انصاف کا تقاضا – مفتی رفیق احمد بالاکوٹی کے شہرہ آفاق کالم پر اعتراض

تحریر : ابن المعلم

بسم اللہ الرحمن الرحیم.

از قلم حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب. استاذ الحدیث جامعہ فاروقیہ کراچی. و مسؤول وفاق المدارس العربیہ پاکستان برائے کراچی : سوشل میڈیا پر میں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے متعلق مفتی رفیق احمد صاحب بالاکوٹی کا مضمون پڑھا. ماشاءاللہ مفتی صاحب کا قلم انتہائی جاندار اور مدلل ہے.

اس سے ان کے صاحب علم اور باخبر ہونے کا خوب خوب اندازہ لگایا جاسکتا ہے. مفتی صاحب ہمارے انتہائی گہرے دوست ہیں بعض ذمہ داریوں میں ایک ساتھ کام کرنے کی وجہ سے میں نے ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے. اللہ تعالی نے ان کو گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا ہے وہ انتہائی ذمہ دار ہیں اور ان کی خوش اخلاقی کے بارے میں بھی کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتا .

ان کا تعلق سرزمین ہزارہ سے ہے جس کے بارے میں یہ کہنا کافی ہو گا کہ : “ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے علاقے کے بہت سے لوگ مختلف علاقوں میں دینی امور سر انجام دینے میں ممتاز نظر آتے ہیں . اس مضمون سے ہمارا اور ان کی ذہنی ہم آہنگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں . پھر موصوف پاکستان کے مشہور و معروف ادارے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دارالافتاء کے اہم رکن ہیں . مفتی صاحب کبھی کبھی حساس موضوعات پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اور اس موضوع کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ .

مزید پڑھیں: وفاق المدارس اور مولانا فضل الرحمن ، فاصلوں کی حقیقت

مفتی صاحب نے اس مرتبہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مختصر تاریخ لکھی ہے . جس کا نچوڑ یہ ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا کوئی عہدہ اور منصب سونپا جائے تو اس میں اصولی. دستوری اور اخلاقی کوئی رکاوٹ نہیں ہے .

بندہ ناچیز ان کے اس مضمون کی حرف بہ حرف تائید کرتا ہے اور زمینی حقائق کو جانتے ہوئے اسی رائے کو عملی جامہ پہنانے کو وقت کا اہم فریضہ بھی سمجھتا ہے . اس بات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گذشتہ دنوں مجھ سے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم حضرت مولانا عبیداللہ خالد صاحب نے حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان نوراللہ مرقدہ کا قول نقل کیا کہ حضرت رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ وفاق المدارس کے معاملات میں مولانا فضل الرحمن صاحب کو کبھی نظر انداز نہ کریں. بہرحال یہ معاملہ تو وفاق المدارس کے ارباب حل و عقد کا ہے کہ وفاق المدارس میں کس کی موجودگی مناسب ہے اور کس کی نہیں.

الغرض مجھے اس وقت اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس مضمون میں جو کہ 9 صفحات پر مشتمل ہے مفتی صاحب نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا بالکل تذکرہ نہیں کیا ہے. حالانکہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے لئے حضرت شیخ رحمہ اللہ کی خدمات انتہائی مثالی اور قابل تقلید ہیں. چنانچہ 1980 میں وہ وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ وابستہ ہوئے اور شب و روز محنت کر کے انہوں نے وفاق کو آفاق تک پہنچایا .

مزید پڑھیں: وفاق المدارس العربیہ کو مُتنازعہ مَت بنائیے

وفاق المدارس کے نظام کو مضبوط اور مستحکم بنانے اور اس کو عروج تک پہنچانے میں حضرت نے اپنی جوانی لٹا دی۔ وہ وفاق کی نظامت علیا اور صدارت کے مناصب پر فائز رہے. اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وفاق المدارس سے ان کی یہ وابستگی سال دو سال کی نہیں تھی کہ تاریخ اسے بھول جاتی بلکہ ان کی خدمات جلیلہ کا عرصہ سینتیس 37 سال پر محیط ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ مفتی صاحب جیسے باخبر شخص پر تاریخ کا یہ اہم اور طویل باب کیونکر مخفی رہا ؟ .

آیا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی تاریخ اس زرین عہد کے تذکرے کے بغیر مکمل ہو سکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی در نفی کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا . نیز انصاف کی نظر سے دیکھنے والے اسے وفاق المدارس کی ادھوری تاریخ ہی قرار دیں گے. کیا نو صفحات کے اس مضمون میں سینتیس سالہ خدمات کے تذکرے کے لئے چند جملے مناسب نہیں تھے ؟

اسی طرح اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو گی کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند ڈاکٹر محمد عادل خان رحمہ اللہ کو بھی وفاق المدارس کے اتحاد کو کمزور کرنے اور اس میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے شہید کیا گیا . اس لیے کہ آخری زمانے میں ان کی ساری دوڑ دھوپ وفاق المدارس کے مستقبل کو محفوظ اور مستحکم بنانے ہی کے لئے تھی.

مزید پڑھیں: مدارس کی لفنگا پارٹی

ذرا معلوم کیا جائے کہ شہادت سے تھوڑی دیر پہلے جامعہ دارالعلوم کراچی ان کا تشریف لے جانا کس مقصد سے تھا ؟ نیز یہ کہ وہاں سے واپسی پر جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن وہ کس غرض سے جانا چاہتے تھے ؟ لیکن درمیان میں سفاک قاتلوں نے ان سے زندگی کا پیالہ چھین لیا .

اس حقیقت کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وفاق المدارس العربیہ کے لئے جامعہ فاروقیہ کی خدمات اور قربانیاں کسی سے زیادہ نہیں تو کم بھی ہرگز نہیں۔ تاریخ اس حقیقت سے کبھی بھی چشم پوشی نہیں کر سکتی اور ہر مؤرخ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو اس کا تذکرہ کرنے پر مجبور پائے گا۔

حضرت مفتی رفیق صاحب کے مضمون کو پڑھ کر مختلف لوگوں کی زبان پر مختلف باتیں ہوں گی لیکن ہمارا ذہن نہ اس طرف جاتا ہے اور نہ ہم خدانخواستہ کوئی بدگمانی کرتے ہیں . اس لئے کہ علماء اور صلحاء کا ماحول ان باتوں سے پاک ہوتا ہے۔ یہ پاکباز ہستیاں تو دنیا کو الوداع کہہ چکیں. ان کی بھلائیوں کا صلہ اللہ تعالی انہیں ضرور عطا فرمائیں گے اور ہمیں بھی ان کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے – آمین یا رب العالمین .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *