مولانا طارق جمیل اور کپڑوں کا کاروبار”

تحریر: مفتی غیور احمد

حضرت اقدس مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کپڑے کا برانڈ لانچ کیا ہے جو کہ قابل تحسین ہے۔۔مولانا نے ایک بیان میں فرمایا کہ اس کے منافع سے غریبوں کی مدد کرنے میں معاونت حاصل ہوگی۔

مزید فرمایا کہ جو لوگ مجھ پر اعتراض کررہے ہیں انکو چاہیے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حالات پڑھیں کیونکہ امام صاحب خود کپڑوں کے بہت بڑے تاجر تھے۔۔۔ بس مولانا آپ سے یہ عرض کرنا ہے کہ ہر کوئی اپنے طبقے میں محنت کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔۔ بے شک ہمارے نبی آخری نبی تھے اور یہ امت آخری امت ہے اور آپ جیسے علماء بلاشبہ انبیاء کے وارث ہیں۔۔

مزید پڑھیں: علماء کو تجارت کرنے پر دنیا داری کا طعنہ کیوں؟

بس صرف ایک کام کریں کہ اس برانڈ کی آمدنی میں سے سب سے پہلا مستحق وہ اپنے طبقے یعنی علماء ،طلباء اساتذہ،امام مسجد و قراء حضرات کو سمجھیں۔۔اللہ پاک سب کی عزتوں کا پردہ سلامت رکھے۔۔مگر مولانا یقین مانیں کہ علماء کے اس محروم طبقے کا گزارا اتنی کم تنخواہ میں ہرگز ہرگز نہیں ہوتا۔اور یہ وہ واحد طبقہ ہے کہ جو آپکے فاؤنڈیشن میں آکر علی الاعلان کبھی بھی اپنے آپکو رجسٹرڈ نہیں کروائے گا۔۔

بس یہی التجاء ہے کہ دین کے خدمت گاروں کی مدد ترجیحی بنیادوں پر کیجئے۔۔یا پھر کوئ ایسا پلان ترتیب دیجیے کہ یہ دین دار افراد آپ کے کپڑے کے کاروبار کے منافع میں کسی طرح شریک منافع اور آپکے بزنس پاٹنر بن سکیں۔۔۔

(ویسے یاد آیا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تو خود دین دار طبقے کو بہت نوازا کرتے تھے۔۔)
ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک آپکی قدم قدم پر نصرت فرمائے۔۔آمین۔۔۔
والسلام

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *