشورے کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا….

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قسط نمبر 6)

ہو سکتا ہے کہ شہر سے نکلنے کے نتیجے میں مجھے ذاتی طور پر کوئی فائدہ حاصل ہو جائے. لیکن اس کے باوجود میرا یہاں سے جانا کسی صورت سے بھی ٹھیک نہیں میں یہاں کے گرجوں کو جن میں دن رات خداوند کی عبادت ہوتی ہے اور اپنے وفادار ساتھیوں اور بہادر شہریوں کو چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں اس صورت میں دنیا مجھے کیا کہے گی مجھے امید ہے کہ آ ہندہ آپ لوگ اس کے متعلق مجھ سے کوئی بات نہ کریں گے میں اپنے ساتھیوں کو کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتا خواہ اس طرح مجھے موت کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے.. یہ تقریر کر کے شہنشاہ رو پڑا اور اس کے ساتھ بھی اس کے ساتھی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے. ..

3 جمادی الاول 857 ھ کو ترکوں نے سلطان کے حکم سے قسطنطنیہ پر ایک شدید حملہ شروع کیا. عثمانی فوج کے حملہ کا نقطہ مرکز دروازہ سینٹ رومانوس تھا. ان کی توپیں فصیل پر گولے برسا رہی تھیں اور اس گولہ باری کی آڑ میں ترک فوج فصیل کے نیچے سرنگیں کھودنے میں مصروف تھی. وہ کسی حد تک اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو گیۓ لیکن بازنطینی فوج نے ایک بار پھر ہمت دکھائی اور شدید سنگ باری کر کے ترک فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا….

ان باشندگان قسطنطنیہ کے دلوں پر اس قدر خوف و ہراس ہو چکا تھا کہ ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جب انھیں ترکوں کے شہر میں گھس آنے کا ڈر لا حق نہ ہوتا تھا. انھیں ہر وقت عالم خیال میں یہی ہی نظر آتا تھا کہ ترک سرنگیں کھود رہے ہیں اور دم بھر میں شہر میں داخل ہونے والے ہیں…

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (پانچویں قسط)

سلطان نے بازنطینیوں کی شدید مقادمت کو بے اثر بنانے کے لیے لکڑی کا متحرک قلعہ بنوایا جسے دیکھ کر محصورین پر پہلے سے بھی بڑھ کر رعب اور خوف و ہراس طاری ہو گیا اور شہر کی دفاعی پوزیشن اور بھی خطرے میں پڑ گئی.. یہ قلعہ شہر کی دیواروں سے بہت اونچا تھا اور اس پر توپیں نصب تھیں جو بڑی آسانی سے شہر کے گولہ باری کر کے بازنطینیوں کے دفاعی انتظامات کو درہم برہم کر سکتی تھیں چنانچہ اس کی گولہ باری سے شہر کی فصیل کے چار برج تباہ ہو گئے اور ان کے ملبے سے خندق کے وہ حصے پٹ گیۓ جہاں یہ برج واقع تھے.. اس متحرک قلعے کی موجودگی میں شہر کا دفاع بظاہر نا ممکن تھا لیکن بازنطینی فوج کی ہمت کی داد دینی چاہیے کہ اس نے شدید جدوجہد کے بعد ترکوں کے اس نئے اور خوفناک ہیتھار کو بھی نا کارہ کر دیا اور آگ کی بارش برسا کر اس متحرک قلعے کو خاکستر کر ڈالا..

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *