غریب آباد، ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ، نوجوان جاں بحق

کراچی ( الرٹ نیوز ) کمپیوٹر سائنس کا طالب علم ، 20 سالہ اسامہ بندھانی فائرنگ سے جاں بحق، مسلح ڈاکوؤں نے ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔

ہائی کورٹ کے سینئر وکیل حنیف بندھانی کےپوتا اور اردو یونیورسٹی کے سابق ڈائیریکٹر شعبہ تصنیف و تالیف ڈاکٹر جمیل بندھانی کا بھتیجا ،اسامہ بندھانی کو دن دھاڑے فائرنگ کرکےقتل کر دیاگیا۔ مسلح ڈاکوؤں نے ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔

بندھانی برادری میں سوگ کا سما بندھ گیا ۔ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا نوجوان یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کا طالب علم تھا۔تفصیلات کے مطابق اردو یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف اردو یونیورسٹی کے سابق ڈائیریکٹر ڈاکٹر جمیل بندھانی کابھتیجا 20 سالہ نوجوان اسامہ سعید بندھانی تھا ۔

مزید پڑھیں: موبائل نے ہم سے کیا چھین لیا؟

شریف آباد تھانے کی حدود غریب آباد میں ہفتہ کی شب مسلح ڈاکوؤں نے اسامہ سے پہلے موبائل فون مانگا اور فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مقتول اسامہ مکینک کی دوکان سے گاڑی ٹھیک کروا رہاتھاکہ اچانک موٹر سائیکل پرسوار دو ملزمان پہنچے اور پستول دکھاکر موبائل اور پرس مانگا ، اسامہ نے بغیر کسی مذاحمت کے فوری طور پردونوں چیزیں حوالے کر دی۔ لیکن اچانک ملزمان میں سے ایک نے کسی خوف کی وجہ سے اچانک اسامہ پر د وفائر کیے جوکہ دل کے قریب لگے اور فرار ہوگئے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی قریب ہی قریب موجود چچا ڈاکٹر جمیل بندھانی ، والد سعید بندھانی اور والد ایڈوکیٹ حنیف بندھانی اور علاقہ کے لوگ موقع پر پہنچے اور ذخمی اسامہ کوآغاخان ہسپتال پہنچایا، جہاں خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے موت واقع ہوگئی ۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ، سندھ حکومت نے کراچی اسٹریٹ لائٹس کی بندش کا نوٹس لے لیا

واضح رہے کہ شہر میں پی ایس ایل کی وجہ سے پولیس کی سخت سیکورٹی کے باوجود ملزمان آزاد اناگھومتے پھر رہے ہیں۔ جس کے سبب کچھ ہی دنوں میں شہر میں وارداتیں بڑھ رہی ہیں ۔ غریب آباد کا علاقہ نیشنل اسڈیڈیم کے قریب ہی ہے لیکن اس کے باجود اطراف میں پولیس کی سخت سکیورٹی کے باجود بھی ملزمان بآسانی واردات کرکے فرار ہوگئے۔

مقتول اسامہ پانچ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کا طالب علم تھا اور پارٹ ٹائم والد سعید بندھانی کے ساتھ پراپرٹی کا کام کرتا تھا۔ گھر میں سب چہیتا ہونے کے سبب ملنسار اور انتہائی نیک بچہ تھا۔مقتول کے دادا ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ محمد حنیف بندھانی نے شہر میں انتظامی غفلت اور بے حسی کا مرتکب سندھ حکومت کے سیاسی حکمرانوں کو قرار دیا۔

یوں تو اعلیٰ شخصیات کے پروٹول کا پورا خیال رکھا جاتا ہے مگر عوام کی حفاظت کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ فراہم کرے۔ حنیف بندھانی نے آئی جی پولیس سے درخواست کی کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کرائم رپورٹر اور ادب سے تعلق اچنبے کی بات ہے !

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ تھانہ ایس ایچ او ، ڈی ایس پی، ایس ایس پی پہنچ گئے۔ مقتول اسامہ کے جنازے پر شہر کے سیاسی ، مذہبی ،سماجی شخصیات کے علاوہ علاقہ مکین اور بندھانی برادری کے لوگوں نے شرکت کی اور تعزیت کا اظہارکیا ۔

اس موقع پر سعید بندھانی ، سینئر ایڈوکیٹ حنیف بندھانی اور ڈاکٹر جمیل بندھانی کے علاوہ علاقہ معززین نے سندھ حکومت اور پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اور مطالبہ کیا ہے فوری طور پر سندھ حکومت شہر میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا نوٹس لیا جائے اور اسامہ بندھانی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *