مشرق وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

مشرق وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ
تحریر : علی ہلال

مشرق وسطیٰ کے امورپر کام کرنے والے افراد جانتے ہیں کہ خطے کا نیا منظر نامہ کچھ پریشان کرنے لگا ہے ۔ تبدیلی کا عمل جہاں بہت سے انسانوں کے لئے خوش کن اورمفید ہوتا ہے وہیں بہت سے افراد کے لئے تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔

نومنتخب امریکی صدر جوبائڈن کی حکومت نے جس زاویہ سے یوٹرن لیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی سیاست سے متعلق جو اعلانات کئے ہیں وہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے لئے قابل قبول نہیں ہوں گے ۔

امریکہ نے یمن جنگ میں ریاض کی اسٹرٹیجک معاونت بند کردی ہے ۔ امریکی میڈیا اورحکومتی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق اوریمن جنگ پر غیرمعمولی رپورٹنگ بتارہی ہے کہ معاملات کچھ زیادہ بدل رہے ہیں ۔ جمال خاشقجی قتل اور گزشتہ برس فلوریڈا میں ایک سعودی کیڈٹ کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کے اہل خانہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف مقدمات دائر کرنے کی اجازت دینا کچھ کم پریشان کن واقعات نہ تھے کہ اوپر سے وہائٹ ہائوس کی پریس سیکرٹری نے امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے کلینڈر پرنظرثانی کے اعلان کا بم بھی گرادیا ۔

امریکی صدر نے نہ صرف یمن جنگ میں سعودی عرب کی حمایت ترک کی ہے بلکہ یمن کے حوثی باغیوں کانام بھی دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ سے باہر کردیا ہے ۔ جسے سعودی عرب ایک خطرناک اشارہ قراردے رہا ہے ۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب کو خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوگئی ہے ۔ اس سلسلے میں ترکی کے ساتھ ریاض کی تعلقات کی بحالی کی کوششیں سامنے آنا اس سلسلے کی کڑی لگتی ہے ۔
حالات پر نظررکھ کر یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ ریاض کو ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے ۔

پورے خطے میں پاکستان ہی وہ ملک ہے جو بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ریاض کے کام آسکتا ہے ۔ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ایران کا بھی پاس رکھنا ہے جبکہ سعودی عرب سے دوستی کوبھی ملحوظ رکھنا ہے ۔

بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو اسرائیل سے دور رکھ کر اپنے مذکورہ منصوبے کو بڑھا سکتا ہے ۔بصورت دیگر اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی سے امریکی منصوبہ ادھورا ہوسکتا ہے ۔کیونکہ اسرائیلی میڈیا اورباخبرصحافیوں کا ماننا ہے کہ تل ابیب امریکہ کے ایران کی جانب حالیہ جھکائو سے ناخوش ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ امریکی صدر جوبائڈن نے اسرائیل کو اشارہ بھی دے دیا ہے ۔ سابقہ امریکی صدور کی عادت رہی ہے کہ کامیابی کے دو یا تین روز بعد اسرائیلی وزیراعظم کو فون کرکے باہمی دوستی پر بات کرتے ہیں مگر اس مرتبہ جوبائڈن نے پورا ایک ماہ بعد 19 فروری کو اسرائیلی وزیراعظم کو فون کیا ۔ اس تاخیر کو اسرائیلی فیصلہ سازوں نے بھی محسوس کیا ہے اوراسرائیلی میڈیا سمیت واشنگٹن پوسٹ نے بھی اسے اہم اشارہ قراردیاہے ۔

دوسری طرف افغان طالبان کے ایران کے ساتھ تعلقات اور غیرمعمولی روابط کو بھی اب مزید نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ افغان طالبان بوجوہ اپنے ماضی کے محسنوں کے بجائے ماضی کے حریف کی جانب جھکائو کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ بالخصوص 2013 کے بعد سے طالبان تہران کے بہت قریب گئے ہیں ۔ ملا طیب آغاز کی سربراہی میں طالبان وفد کے تہران دورے کے بعد اب تک طالبان کے وفود تہران کے 6 دورے کرچکے ہیں جبکہ اس دوران طالبان کے کسی وفد کا سعودی عرب کا دورہ ریکارڈ پر نہیں ہے ۔
ایران کے ساتھ طالبان نے امریکہ اورپھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے بھی قطر کو ہی چنا جو خلیج میں ایران کا مضبوط اتحادی مانا جاتا ہے ۔ خطے کے عسکری اورسیاسی امومر پر نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کے لئے خطے میں واحد خطرہ افغان طالبان تھے جو اب تقریبا تہران کے لئے خطرہ نہیں رہے ایسے میں ایران کے پاس عرق، لبنان،شام اور یمن تک کامیابی کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھنے کا موقع ملے گا ۔
اس کے برعکس پاکستان نے بھی ماضی کے حریف شمالی اتحاد کو اہمیت دینی شروع کردی ہے ۔ گزشتہ ہفتے افغان وفد کے دورے کے موقع پر حکومت پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک علاقے کو شمالی اتحاد کے سابق سربراہ اورعسکری کمانڈر احمد شاہ مسعود کے نام سے موسوم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
مبصرین کے مطابق خطے میں تبدیلی کا یہ عمل کیا رنگ لاتا ہے اس کے نتائج سامنے آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *