سلطان محمد فاتح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قسط نمبر 6)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ
قسط نمبر 6

یہ بحری بیڑا کم و پیش 300 کشتیوں پر مشتمل تھا. تاہم ان میں سے اکثر حجم میں چھوٹی اور جنگی لحاظ سے دشمنوں کی کشتیوں سے کم درجے کی تھیں. گو تعداد میں ان سے زیادہ تھیں.

قسطنطنیہ کی دیواریں مرور ایام کے باعث اگرچہ بعض جگہ سے شکستہ ہو چکی تھیں تاہم ابھی اس قابل تھیں کہ بڑے سے بڑے لشکر کو روک سکے. یہ فصیل جو گولڈن ہارن سے بحیرۂ مارمورا تک پھیلی ہوئی تھی در حقیقت دنیا کے عجائبات میں سے تھی. یہ شہر صدیوں سے مختلف قوموں کے حملوں کا نشانہ بنا ہوا تھا. اس کے گرد حملہ آوروں سے بچاؤ کے لیے ایک زبردست فصیل تیار کی گئی جس میں مختلف زمانوں میں ترمیمیں اور آضافے ہوتے رہے. اب بھی فصیل کے بقیہ آثار اس قدیم شہر کی عظمت رفتہ کی یاد دلاتے رہتے ہیں. جب مسلمانوں نے اس شہر کا محاصرہ کیا تو اندر سے فصیل اس قدر کہنہ اور شکستہ ہو چکی تھی کہ معمولی مرمت کافی نہ ہو سکتی تھی. تاہم بیرونی فصیل اسلامی افواج کو روکنے کے لیے کافی تھیں. اور یہاں کے باشندے نے مسلمانوں کے مقابلے میں بیرونی فصیل ہی کا سہارا لیا.

یہ درست ہے کہ مسلمانوں کے حملوں کو روکنے کے لیے قسطنطنیہ میں کوئی بھاری فوج موجود نہ تھی. لیکن ساتھ ہی یہ امر بھی ذہین نشین کر چاہیے کہ اس شہر کا محل وقوع ایسا تھا کہ مضبوط ترین فوج بھی شہر پر آسانی سے قبضہ نہ کر سکتی تھی. اور جدید اسلحہ سے لیس ایک چھوٹی سی منظم فوج بھی اس کی مدافعت کا فرض بخوبی ادا کر سکتی تھی اور حملہ آوروں کو ناکام بنا سکتی تھی..

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

شہر کی مدافعت کا سب سے زیادہ حق اس غیر ملکی فوج نے ادا کیا جو جینوا. وینس. کریٹ. روم اور ہسپانیہ سے آنے والے فوجیوں پر مشتمل تھی. اور جس کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی. یہ امر قابل ذکر ہے کہ بازنطینی حکومت کی امداد کی سب سے زیادہ توقع جمہوریہ وینس اور جمہوریہ جنیوا سے تھی لیکن ان حکومتوں کی طرف سے بازنطینیوں کو کسی قسم کی ٹھوس امداد موصول نہ ہوئی..

یہاں سے جو لوگ قسطنطین کی مدد کو پہنچے وہ انفرادی حیثیت سے آۓ تھے. ان میں سے بعض تو واقعی مزہبی جوش کی بنا پر اپنے ہم مذہب لوگوں کی امداد کو پہنچے تھے لیکن بعض کو تجارتی اور ماؤی مصلحتیں کھینچ لائی تھیں…

گولڈن ہارن کے دوسرے کنارے غلطہ کی بستی واقع تھی جس میں جمہوریہ جینوا کا قبضہ تھا. یہاں کے لوگوں نے سلطان کی رضا جوئی کی خاطر موجودہ عثمانی بازنطینی آویزش میں غیر جانب دارانہ رویہ اختیار کیا ہوا تھا. کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ اگر انھوں نے اہل قسطنطنیہ کی مدد کی تو سلطان انھیں کبھی معاف نہ کرے گا اور ان کی بستی کو تباہ برباد کر دے گا..

مذکورہ بالا تین ہزار فوج کے علاوہ دو ہزار فوج ان جہازوں میں بھی موجود تھی جو گولڈن ہارن میں لنگر انداز تھے اور جنھیں بندر گاہ کی مدافعت کا کام سونپا گیا تھا..

شہنشاہ قسطنطین کا لشکر جو نو ہزار مقامی باشندوں پر مشتمل تھا دادی بیکوس کے کنارے دروازہ سینٹ رومانوس کے قریب خیمہ زن تھا. اس جگہ شہر کی فصیل بے حد کمزور تھی لہذا اس جانب زیادہ توجہ مبذول کرنے کی ضرورت تھی. جان جٹیانی کو اس کی بے نظیر بہادری کے باعث اس حصہ کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی تھی. تاہم عثمانیوں کے پر زور حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ قسطنطین کے پاس طاقتور توپیں ہوتیں لیکن بد قسمتی سے ان کے پاس ایک بھی توپ نہ تھی. جو چند چھوٹی توپیں تھیں انھیں بھی دیواروں پر نہ چڑھایا جا سکا کیونکہ وہ اتنی شکستہ ہوچکی تھیں کے توپوں اور ان کے بھاری گولوں کو برداشت نہ کر سکتیں تھیں.. دیگر سامان جنگ کی بھی بازنطینی فوج کے پاس بے حد کمی تھی تاہم عزم و ہمت کی کمی نہ تھی اور وہ ہر قیمت پر قسطنطنیہ کو ترکوں سے بچانے کا تہیہ کر چکے تھے..

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

دریں اثناء ترک بحری بیڑے کا کمانڈر بلطہ اور علی بڑی مستعدی کے ساتھ سلطان کے احکام کی بجا آوری میں مشغول تھا. گولڈن ہارن کے دہانے کے قریب دشمن کے جو جہاز لنگر انداز تھے ان کی وہ کڑی نگرانی کر رہا تھا.. اس کے علاوہ اس نے اپنے چند جہازوں کو بحیرۂ مارمورا کے چند جزیروں پر حملہ کرنے کے لیے بھی روانہ کیا تھا تا کہ وہاں کے باشندوں کی ہمتیں پست ہو جائیں اور وہ بازنطینی فوج کو کسی قسم کی مدد نہ پہنچا سکیں…

عثمانی فوج نے اپنی بھاری توپیں قسطنطنیہ کے برجوں کے سامنے نصب کر کے گولہ باری شروع کر دی اور فصیل کو مہندم کرنے کی کوشش کرنے لگے.. محاصرین کے لئے یہ گولہ باری نا قابل برداشت تھی.. فصیل تو پہلے ہی کمزور تھی زبردست گولہ باری نے اس کی حالت اور بھی خراب کر دی. تاہم انھوں نے ہمت نہ ہاری.. گولہ باری جو حصہ گر جاتا وہ راتوں رات اس کی مرمت کر دیتے اور عثمانی فوج کو اگلے دن نۓ سرے سے حملہ کرنا پڑتا…

ینی چری کے نوجوانوں نے بھی اس موقع پر بے نظیر جرات و بہادری کا ثبوت دیا جس کا اعتراف ان کے معاصر یورپی مورخین نے بھی لکھا ہے موت ان کی نظروں میں نہایت ہی حقیر شے تھی. فرض کی بجا آوری کے مقابلے میں اور کسی چیز کی پرواہ نہ کرتے تھے. جس وقت وہ میدان جنگ میں نکلتے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لوہے کی ایک دیوار بڑھتی چلی آ رہی ہے. اگر اگلی قطار آ جاتی تو پچھلی قطار فوراً آگے بڑھ کر مقتولین کو اپنی پیٹھوں پر اٹھا لیتی اور خود ان کی جگہ لے لیتی تھی. اس کا نتیجہ یہ تھا کہ حملہ ختم ہونے کے بعد ینی چری کا کوئی مقتول زمین پر پڑا ہوا دکھائی نہ دیتا تھا بلکہ سب کے سب بڑے تزک و احتشام کے ساتھ دفن کر دیے جاتے تھے..

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

ینی چری کے بے نظیر عزم و استقلال اور بے درپے حملوں کے باعث بازنطینی فوج کی اس کے سامنے مطلق پیش نہ گئی اور اس نے شہر سے باہر نکل کر دوبدو مقابلہ کرنے کی بجائے فصیل کے اندر رہ کر ہی مقابلہ کرنے میں عافیت سمجھی…

محاصرہ سختی سے جاری رہا اور فیصلوں پر مسلسل گولہ باری ہوتی رہی. حتیٰ کہ بازنطینیوں کو یقین ہو گیا کہ ترک بہت جلد شہر پر دھاوا بول دیں گے.. 18 اپریل 1453ء 8 ربیع الثانی 857ھ کو ترکوں نے واقع ہی شہر پر زبردست حملہ کر دیا.. حملہ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ معلوم ہوتا تھا شہر پر ترکوں کا قبضہ چند گھڑیوں کی بات ہے..

شہنشاہ قسطنطین کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے تھے لیکن بازنطینیوں نے اس قدر پامردی سے مقابلہ کیا کہ چار گھنٹے کی مسلسل اور خوف ناک لڑائی کے بعد بالا آخر ترکوں کو پسپا ہونا پڑا اور وہ ہزاروں لاشیں پیچھے چھوڑ گئے….

ترکوں کی اس نا کامی سے بازنطینیوں اور غیر فوجوں کے حوصلے بڑھ گئے. انھیں اپنے آپ پر آعتماد پیدا ہو گیا اور انھوں نے پہلے سے بڑھ کر مقابلے کی تیاریاں شروع کر دیں. بڑی پھرتی سے سے وہ تمام رخنے پر کیے گئے جو ترکی توپوں کی مسلسل تباہ کن گولہ باری سے فصیل میں پڑ گئے تھے اور بازنطینی فوج ایک نۓ عزم کے ساتھ قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئی…

اسی دوران میں ترکی بیڑے نے بھی گولڈن ہارن پر حملہ کرنے اور زنجیروں کے اس سلسلے کو توڑنے کا ارادہ کیا جس نے ترکی جہازوں کا داخلہ آبناۓ گولڈن ہارن میں بند کر رکھا تھا. یہ بیڑا ہر قسم کے جدید جنگی سازو سامان سے لیس تھا اور جہازوں کی تعداد بھی بازنطینی جہازوں سے کہیں زیادہ تھی.. لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کے افسروں اور سپاہیوں کو بحری جنگ کی کافی مشق نہ تھی. نیز ان کی کثرت تعداد کے باعث کچھ غرور بھی پیدا ہو گیا تھا.. اس لیے انھوں نے دشمن کی قوت و طاقت اور بحری جنگ کے طریقوں کے متعلق زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہ کی…

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (چوتھی قسط)

عثمانی کشتیاں پتھر اور آگ برساتی ہوئی آگے بڑھنی شروع ہوئیں.. ترکوں کا ارادہ تھا کہ بازنطینی کشتیوں کو آگ لگا کر بھسم کر دیا جائے اور اس طری گولڈن ہارن میں داخل ہونے کے لیے راستہ صاف کیا جائے لیکن انھوں نے یہ حقیقت نظر انداز کر دی کہ بازنطینیوں کی کشتیاں ان کی کشتیوں سے بہت اونچی بڑی اور اعلی تھیں.. بازنطینی کشتیوں کے لئے تو عثمانی کشتیوں پر حملہ کرنا بہت آسان تھا لیکن عثمانی کشتیوں کے لئے بازنطینی کشتیوں پر حملہ کرنا اتنا آسان نہ تھا. بازنطینی کشتیاں ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھیں.. وہ اس ترتیب سے کھڑی ہوئی تھیں کہ اپنا دفاع بہت آسانی سے کر سکتیں تھیں.. ترکوں کے پتھروں کا جواب پتھروں سے تیروں کا تیروں سے اور آگ کا جواب آگ سے دے رہی تھیں.. ترکوں نے بے حد کوشش کی کہ کسی طرح زنجیروں کو کاٹ ڈالیں لیکن بازنطینیوں کی زبردست مزاحمت کے باعث وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے اور انھیں اپنے بیڑے کو لے کر مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا.. بازنطینیوں نے یہ دیکھ کر نعرہ ہاۓ مسرت بلندکیے اور انھیں اپنی فتح کا ایک بار پھر یقین ہو گیا…

تاہم سلطان ہار ماننے والا نہ تھا اس نے بازنطینی بیڑے کو تباہ کرنے کے لیے بھاری توپوں سے گولے برسانے شروع کیے لیکن یہ طریقہ بھی کچھ کامیاب ثابت نہ ہوا اور سلطان کو مجبوراً کشتیوں پر گولہ باری کا سلسلہ بند کرنا پڑا… 20 اپریل 1453ء 10 ربیع الثانی 857ھ کو جینوا سے چار بڑے جنگی جہاز بازنطینیوں کے لئے اسلحہ سامان خوردنوش اور فوجیں لے کر قسطنطنیہ پہنچے….

ترکوں نے دیکھا کہ یہ جہاز آہستہ آہستہ بندر گاہ کی طرف بڑھ رہے ہیں سلطان نے فوراً اپنے بحری کمانڈر کو حکم دیا کہ ان جہازوں کو آگے بڑھنے سے روکا جائے اور قبل اس کے کہ یہ بندر گاہ میں لنگر انداز ہوں یا تو ان پر قبضہ کر لیا جائے یا انھیں تباہ برباد کر دیا جائے. اپنےحکم میں سختی پیدا کرنے کے لیے اس نے یہ بھی کہا کہ اگر تم اس میں کامیاب نہ ہو سکو تو میرے پاس زندہ واپس نہ آنا…

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (پانچویں قسط)

ان چار جہازوں کا راستہ روکنے کے لیے مختلف حجم کی ڈیڑھ سو عثمانی کشتیاں موجود تھیں لیکن اس قدر بھاری بیڑے کی مزاحمت کے باوجود جینوا جہاز اپنا راستہ نکال کر بندر گاہ میں پہنچ ہی گیا. دراصل اس مرتبہ عثمانیوں کا غرور پہلے سے بھی بڑھا ہوا تھا. ان کی کشتیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انھیں فتح اور کامیابی کا کامل یقین تھا طبل اور مزا میر بروے زور سے بجائے جا رہے تھے نعرہ ہاۓ تکبیر سے آسمان گونج رہا تھا. شہر قسطنطنیہ کے باشندے فصیل کے اوپر سے بڑے قلق و اضطراب کے ساتھ یہ تمام منظر دیکھ رہے تھے.. بلطہ اوغلی کو امید تھی کہ وہ بھی آسانی سے جینوی جہازوں پر فتح حاصل کر لے گا…

جونہی جینوی جہاز قریب پہنچے ترکی بیڑے نے انھیں ٹھہرنے اور تمام سامان جنگ ترکی کمانڈر کے حوالے کرنے کا حکم دیا لیکن جینوی کمانڈر نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا.. اس پر زبردست لڑائی چھڑ گئی.. ابتدا میں ہوا جینوی جہازوں کی مدد کر رہی تھی لیکن پھر یکایک ہوا ٹہھر گئی اور جہاز آگے بڑھنے سے رک گۓ تا ہم جنگ شدت سے جاری رہی..

اس میں شبہ نہیں کہ دشمن کے مقابلے میں ترکی کشتیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن ترکوں کی نسبت اطالوی بحری جنگ کے زیادہ ماہر تھے اور ان کے جہاز بھی حجم اور طاقت کے لحاظ سے ترکی کی کشتیوں پر ہر لحاظ سے فائق تھے. لہٰذا کشتیوں کی زیادتی کے باوجود ترکوں کا پہلو دشمنوں کے مقابلے میں کمزور ہی رہا.. ایک طرف اہل قسطنطنیہ بڑی بے چینی سے اس بحری جنگ کا نظارہ کر رہے تھے دوسری طرف سلطان بھی ساحل پر کھڑا یہ تمام ماجرا دیکھ رہا تھا اور منتظر تھا کہ کب اس کا بیڑا دشمن کے جہازوں پر غالب آ کر اسے تباہی کے گھاٹ اتارتا ہے….

کچھ عرصے تک یہ بے نتیجہ جنگ جاری رہی.. ترکی کمانڈر بار بار تازہ جوش و خروش کے ساتھ جینوی جہازوں پر حملہ کرتا تھا اور قریب تھا کہ وہ ان پر قابو پا لیتا کہ ہوا دوبارہ چل بڑی اور دشمن کے جہاز دوبارہ حرکت میں آ کر آہستہ آہستہ بازنطینی بیڑے کے قریب ہوتے چلے گئے.. ترکی کشتیوں نے انھیں روکنے کی کوشش کی لیکن حجم میں چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکیں.. اور جینوی جہاز صحیح سلامت بندر گاہ میں پہنچ گئے.. بازنطینیوں نے نعرہ ہاۓ تحسین بلند کیے اور ترکوں کے دلوں پر مایوسی طاری ہو گئی….

مزید پڑھیں: ترکی کی آیا صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل

اس نا کام مقابلے کے بعد ترک کمانڈر بلطہ اوخلی سلطان کی خدمت میں حاضر ہوا اسے نے ہر امکانی جدو جہد جینوی جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تھی حتیٰ کہ اسی جہدو جہد میں اس کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو چکی تھی. لیکن سلطان اس وقت آپے میں نہ تھا. اس نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا اور اس کے عہدے سے سبکدوش کر کے اس کی املاک ضبط کر لی….

جینوی جہازوں کی یہ امداد اہل قسطنطنیہ کے لئے آخری سہارا ثابت ہوئی. ان کے خیال تھا کہ یہ امداد مزید امداد پیش خیمہ ہے اور ان کی امداد کے لئے دوسرے جہاز بھی آ رہے ہوں گے لیکن ان کی یہ امیدیں بر نہ آئیں اور کوئی مزید بیڑا ان کی امداد کے لئے نی پہنچا..

جینوی جہازوں کو روکنے میں ترکی بیڑے کو جو نا کامی اٹھانی پڑی اس نے سلطان کی ہمت کو پست کرنے کی بجائے اس کے عزم کو پہلے سے زیادہ مستحکم کر دیا.. ایک طرف تو اس نے شہر پر گولہ باری کی رفتار تیز تر کرنے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں شہر کی فصیلوں بالخصوص دروازہ سینٹ رومانوس والے حصے کو شدید نقصان پہنچا. دوسری طرف وہ ایک انوکھے تجربے کو روبہ عمل لانے کے لیے مناسب تیاریاں کرنے میں مشغول ہو گیا.

شہر والوں کا خیال تھا کہ سلطان اس نا کامی سے جھنجھلا کر شہر پر عام حملہ کرنے کا حکم دے گا لیکن سلطان کے ذہن میں جو تدابیر آتی تھی وہاں تک شہر کے کسی باشندے کی رسائی نہ ہو سکتی تھی. چونکہ عثمانی بیڑا بازنطینی کشتیوں کی مزاحمت کے باعٹ گولڈن ہارن میں داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا اس لیے سلطان چاہتا تھا کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ بازنطینی بیڑے سے تصادم کی نوبت بھی نہ آئے اور اس کا بیڑا بھی سلامتی کے ساتھ گولڈن ہارن میں پہنچ جائے.

مزید پڑھیں: اسلام سے پہلے کا ہندوستان

اس کے لیے اس نے یہ تدبیر سوچی کہ بیڑے کے ایک حصے کو خشکی کی راہ سے گزار کر آبناۓ باسفورس سے گولڈن ہارن میں پہنچا دیا جائے.. چنانچہ جنگل سے درخت کاٹ کر ان کے تختے بنوانے گیۓ. پھر ان تختوں پر چربی اور تیل ملوا کر اس طرح بچھا دیا گیا تا کہ ان پر کشتیوں چڑھا کر بآسانی کھنیچا جا سکے. راستے میں بڑے اونچے ٹیلے آتے تھے جن پر کشتیوں کو چڑھانا نا ممکن دکھائی دیتا تھا لیکن چونکہ عثمانیوں کی کشتیاں حجم میں چھوٹی اور ہلکی تھیں اس لیے سلطان کے آدمی انھیں کسی نہ کسی طرح ٹیلوں پر چڑھانے میں کامیاب ہو ہی گۓ.

16 ربیع الثانی 757 ھ کو راتوں رات ستر کشتیاں خشکی پر چلا کر آبناۓ باسفورس سے گولڈن ہارن کے اندرونی حصے میں پہنچا دیں گئیں.. اگرچہ سلطان نے تمام متوقع حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے ہی ہو قسم کے انتظامات مکمل کر لیے تھے تاہم یہ کام اتنی سرعت اور پھرتی سے ہوا کہ بازنطینیوں کو مداخلت کرنے اور کشتیوں کی نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کا کوئی موقع ہی نہ مل سکا.. جب صبح آٹھ کر اہل شہر نے ترکی بیڑے کو گولڈن ہارن میں موجود پایا تو ان کی حیرت و استجاب وحشت و اضطراب اور خوف و ہراس کی انتہا نہ رہی. ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ بھاری جنگی جہازوں اور زنجیروں کے مضبوط سلسلے کی موجودگی میں ترکوں کی یہ کثیر التعداد کشتیاں راتوں رات گولڈن ہارن کے عین وسط میں کس طرح پہنچ گئیں. انھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا اور وہ بار بار آنکھیں مل مل کر یہ سوچ رہے تھے کہ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہے…
(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *