اظہارِ تشکر و اعتذار‼ (مفتی احمد بالاکوٹی کا اعتراض پر مدلل جواب)

ملا کا المیہ

تحریر: مفتی رفیق احمد

گزشتہ دنوں راقم الحروف کے ایک تفصیلی مضمون کا ایک حصہ سوشل میڈیا اور ایک اشاعتی ادارے میں چھپا، اس مضمون میں وفاق المدارس سے متعلق کچھ تاریخی اشارے تھے، ماضی سے ملنے والے کچھ اسباق تھےاور احوالِ حاضرہ کی دھندلی سی منظر کشی تھی،جس میں کچھ تلمیحات واشارات بھی تھے جو بظاہر تلخ تھے، مگر ان اشارات کا ایک مقصد یہ تھا کہ وفاق المدارس کے عہدے ومناصب اعتماد واحترام کے ساتھ عطا کرنے کی روایت رہی ہے، معارضے اور اصرار کے ساتھ حاصل کرنے کی نہیں رہی ،دوسرے یہ کہ اپنے تئیں ،وفاق المدارس کے انتخابی اُفق کی طرف بڑھنے والی اس گر د وغبار اور دھند کی غمازی تھی،جو انتخابی عمل میں پس وپیش کا باعث نظر آرہی تھی ۔

مزید پڑھیں: وفاق المدارس العربیہ کو مُتنازعہ مَت بنائیے

ان ساری گزارشات کی ایک بنیادی غرض یہ بھی تھی کہ وفاق المدارس کی روایتی وحدت واجتماعیت کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے، اس عظیم مقصد کے لیے ہمیں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ،بانیانِ وفاق کی طرح باہمی عقیدت واحترام اور ایک دوسرے کی شخصیت واہمیت کو تسلیم کیا جائے، تاکہ وفاق المدارس پر کیے جانے والے ممکنہ وار کو ناکام کیا جاسکے،الحمد للہ پہلے مرحلے میں تو موجودہ سرکار، وفاق المدارس پر وار نہ کرسکی، بلکہ اسے اپنے شکار کے لیے پہلے سے بے نوائی کا شکار، ایک بورڈ ہاتھ لگا، جسے مسلک دیوبند کے سرکاری حمایت یافتہ بورڈ کے طور پر متعارف کرایا گیا ۔

اس قسم کے بے وقعت سرکاری وفاقوں کے سرکاری قیام سے وفاق المدارس کی حفاظت کے بارے ایک حدتک اطمینان نصیب ہوچکاہے، گو کہ وفاق المدارس کے انتخابات ،اسلام آباد وقف بل،چیریٹی ایکٹ اور پیس اینڈ ایجوکیشن کے حوالے سے جو خدشات وخطرات برسر مدارس منڈلارہے ہیں، ان سے حفاظت کے لیے باہمی اعتماد واحترام، جذبۂ ایثار اور دوراندیشی کی اشد ضرورت ہے، بلکہ ان خطرات کے سامنے پہلے کی بنسبت زیادہ مضبوط ڈھال کی ضرورت ہے، اس ڈھال کوچھیدنا یا اس کے بارے میں عدمِ برداشت کا رویہ اپنانا مدارس کے ساتھ ناقابل تلافی زیادتی ہوگی۔

مزید پڑھیں: وفاق المدارس العربیہ کے دستور میں ترمیم نہ کی جائے: علماء

اس تحریر سے متعلق دوراندیش ،معاملہ آشنا احباب واکابر اورلفظی تلخ نوائی کی بجائے ’’پسِ نوشت‘‘ کو پڑھنے والے حضرات کی طرف سے بڑا مثبت اور حوصلہ افزاء ردّ عمل سامنے آیا ،اس پر ان تمام حضرات کا تہہ دل سے شکرگزارہوں،جبکہ بعض ایسے دوست واحباب کا علم بھی ہوا جنہوں نے فطری جذبات کے تحت قدرے حیرت واستعجاب سے بھی نوازا،میں ان کا بھی انتہائی ممنون ہوں ،اللہ تعالٰی انہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔

البتہ ایسے احباب کی خدمت میں ایک بات تو یہ عرض ہے کہ یہ تحریر ایک تفصیلی تحریر کا ایک حصہ ہے ، جس میں یہود کے بارے قرآنی مؤقف ،ان کےمکائد ،اسرائیل کے قیام واہداف،امت مسلمہ اور پاکستان کے بارے میں اسرائیلی عزائم وخیالات اور روز ِ اول سے ان عزائم کے سامنے مزاحمتی کوششوں کی تاریخ اور اس تاریخ کے حالیہ تسلسل سے بحث کی گئی تھی ،ممکن ہے کہ اس پس منظر میں مذکورہ تحریر سے پوری بات واضح نہ ہوسکی ہو ،بہر حال اس تحریر سے متعلق ہر قسم کا رد ِّعمل فطری امر ہے ،اسے خندہ پیشانی سے قبول کرتاہوں۔

مزید پڑھیں: انصاف کا تقاضا – مفتی رفیق احمد بالاکوٹی کے شہرہ آفاق کالم پر اعتراض

تاہم اس ضمن میں دوباتوں کی وضاحت اپنی اخلاقی ذمہ داری کے طور پر ضروری سمجھتا ہوں:

وضاحت:1️⃣

ایک یہ کہ بعض احباب نےتوجہ دلائی کہ مذکورہ تحریر میں حضرت مفتی اعظم مفتی محمّد شفیع صاحب نورّ اللہ مرقدہ کے ساتھ ’’کراچوی‘‘ کی نسبت ادب سے عاری ہے،اس پر باربار استغفار کے بعد حیرت کا اظہار ہی کرسکتا ہوں کہ ’’کراچوی‘‘ کے لفظ میں چھپی ہوئی بے ادبی کو سونگھ لینے والے احباب کو ’’حضرت مفتی اعظم‘‘ اور ’’آپ کے بابرکت وجود‘‘ جیسے الفاظ نظر کیوں نہ آسکے ، اور ان کےتذکرۂ خیر کے عظیم مقصد کو نظرانداز کیوں کیا گیا ؟
ممکن ہے یہ بات عقیدت کےقابل قدر جذبات میں سامنے آگئی ہو ،یا وفاق المدارس سے دوری کی بناء پر سامنے آگئی ہو ،اس لیے اس پر صرف اتنی گزارش ہے کہ وفاق المدارس کے اولین اکابر ومشائخ میں ’’مفتی محمدشفیع‘‘کے نام سے تین اکابر ہیں:
ایک مفتی شفیع ملتانی ،دوسرے مفتی محمد شفیع سرگودھوی اور تیسرے حضرت مفتی اعظم مفتی محمد شفیع کراچوی رحمہم اللہ
وفاق کی روئیداد میں یہ لاحقہ جس نیت اور مقصد کے تحت درج تھا ہم نے اسی غرض سے اس کی حکایت کی ہے ، اس کے باوجود اگر میرے محترم احباب مجھے حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ کی عقیدت سے محروم سمجھتے ہیں تو مجھے ان سے کوئی گلہ ہے،نہ ہی ان سے سند عقیدت لینے کا متمنی ہوں ، الحمد للہ میں بزرگوں کے مراقد سے استفاضے کا قائل ہوں۔ تنہائی اور خلوت میں حسب معمول حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ کے مرقد مبارک سے اپنی عقیدت واستفاضے کی تجدید خود کرلوں گا۔ وبہٰذا القدرأ کتفی وبہ اکتفوا ۔

مزید پڑھیں: وفاق المدارس العربیہ کا کراچی طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار

وضاحت:2️⃣

دوسری ضروری وضاحت یہ ہے کہ بعض احباب نے متوجہ فرمایا کہ گزشتہ تحریر میں اکابر وفاق کے تذکرہ میں شیخ المشائخ حضرت مولانا سلیم اللہ خان نوّر اللہ مرقدہ کا اسم گرامی شامل نہیں تھا، حالاں کہ وفاق کی تاریخ، آغاز تا حال آپ کے تذکرہ وکردارکے بغیر مکمل ہونہیں سکتی ۔یہ احساس بالکل بجا ہے اور درست ہے۔ بلاشبہ اگر حضرت شیخ المشائخ رحمہ اللہ کا نام نامی اسم گرامی حذف کرکے وفاق کی تاریخ بیان کی جائے تو یقیناً یہ خیانت ہے اور اس خیانت سے بڑ ھ کر شرعی واخلاقی جرم یہ ہوگا کہ وفاق المدارس جیسی متاعِ مشترک کی تاریخ لکھی جائے اور اس میں جانبداری ،نظر اندازی یا یکطرفہ حصہ نوازی سے کام لیا جائے۔

ہمارے اکابر اس طرز عمل کے ہمیشہ ناقدرہے ہیں، بلکہ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ سالوں میں ’’وفاق المدارس العربیہ کی ساٹھ سالہ تاریخ‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب، جب منظر عام پر آنے لگی تو اس سے متعلق ہمارےکئی اکابر نے اسی قسم کے کچھ اشکالات بھی اٹھائے تھے اور وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ نےاپنے اجلاس منعقدہ 4 اکتوبر 2017ء میں نظر ثانی کے بغیر اس کتاب کی اشاعت وتقسیم سے منع کردیا تھا، جو وفاق کی روئیداد کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: مدارس کی لفنگا پارٹی

سو یہ کیسے ممکن ہے کہ جس طرز عمل کواکابر وفاق، وفاق کی وفاقیت کے منافی سمجھیں ،ان اکابر کی چھتری تلے وہی کام ہم خود کرنے آجائیں۔پھر جو لوگ حضرت شیخ المشائخ مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ اور راقم الحروف کے درمیان بے پناہ شفقت اور لازوال عقیدت کے عینی گواہ ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت ،اس ناچیز پر اپنی نسبی اولاد واحفاد کی طرح مشفق و مہربان تھے اور اپنے ادارے کے معتمد افراد والے اعتماد سے نوازا کرتے تھے، جسے میں زندگی بھر فراموش نہیں کرسکتا ،میں سمجھتا ہوں کہ ایسے باخبر احباب واکابر تو مجھے یقیناً اپنی بدگمانی سے محفوظ رکھیں گے،اور میری تحریر میں حضرت کے بارے بے اعتنائی کی غلطی نہیں ڈھونڈیں گے،البتہ جن احباب کو اس تعلق کا علم نہیں،حضرت کی عقیدت میں ان کے جذبات کو فطری سمجھتا ہوں ،بلکہ ممکن ہے کہ ایسے احباب کی جگہ اگر میں ہوتا تو شاید اپنے جذبات ان کے مقابلے میں زیادہ مجروح پاتا اور میں بھی کوئی حساس ردِ عمل دیتا، جیسا کہ پہلے بھی ایک آدھ دفعہ ایسا ہوچکا ہے۔

بہر کیف ایسے تمام احباب کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے عرض یہ ہے کہ میرے پیش نظر وفاق کی مکمل تاریخ کا بیان نہیں تھا، بلکہ صرف آغاز اور اولین انتخاب کی روشنی میں مذکورہ بالا مقاصد ہی پیش نظر تھے، وفاق کے ان اولین عہدیدار اکابر میں چونکہ حضرت شیخ المشائخ کا اسم گرامی نہیں تھا ،ا س لیےدیگر کئی اکابر کی طرح ان کا نام بھی ذِکر ہونے سے رہ گیا تھا ،کیوں کہ آپ 1978-5-15ء میں پہلی دفعہ وفاق کی مجلس عاملہ کے رکن بنے،اور 1980-11-30ء کو پہلی مرتبہ ناظم اعلی منتخب ہوئے، جبکہ 1989-6-8ء کو پہلی دفعہ وفاق المدارس کی صدارت پر فائز ہوئے۔ اس دوران وفاق المدارس کے لیے آپ کی سنہری خدمات، جہاں وفاق کے لیے یادگار، سرمایۂ افتخار رہیں، وہاں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے لیے بھی ناقابلِ فراموش یادگار کا درجہ رکھتی ہیں ۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں PDM اتفاق رائے سے اپنے نمائندے لائے گی ، حافظ حمداللہ

آپ کی نظامتِ علیا اگر مولانا محمد ادریس میرٹھی کی صدارت سے جڑی ہوئی ہے تو آپ کی طویل ترین یادگار صدارت کے ساتھ مفتی احمد الرّحمٰن، مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدرحمہما اللہ کی نظامتِ علیا اورحضرت ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر مد ظلہم کی نیابت کا بندھن بھی وفاق کی اَنمٹ تاریخ ہے ۔

وفاق کی اس تاریخ، بالخصوص حضرت شیخ اور اکابر بنوری ٹاؤن کی وحدت ِعملی کو پاٹنا آفتابِ نیمروز کو ظلمت وضیاء میں بانٹنے کے مترادف ہے۔اس لیے اگرخدانخواستہ آپ کا نام وفاق کی مکمل تاریخ ضبط کرتے ہوئے مجھ سے رہ جائے توپھر حضرت بنوریؒ،مولانا ادریس میرٹھیؒ ،مفتی احمدالرحمنؒ ،مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ اور حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی تاریخ میں کیسے لکھ سکوں گا۔بایں ہمہ مذکورہ دونوں بزرگوں کے اسماء گرامی کے حوالے سے میرے جو اکابر یا احباب غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں یا پورے مضمون پر دل گرفتہ ہوئے ہیں ،میں تہہ دل سے ان سے معذرت خواہ ہوں ،میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اپنے روحانی آباء کی مشترکہ متاع ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘ کے تحفظ وبقاء کے جذبے سے لکھا ہے۔واللہ اعلم

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *