عوام کو تبدیلی کا حق دیئے بغیر چور دروازے تبدیلی نہیں لا سکتے ، مولانا فضل الرحمن

رپورٹ : اختر شیخ

جمعیت علمائے اسلام کے سربرا ہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب تک عام آدمی کو اقتدار کی تبدیلی کا حق نہیں دیا جاتا اور اسٹبلشمنٹ پارلیمنٹ کو چلانے کا کردار ادا کرتارہے گا تب تک ہم خود کو آزاد نہیں سمجھ سکتے۔اہلوں سے نااہلوں کو اقتدار کی منتقلی کیا یہ تبدیلی ہے ؟بدقسمتی سے ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں مصلحت کا شکار ہوئیں اسلئے ہم تنہاہی میدان میں نکل آئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی سندھ کے زیر اہتمام کراچی کے نجی آڈیٹوریم میں ’’سندھ سوشل میڈیا کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے زیر اہتمام پہلے سوشل میڈیا کنونشن سے متحدہ مجلس عمل کے ترجمان شاہ اویس نورانی ، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن ، معروف صحافی نذیر لغاری ،معروف کالم نگار و اینکر پرسن اوریا مقبول جان ، معروف اینکر انیق احمد ، اینکر پرسن ڈاکٹر دانش ، مولانا راشد سومرو ، محمد اسلم غوری ، قاری محمد عثمان ، حاجی عبد المالک ٹالپر سمیت جے یوآئی سندھ میڈیا سیل کے انچارج سمیع الحق سواتی سمیت معروف بلاگرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے بھی خطاب کیا ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ابلاغیات میں سوشل میدیا کا اہم کردار ہے اور ہمیں اس کا ادراک ہے ۔ دین اسلام کے فروغ کے لیے ہر دور کے وسائل کو استعمال کیا گیا ہے ۔ دین اسلام کے آغاز میں جب تک وسائل کی کمی تھی اس وقت بھی وسائل استعمال کیے گئے ۔ کسی اطلاع کو عام کرنے کے لیے آگ لگائی جاتی تھی ، ڈھول بجایا جاتا تھا لیکن پھر آذان دیا جانے لگا ۔ اسلام دین فطرت ہے ، آپ ﷺ نے اپنے قول اور عمل کے ذریعے جو تشریح کی ہے وہی حق اور سچ ہے ۔ شیطانی قوتین جب قرآن اور دین کی حقانیت کو رد نہیں کر سکے تو قرآن لانے والے شخص کو متنازعہ بنانے کی سازش کر نے لگے ، سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام پر سوالات اٹھانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان حقانیت بیان کی .

آج بھی دین کی بات کرنے والا اس کی جس طرح کردار کشی کی جا رہی ہے اور ہمارا میڈیا ایسے شخص کو قوم کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے ، آپ سمجھیں کہ اس طرح کی حالات سے صرف آپ اور ہم نہیں گزر رہے ہیں بلکہ ہم سے پہلے بھی تصویر کا رخ تبدیل کرنے کی سازش کی گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پروپیگنڈہ کرنے سے منع فرمایا ہے ، ایسے معاملات میں اپنے اولوالامر سے رابطہ ضروری ہوجاتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر جس تیزی سے جھوٹ کو پھیلایا جاتا ہے ، یہی کچھ پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے ۔

سوشل میڈیا کے محاذ پر اپنے جماعت کے نظریات جو قرآن و حدیث سے اخذ کیے گئے ہیں ، ان سے رہنمائی لینی ہے ۔ آپ نے ایسے مووقع پر سنجدگی سے کام لینا ہے ۔ آپ ﷺ اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخیاں کی گئیں لیکن ان کو احادیث کی کتب میں جگہ نہیں دی گئی تو پھر آج یہ طرز عمل کیوں ؟ سیاست انبیاء کی وراثت ہے ، جس طرح ہم منبر رسول کو رسول کی وراثت سمجھتے ہیں ، تو پھر منصب سیاست ، منصب خلافت اور منصب امامت بھی تو رسولوں کی سیاست ہے ۔ مورثی سیاست کا لفظ مغرب سے آیا ہے ، وہاں تو نسب ختم ہوچکا ہے اگر وہاں یہ بات یہاں کی جاتی ہے تو درست بھی ہے لیکن ہمارے جو جتنے بڑے نسب کا ہے اس کا حق بھی بنتا ہے ۔

موروثیت انبیاء کرام میں بھی چلتی رہی ہے ۔ اسلام امین اور معیشت کی بات کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی ااطاعت پر امن اور اور بہتر معیشت کی بات کرتے ہیں ۔ آج نہ امن ہے نہ ہی معیشت ہے لیکن اس کے باوجود اطاعت کا کہا جا رہا ہے ، ٹیکس وصولی کا حکم جاری ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ ، مہنے میں روز مرہ کے حساب سے یومیہ پندرہ ارب کے قرض لے رہے ہیں یہ ترقی معکوس ہے ، ہمارا وطیرہ یہ ہونا چاہئے کہ اگر ہمارے نظام میں فیصلہ کن قوت عوام کا ووٹ ہے تو ہمیں قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ انگریز کے دور میں علم دینی و عصری کے نام پر تقسیم کیا گیا ،حالانکہ علم میں دینی و عصری کا کوئی فرق نہیں ۔ قرآن مجید میں فنون کی تعلیم کا نہ صرف ذکر کیا گیا ہے بلکہ اسے انبیاء کرام سے منسوب کیا گیا ہے ۔

اقتدار کو مقصد سمجھ لینا غلط ہے اور مقصد تک اقتدار کو سہارا لینا درست ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اپنے آئینی اور قانونی دائرے سے تجاوز کرتا ہوں تو مجھے غلط کہا جاتا ہے لیکن اگر طاقتور اپنے حلف سے تجاوز کرتا ہے تو اسے غلط کہنے سے منع کیا جاتا ہے ، جب آپ وووٹ کے بجائے بیلٹ بکس چوری کر کے الیکشن چوری کریں گے تو ہمارے پاس سواے اس کے کوئی روستہ نہیں رہتا کہ ہم عوام میں جائین۔ بدقستمی سے ہماری بڑی جماعتیں مصلحتوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ہم عوام میں گئے ہیں .

انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی ، دفاعی اور اقتصادی طور پر آزاد نہیں ہیں ۔ عالمی قوتیں ترقی پزیر ممالک کو اپنے زیر نگیں رکھنے کے لیے انہیں سیاسی اور اقتصادی طور پر اپنا محکوم رکھتے ہیں ۔ ترقی پزیر ممالک میں ان ممالک کے قوانین کو غیر موثر کر کے اپنے قوانین لاگو کیے جاتے ہیں ۔ آج پاکستان میں قانون پر عمل درآمد ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔ توہین رسالت کا قانون اس کی واضح مثال ہے کہ اگر توہین رسالت کا الزام ثابت نہیں کیا جاتا تو الزام لگانے والے کو وہی سزا دی جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *