ایم کیو ایم کا چھپا رُستم !

22اگست 2016کے الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیانیے کے بعد وجود میں لائی جانے والی ایم کیو ایم پاکستان مہاجروں کی یا شہری سندھ کی نہیں بلکہ گِدھوں پرمشتمل ایسی جماعت بن چکی ہے جو نہ صرف ایم کیو ایم کے مردہ لاشے کوبری طرح نوچ رہی ہے بلکہ لوٹ مار کا وہ بازار گرم کیا ہے کہ خواجہ اظہار الحسن جیسے ٹچے ، ملائشیا مین بن لادن کمپنی کا کرین آپریٹر آج مہاجروں کا نام نہاد دانشور بن بیٹھا ہے اور ٹھٹھہ اور میر پور ساکرو میں کئی سو ایکڑ زمینوں کا مالک بن بیٹھا ہے اور کسی جدی پشتی نواب کی طرح تھکن اتارنے اور چھٹیاں گذارنے جاتا ہے

بیس سال پہلے محلے کے لڑکوں سے مانگ کر سگریٹ پینے والے خواجہ اظہارنے راتوں رات بفرزون کے 120گز کے گھر سے ڈی ایچ اے کےایک ہزار گز کے بنگلے تک کا سفر کیا اور اب کئی خفیہ کمپنیوں کا کاروبار ملک اور بیرون ملک کررہا ہے

جبکہ اس کا بھائی ابصار الحسن سرجانی کا مشہور ومعروف لینڈ گریبر ہے جس کے خلاف مقدمہ بھی درج ہے یہی نہیں خواجہ اظہار نے اپنے سسرال کو بھی نوازنا شروع کردیا ہے اس کی بیوی اور برادر نسبتی سیف اللہ غوری شہر کے معروف لینڈ گریبر ہے فلیٹوں پر قبضہ کراکے خواجہ اظہار الحسن کا اثر ورسوخ استعمال کرکے ثالث بن کر بھاری کمیشن کے عیوض قبضہ ختم کراتے ہیں

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے طاقتور ترین رہنما محمد انور!!

کسی کو یقین نہیں تو گلستان جوہر کے اسٹیٹ ایجنٹوں سے خواجہ اظہار کے سالے سیف اللہ غوری کے بارے میں پوچھ لیا جائے وہاں کے مشہور زمینوں کے دلال ان کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور اب اس نے چور دروازے سے اپنے سالے سیف اللہ غوری کی بیوی سبین غوری کو بھی نہ صرف ایم کیو ایم میں داخل کرایا بلکہ اب اس کو سینیٹ کا امیدوار بھی بنا دیا ہے

ایک انتہائی سطحی ذہن اور معمولی تعلیم یافتہ خاتون کو سینیٹ جیسے ایوان بالا میں مہاجروں کا نمائندہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور مختلف ذرائع سے دباو ڈال کر اس کو ہر صورت میں خواتین کی نشست پر منتخب کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا رہا ہے

ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کے مطابق سبین غوری کے امیدوار بنائے جانے پر نہ صرف قیادت کی سطح پر بلکہ کارکنوں کی سطح پر شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور کارکنان کھل عام کہتے پھر رہے ہیں کہ سبین غوری کی صرف ایک کوالٹی ہے کہ وہ خواجہ اظہار الحسن کی بیوی کی بھاوج ہے سبین غوری کو منتخب کرانے کے لئے خواجہ اظہارنے یہ لابنگ شروع کردی ہے کہ ایم کیو ایم کو چاہئیے کہ ٹیکنوکریٹ کی بجائے خواتین کو نمائندگی دے اور اس میں سب سے موزوں سبین غوری ہے جو ینگ اور انرجیٹک ہے اور خالدہ اطیب جو عمر رسیدہ بھی ہیں اور اس عہدے کی لئے انتہائی ناموزوں ہے اور ان کے خلاف پراپیگنڈا بھی کررہا ہے

مزید پڑھیں: لندن: ایم کیو ایم کے اہم رہنما انتقال کرگئے

جبکہ ایم کیو ایم کا مثبت سوچ رکھنے والا حلقے کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم کو ٹیکنو کریٹ کی نشست کے ذریعے ایک پڑھا لکھا اور دبنگ سینیٹر ایوان بالا میں بھیجنا چاہئیے جس کی خواجہ اظہار شدید مخالفت کررہا ہے یہی نہیں خواجہ اظہار جنرل نشست کے لئے ایم کیو ایم کے ممبران صوبائی اسمبلی کے ووٹ فروخت کرنے کے لئے بھی زبردست بھاگ دوڑکررہا ہے اور ممبران اسمبلی کو پیپلز پارٹی سے اچھے پیسے دلانے کی یقین دہانی کرارہا ہے۔

ایم کیو ایم حقیقی سے توبہ کرکے ایم کیو ایم اور پھر ایم کیو ایم پاکستان تک آنے والا خواجہ اظہار اس وقت فیصل سبزواری کو بھی تعاون کا یقین دلا رہا ہے اور عامر خان کو بھی ڈٹے رہنے کی تلقین کررہا ہے اس صورتحال کی وجہ سے ایم کیو ایم کے اندرون خانہ حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور ایک روز پہلے ہونے والے اجلاس میں فیصل سبزواری نے احتجاجاً شرکت بھی نہیں کی تھی —دیکھنا اب یہ ہے کہ سبین غوری کو کامیاب کراکے ایم کیو ایم کا لینڈ مافیا گروپ کامیاب ہوتا ہے یا ٹیکنو کریٹ کی نشست حاصل کرکے نظریاتی سوچ کامیا ب ہوگی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *