فاضل دارالعلوم دیوبند سے ایک ملاقات

فاضل دارالعلوم دیوبند

تحریر : مولانا احسان احمد حسینی


شہر کراچی مدارس دینیہ کے حوالہ سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ملک کے بڑے بڑے دینی ادارے اس شہر میں قائم ہیں۔انہی میں ایک معروف نام جامعہ اسلامیہ انوار العلوم کا بھی ہے۔جو نہ صرف ملک پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنی پہچان آپ ہے۔اس مقبولیت کی وجہ بانی ادارہ حضرت مولانا الحاج زکریا قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کا اخلاص و للّٰہیت تھا ۔

مولانا زکریا قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد جامعہ اسلامیہ انوار العلوم کی مجلس شوری نے انکے صاحبزادہ مولانا اسعد زکریا قاسمی فاضل دارالعلوم دیوبند کو مدرسہ کا مہتمم اس لیئے مقرر کیا کیونکہ وہ علمی کمال اور ذاتی خوبیوں میں اپنے والد محترم کا عکس جمیل ہیں

مولانا اسعد زکریا قاسمی آپ 1963 میں کراچی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم جامعہ اسلامیہ بنوری ٹائون کراچی اور جامعہ خیر المدارس ملتان سے حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند انڈیا سے طریقت و تصوف اور سلوک و معرفت کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور اَخذِ فیض کیا۔ آپ نے علم الحدیث، علم التفسیر، علم الفقہ، علم التصوف والمعرفۃ، علم اللغۃ والادب، علم النحو والبلاغۃ اور دیگر کئی اِسلامی علوم و فنون اور منقولات و معقولات کا درس اور اَسانید و اِجازات اپنے والد گرامی مولانا زکریا قاسمی رحمہ اللہ اور اساتذہ دارالعلوم دیوبند علامہ محمد حسین بہاری ،مفتی سعید پالن پوری ،مولانا ارشد مدنی ،مولانا ریاست علی خان ،مولانا نعمت اللہ خان ،شیخ الحدیث مولانا عبد الحق ،مولانا انظر شاہ کشمیری رحمھم اللہ جیسے کبار علماء سے حاصل کی ہیں جنہیں گزشتہ صدی میں اِسلامی علوم کی نہ صرف حجت تسلیم کیا جاتا ہے، بلکہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مستند و معتبر اَسانید کے ذریعے منسلک ہیں

آپ کے اساتذہ میں عرب و عجم کی معروف شخصیات شامل ہیں یعنی آپ کی ذاتِ گرامی میں دنیا بھر کے شہرہ آفاق مراکزِ علمی کے لامحدود فیوضات ہیں

آپ نے دورِ جدید کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے علمی، فلاحی و تجدیدی کام کی بنیاد عصری ضروریات کے گہرے اور حقیقت پسندانہ تجزیاتی مطالعے پر رکھی، جس نے سندھ کی سطح پرکئی قابلِ تقلید نظائر قائم کیں۔ان کی کوششون کا مظہر صرف جامعہ انوار العلوم کی ترقی اور مضبوطی ہی میں نمایاں اور محدود نہیں ہے بلکہ اس کے نمائندہ خاص ہونے کے تعلق سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دینی رہنمائی کا فریضہ بھی اثر پذیری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں ، مسلمانوں میں جو دینی انحراف یا عقائد کی خرابی پائی جاتی ہےاس کے ازالہ میں تحریر کے توسل سے خصوصی حصہ لیا، فروغِ دین میں آپ کی کاوِشیں منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔ جدید عصری علوم میں وقیع خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ آپ نے احکام القرآن کے نام سے جو قرآن حکیم کے اُلوہی بیان کا لغوی و نحوی، اَدبی، علمی، اِعتقادی، فکری اور سائنسی خصوصیات کا آئینہ دار ہے۔ یہ کتاب کئی جہات سے عصرِ حاضر کی اس عنوان پہ مرتب کی گئی دیگر کتب کے مقابلے میں زیادہ جامع اور منفرد ہے۔ وحدانیت خداوندی اور سیرت کے عنوان پر آپ کی تالیفات ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہیں۔

مولانا اسعد زکریا قاسمی دورحاضر کے باکمال اور صاحبِ بصیرت عالم دین ہیں، علمی بصیرت اور فکر وآگہی کی وسعت میں ان کا کوئی ہمسر نہیں ،مولانا علم دین اور حکمت ودانش کے بلند پایہ عالم ہیں انھوں نے اپنے عظیم مورث اور علوم دینیہ میں بلند مقام رکھنے والے حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتویؒ کے روحانی فرزندوں سے علمی گیرائی اور وسعت کی وراثت اسکو انکی دین و ملت کے لیئے کی جانے والی خدمات سے محسوس کا جا سکتا ہے

مولانا اسعد زکریا قاسمی دامت برکاتہم نے دارالعلوم دیوبند کی طرز و فکر کے عین مطابق اپنے ادارہ کا بے مثال و منفرد نظم قائم کیا ہے انکے ادارے جامعہ انواراالعلوم کی اولین ترجیح بامقصد، معیاری اور سستی تعلیم کا فروغ،غریب اور مستحق طلباء کے لیے وظائف کا بندوبست،صحت کی بنیادی ضروریات سے محروم افراد کے لیے معیاری اور سستی طبی امداد کی فراہمیخواتین کے حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام،بچوں کے بنیادی حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام،یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم وتربیت اور رہائش کا بہترین بندوبست کرکے ان کو معاشرے کا مفید شہری بنانا۔قدرتی آفات میں متاثرین کی امداداوربحالی،پسماندہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی،بیت المال کے ذریعے مجبور اور حقدار لوگوں کی مالی امداد،غریب بچیوں کی شادیوں کے لیے جہیز فنڈ کا قیام ہے

اپنے مقاصد کی تکمیل اور سندھ کی عوام کی خدمت کے لیئے مہتمم جامعہ مولانا اسعد زکریا قاسمی صاحب نے اپنے کام کو درجنو ں مختلف اور فعال شعبہ جات میں تقسیم کر رکھا ہے جن میں شعبہ حفظ القرآن ،نیو روضہ اقراء روضۃ الطفال،جوریہ لائبریری،شعبہ دالافتاء،پرائمری سکول،شعبہ خوشنویسی،الانوار انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹر ٹیکنالوجی،ٹیلرنگ ورکشاپ،تقوی فزیو تھراپی سنٹر،اسپیچ تھراپی سنٹر،زکریا کلینک،زکریا حجامہ سنٹر،اصلاحی مجلہ الانوارقابل ذکر ہیں

مولانا نے بلند علمی مقام کے ساتھ ساتھ جامعہ انوار العلوم جیسی عظیم درسگاہ کو جو ان کے اسلاف کی کوشش کا مرکز رہی تھی، اپنے آغاز جوانی میں سنبھالا اور اس کی خدمت میں اپنی پوری عمر لگادی ہے

حال ہی میں علماء کرام کی فلاح و بہبود کے لیئے کچھ شعبہ جات مزید ترتیب دیئے جا رہے ہیں

آج اگر سندھی قوم واقعی اپنے حالات بدلنے میں سنجیدہ ہے، بے روزگاری اور پسماندگی جیسے عذابوں سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے اور سندھ کو اَقوامِ عالم کی صف میں نمایاں مقام دلانا چاہتی ہے تو اِسے مولانا اسعد زکریا قاسمی کے ویژن پر ہی عمل کرنا ہوگا

ماضی قریب میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ فردِ واحد نے اپنی دانش و فکر اور عملی جدّ و جہد سے فکری و عملی، تعلیمی و تحقیقی اور فلاحی و بہبودی سطح پر ملّتِ اِسلامیہ کے لیے اِتنے مختصر وقت میں اِتنی بے مثال خدمات اَنجام دی ہوں۔ بلا شبہ مولانا اسعد زکریا قاسمی ایک فرد نہیں بلکہ عہد نو میں ملّتِ اِسلامیہ کے تابندہ و روشن مستقبل کی نوید ہیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *