نواب عطاء محمد خان اور ملکہ الیزبتھ

نواب عطاء محمد خان اور ملکہ الیزبتھ
تحریر : رعایت اللہ فاروقی

ہاتھ میں نیزا لئے گھوڑا دوڑاتا یہ شخص نواب عطاء محمد خان ہے۔ جو 80 سال کی عمر تک گھوڑے کی پیٹھ پر رہا ۔ دیکھنے میں ایک سفاک نواب لگتا تھا مگر عملا ایسا نہیں تھا۔ ساری زندگی گھوڑ دوڑ ، نیزہ بازی اور مشرقی روایات کے بہت بڑے فداکار رہے۔ ایچی سن اور آکسفورڈ کے زمانہ طالب علمی میں کلاس کی حد تک کوٹ پتلون پہنا اس کے علاوہ پوری زندگی شلوار قمیض اور پگ کے سوا کچھ نہ پہنا۔ خودجدی پشتی نواب ہی نہ تھے بلکہ نواب آف کالا باغ کے داماد بھی تھے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی۔ کنیڈا،ساؤتھ افریقہ اور بھارت گھوڑ سواری کے عالمی مقابلوں میں شرکت کے لئے گئے تو اسی وضع قطع میں گئے۔

آکسفورڈ سے گریجویشن میں گولڈ میڈلسٹ ہوگئے تو کانوکیشن میں اسی وضع قطع کے ساتھ پہنچ گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈریس کوڈ کا اصول پیش کرکے لباس بدلنے کا کہا تو انکار کردیا۔ منیجمنٹ نے کہا

“اگر یہی پہنے رکھنا ہے تو پھر ڈائس پر آکر ملکہ معظمہ سے گولڈ میڈل لینے نہیں دیا جائے گا”

جواب دیا

“تو نہ دیں گولڈ میڈل مگر لباس تو یہی رہے گا”

تقریب کے دوران میڈلز لینے والے طلبہ میں ان کا نام بھی پکارا گیا تو یہ اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور ملکہ کو مخاطب کرکے کہا

“میں یہاں پنڈال موجود ہوں، لیکن منیجمنٹ کہتی ہے کہ اپنے قومی لباس میں ڈائس پر مت آنا”

ملکہ الیزبتھ نے جواب دیا

“اگر یونیورسٹی کا اصول یہی ہے تو پھر میں پنڈال میں آکر آپ کو گولڈ میڈل دیدیتی ہوں”

اور یوں طالب علم عطاء محمد خان کو گولڈ میڈل دینے ملکہ اس کی سیٹ پر آئیں۔ مدرسے سے پڑھےمولوی کی بات تو ہضم نہیں ہوتی، سو ہمارے ذہنی غلام آکسفورڈ کے پڑھے نواب عطاء محمد خان مرحوم سے ہی کچھ سیکھ لیں ❤

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *