علماء کو تجارت کرنے پر دنیا داری کا طعنہ کیوں؟

تحریر: عبدالوہاب

آج کل حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کے حوالے سے کافی گفتگو ہو رہی ہے، ویسے تو ہر دور میں مولانا طارق جمیل صاحب میڈیا میں زیر بحث اور خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں، اس دفعہ انکا نام کپڑوں کے ایک برانڈ کو لانچ کرنے کی وجہ سے گردش میں ہے۔

اس حوالے سے چند گزارشات آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی گزارش تو یہ ہے کہ حلال روزی کمانا مسلمان کا فرض ہے، کیونکہ “كسب الحلال فريضة بعد الفريضة” کہ حلال روزی کمانا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور ہر شخص کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لیے حلال روزی کے اسباب پیدا کرے، اس کیلئے محنت اور جستجو کرے۔ اور یہی مطلوب شریعت بھی ہے۔ اور ہم جس دین کے ماننے والے ہیں اس نے حلال کمانے والے کو “الکاسب حبیب اللہ” کا لقب دیا ہے۔

“الصحابہ کلھم تجار” سارے صحابہ کرام تاجر تھے، “لإيلاف قريش” کے اندر قریش کا ذریعہ معاش بھی بیان کیا گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تجارت کی۔ صحابہ کرام بھی تجارت کرتے تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی کپڑے کی تجارت تھی، حضرت عثمان، حضرت عمر، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت زبیر رضی اللہ عنہم یہ سب حضرات بڑے بڑے تاجر تھے، اسی طرح تمام صحابہ کرام تجارت یا زراعت کے پیشے سے منسلک تھے، اسی لئے اللہ تعالی نے انہیں بہت خوشحالی سے نوازا ہوا تھا، اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ حلال رزق کمانا ہر شخص کا بنیادی حق ہے، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم نے صحابہ کرام کی زندگی کا اچھے طریقے سے مطالعہ کیا ہوتا تو اس قسم کے اعتراض نا اٹھاتے، کیونکہ صحابہ پوری دنیا میں گئے، وہ سارے تجارت بھی کرتے، ساتھ ساتھ دین کا کام بھی کرتے تھے، بلکہ ان کی تجارت اصل میں دعوت تھی، انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی، سریلنکا یہ سارے علاقے صحابہ کرام اور مسلمان تاجروں کی دینداری، امانت داری، اور تجارت کی وجہ سے مسلمان ہوئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں رواں سال ای کامرس تجارت کا حجم100بلین روپے سے تجاوز کرجائےگا

جلیل القدر صحابی حضرت عبد الرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، آپ انکی زندگی کا مطالعہ فرما لیں کہ وہ کتنے بڑے تاجر تھے۔ تمام دوست واحباب، خاص طور پر علماء کرام جو مولانا طارق جمیل صاحب پر تنقید کر رہے ہیں یا مشورہ دے رہے ہیں، انکی بات سمجھ سے بالا تر ہے۔ میری تو گذارش یہ ہے کہ تمام علماء کرام تجارت ضرور کریں۔

میں آپکے سامنے قرآن وحدیث اور اسلامی تاریخ کے دریچوں سے کچھ حقائق پیش کرنا چاہتا کہ اللہ تعالی، ایک حدیث میں ارشاد ہے: “حلال کسب معاش اختیار کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ” (کنز العمال حدیث نمبر(5/4-4020)
۔
قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: “پھر جب جمعہ کی نماز ادا کرلی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (روزی، مال) تلاش کرو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو تاکہ تم فلاح حاصل کرو (الجمعۃ: ۱۰)۔

اس آیت میں کسب معاش کو اللہ کا فضل قرار دیا گیا ہے۔
ایک حدیث میں ارشاد ہے: “انَّ اللّٰہ یحب المؤمن المحترف”۔ اللہ تعالیٰ صنعت وحرفت کا پیشہ اختیار کرنے والے مسلمان کو پسند فرماتے ہیں۔ (الترغیب:2:335رواہ الطبرانی)کسب معاش کی اہمیت اور فضیلت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہر نبی نے کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش اختیار کیا ہے، چنانچہ :
٭…حضرت آدم علیہ السلام زراعت کیا کرتے تھے۔
٭…حضرت ادریس علیہ السلام سلائی کا کام کیا کرتے تھے۔
٭…حضرت داؤد علیہ السلام زرہیں بنایا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: سندھ میں خون کی تجارت کا دھندا عروج پر

نبوت ملنے سے قبل حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے مضاربت کی بنیاد پر کام کیا کرتے تھے اور حضرت عبد اللہ بن سائب کے ساتھ پارٹنر شپ پر کاروبار بھی فرمایا ہے۔ عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ تھے فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں محمدﷺ کا شریک تجارت تھا۔ میں جب مدینہ طیبہ حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: مجھے پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟

’’کنت شریکی فنعم الشریک لا تداری ولا تماری‘‘ ترجمہ: تم تو میرے بہت اچھے شریک تجارت تھے نہ کسی بات کو ٹالتے اور نہ کسی بات پر جھگڑا کرتے۔ (خصائص کبریٰ 191/1، اسد الغابہ: 231/52))
اور پھر ایک حدیث میں یہ خوشخبری سنائی گئی کہ” سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء، اور صالحین کے ساتھ جنت میں ہوگا۔

اب بڑی عجیب بات کہ اگر کوئی عالم، مفتی، قاری یا حافظ اگر تجارت کرے تو کہتے ہیں کہ وہ دنیا دار ہو گیا، اگر تجارت نہ کرے اور مسجد یا مدرسے میں بیٹھا رہے تو کہتے ہیں کہ مفت کی روٹیاں توڑ رہا ہے، انکو کوئی کام کاج نہیں ہے، لوگوں سے مانگ کر کھاتا ہے، یعنی کام کرے پھر بھی طنز، کام نہ کرے پھر بھی طنز، کہ کوئی کام دھندھا نہیں کرتے۔ مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ آخر علماء کریں تو کریں کیا؟

لہذا گذارش یہ کرنی ہے کہ صرف اس بات پر اختلاف کرنا کہ کسی عالم نے یا مولانا طارق جمیل صاحب نے اپنا کاروبار کیوں شروع کیا؟ میرے خیال میں یہ بہت ہی کمزور دلیل ہے۔ جہاں تک میرا مطالعہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مال سے جو اسلام کی خدمت کی اس کی مثال تاریخ میں نہیں مل سکتی، اور حدیث میں آتا ہے کہ ” اليد العليا خير من اليد السفلى” کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا طارق جمیل صاحب نے یہ سلسلہ شروع کر کے کسی بھی غلطی کا ارتکاب نہیں کیا۔ ایک سادہ سی بات ہے کہ سالانہ اتنے زیادہ علماء کرام مدارس سے فارغ ہوتے ہیں، اور مدارس میں پڑھانے یا مساجد میں امامت کرنے کے علاوہ انکے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا، کسی قسم کی کوئی نوکری یا فیسلٹیز بھی نہیں۔ تو صرف تجارت کا شعبہ ہی بچتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ علماء کرام تجارت کریں ساتھ ساتھ دینی کام بھی کریں، اور وہ تجارت کے ساتھ دینی کام اچھے طریقے سے کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں: تاجروں نے 15 رمضان سے کاروبار کھولنے کا اعلان کر دیا

میں سمجھتا ہوں کہ جو طلبہ دورہ حدیث کے سال مدارس سے فارغ ہو رہے ہوں، تو اس سال یا پڑھائی کے دوراں انکو ضرور کوئی ایسی تربیت اور ٹریننگ دی جائے، یا کوئی ہنر سکھایا جائے جس سے ان کیلئے روزگار کمانے کے مواقع میسر ہوں۔ الحمدللہ میں نے شروع سے تجارت کی، تجارت میں اللہ تعالی نے برکت، عزت اور خوشحالی رکھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ علماء کرام کو خوشحال ہونا چاہیے-

بہر حال میں ہر بیان، ہر تقریر، ہر تحریر میں اپنے سامعین و قارئین کو اکثر کہا کرتا ہوں کہ مسلمان کو طاقتور ہونا چاہیے، اور مسلمان اسی وقت طاقتور ہوگا جب اس کے پاس دنیا کی تجارت ومعیشت ہوگی، عالمی منڈیاں اسکے کنٹرول میں ہونگی، جس سے طاقت حاصل ہو گی، طاقت سے پھر مسلمان ٹیکنالوجی حاصل کریگا، علم حاصل کریگا، پھر دنیا کی سیاست بھی مسلمانوں کے پاس ہوگی۔
یہ وہ چند گذارشات تھیں جو مینے آپکے سامنے پیش کیں، اللہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *