سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (پانچویں قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

قسط نمبر 5
قلعہ کو جنگی لحاظ سے مستحکم بنانے میں سلطان نے کسی قسم کا وقیقہ فرو گزشت نہ کیا. اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے بہت بڑا امیگریشن تعمیر کیا. دیو پیکر توپیں نصب کرنے کے لیے جا بجا مومے تیار کراۓ. بازنطینی حکومت خوب جانتی تھی یہ سب تیاریاں کس غرض سے ہو رہی ہیں اور یہ جنگی قعلہ کس مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے. لیکن ان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ سلطان کو قلعہ کی تعمیر سے بزور روک سکتی.

رومی شہنشاہ کی عبرت ناک حالت کا اندازہ اس امر سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ اس نے قلعہ کی تعمیر کے دوران میں ترک مزدوروں کے لئے سامان خوردنوش مہیا کرنے کی پیش کش بھی کی تھی تا کہ شاید اسی طرح سلطان کا دل پسیج جائے اور وہ قسطنطنیہ پر حملہ کرنے سے باز رہے.

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

جوں جوں قلعہ کی تعمیر آخری مراحل کو پہنچتی جاتی تھی باشندے ان جنگی حملوں کے خوف سے ہراس میں آ ضافہ ہو جاتا تھا. قسطنطین نے اس کی تعمیر کے خلاف کئی بار احتجاج کیا اور کہا کہ ایک ایسی مملکت کے خلاف جو دولت عثمانیہ سے دوستانہ تعلقات رکھنے کی خواہش مند ہے جنگی کاروائیاں کرنا مناسب نہیں لیکن سلطان پر ان احتجاج کا کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے انھیں پاۓ حقارت سے ٹھکرا دیا. وہ جانتا تھا کی بازنطینی لشکر میں طاقت نہیں کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے منظم لشکروں سے مقابلے کی تاب لا سکے. اور نہ ہی بازنطینی حکومت کا کوئی اثر قسطنطنیہ کی دیواروں سے باہر ہے.

اس لیے اس نے ان احتجاج کو پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہ دی اور قسطنطین کو صاف الفاظ میں یہ بات بتا دی کہ قسطنطنیہ کو چھوڑ کر باقی تمام نواحی علاقہ سلطان کے زیر تصرف ہے اور اسے حق ہے کہ اپنے علاقے میں دفاع کے لئے جو تدابیر مناسب سمجھے اختیار کرے سلطان نے اسے یہ بھی بتاتا کہ اس نے قلعہ کی تعمیر غایت درجہ مجبور ہو کر شروع کی ہے. کیونکہ بازنطینی سلطنت کی طرف سے اسے ہر وقت خطرہ ہے کہ کہیں وہ سمندری راستوں پر قبضہ کرنے اور مسلمانوں کے جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہ کرے.

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

سلطان کا یہ خدشہ بے بنیاد نہ تھا کیونکہ اس کے والد سلطان مراد ثانی کے عہد میں ہنگری سے جنگ کے موقع پر بازنطینی حکومت ترکوں کے بحری حمل و نقل میں رکاوٹ پیدا کر چکی تھی.جب قسطنطین کو یقین ہو گیا کہ سلطان قلعہ کی تعمیر کسی طرح بند نہیں کریں گا تو اس نے آخری تدبیر کر کے ایک بھر پور حملہ کر کے قلعہ پر قبضہ کرنا اور تعمیر شدہ عمارتوں کو منہدم کرنا چاہا مگر سلطان کی فوج بھی غافل نہ تھی اس نے حملہ آوروں کو سختی سے پسپا کر دیا. نتیجہ یہ ہوا کہ سلطان نے اس حملے کی آڑ لے کر قسطنطین کے خلاف کھلم کھلا حالت جنگ کا اعلان کر دیا.

اگست 1452ء رجب 856ھ میں قلعہ کی تعمیر پائیہ تکمیل کو پہنچی. سلطان نے اپنے ایک جرنیل فروز آغا کی قیادت میں ایک زبردست فوج اس کی حفاظت کی خاطر وہاں متعین کر دی. چونکہ اب باسفورس پر اس کا مکمل کنٹرول ہو چکا تھا اس لیے اس نے ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ کسی جہاز یا کشتی سے محصول لیے بغیر اسے آبناۓ باسفورس سے نہ گزرنے دیا جائے.

عثمانی فوج نے اپنا دائرہ و عمل قلعہ کی چار دیواری تک محدود نہ رکھا بلکہ نواحی علاقوں میں بھی جنگی نقل و حرکت شروع کر دی. یہ دیکھ کر شہنشاہ قسطنطین کو یقین ہو گیا کہ اس کی صلح کی اپیلیں سود مند ثابت نہیں ہو سکتیں اور سلطان ہر قیمت پر اس کا اقتدار ختم کرنے پر تلا ہوا ہے. اگرچہ اس کی حالت ہر لحاظ سے ابتر ہو رہی تھی لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور آخر دم تک عثمانیوں کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کر لیا. اس نے قسطنطنیہ کے دروازے بند کر لیے اور نہایت عیاری کے ساتھ سلطان کو ایک خط لکھا کہ میں مظلوم ہوں اور تم نا حق مجھ پر حملہ کر رہے ہو. ساتھ ہی سلطان کو دھمکی بھی دی کہ اگر تم نے حملہ کیا تو میں سارے سابقہ معاہدے توڑ ڈالوں گا. مطلب یہ تھا کہ اس دھمکی میں آ کر سلطان حملے سے باز رہے خط کا مضمون یہ تھا.

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

مجھ پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ آپ صلح کی نسبت جنگ کے خواہاں ہے. میں نے آپ کو بار بار یقین دلایا کہ میں اپنے سابقہ تمام معاہدات پر پوری طرح کار بند رہوں گا اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف کوئی معاندانہ اقدام نہ کروں گا. لیکن آپ نے میری یقین دہانیوں پر اعتبار نہ کیا. اب میں اپنا تمام معاملہ خداوند کے سپرد کرتا ہوں. اگر اس نے یہی فیصلہ کر دیا ہے کہ قسطنطنیہ میرے ہاتھ نکل کر آپ کے ہاتھ میں چلا جاۓ تو کسی انسان میں طاقت نہیں کہ اس کے فیصلے کی راہ میں حائل ہو سکے. اور اگر وہ آپ کے دل میں صلح کی حواہش پیدا کر دے تو میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا مگر چونکہ جیسا مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے. اس لیے میں وہ تمام معاہدے منسوخ کرتا ہوں جو قبل ازیں میں نے آپ سے اور آپ کے والد سے کیے تھے اور آپ کو یہ بات جتا دینا چاہتا ہوں کہ میں اس وقت تک شہر کی حفاظت کرتا رہوں گا. جب تک میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھے رہے گا.

شہنشاہ نے یہ ایک الیچی کے ہاتھ سلطان کو ادرنہ بھیج دیا اور خود قلعہ بند ہو کر بیٹھ گیا. جو ترک باشندے اس وقت قسطنطنیہ میں موجود تھے انھیں اس نے قید کرنے کا حکم دے دیا. ادھر جب سلطان کو قسطنطین کا یہ خط ملا تو اس کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی. وہ فوراً پچاس ہزار فوج لے کر ادرنہ سے روانہ ہوا اور قسطنطنیہ پہنچ کر کر اپنی فوج کو شہر کے چاروں طرف پھیلا دیا. تاہم اس مرتبہ وہ زیادہ عرصے تک وہاں تک وہاں نہ ٹھہرا بلکہ تین روز تک قیام کر کے واپس ادرنہ آ گیا. ان تین دن کے عرصے میں اسے قسطنطنیہ کے دفاعئ انتظامات کے متعلق مفصل معلومات حاصل کر لیں. دراصل اس مرتبہ اس کی آمد کا مقصد ہی قسطنطنیہ کے دفاعی انتظامات کے متعلق معلومات حاصل کرنا تھا کہ ان کی روشنی میں وہ آ ہندہ مناسب راہ عمل اختیار کر سکے…

فوج کو ضرروی ہدایات دے کر سلطان واپس ادرنہ پہنچا اور یہاں لڑائی کے انتظامات میں مصروف ہو گیا. شہنشاہ قسطنطین کے دو بھائی اس وقت یونان میں موجود تھے اور اس نات کا قوی امکان تھا کہ وہ فوجوں اور اسلحے سے اپنے بھائی کی مدد ضرور کرے گے. اس خطرے کا ازالہ سلطان اس طرح کیا کہ طور خاں کی قیادت میں ایک فوج یونان سے ملحقہ جزیرہ نما موریا میں بھیجی جس نے جا کر اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور قسطنطنیہ کو بھیجی جانے والی کمک کی راہ مسدود کر دی.

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (چوتھی قسط)

رومیلیا حصار کی تعمیر سے سلطان کو زبردست فائدہ پہنچا کیونکہ اس طرح آبناۓ باسفورس میں دشمن جہازوں کی آمدورفت کلیتہ بند ہو گئی. بحیرہ اسود سے آنے والے بعض جہازوں نے آبناۓ باسفورس کو عبور کر کے قسطنطنیہ کی بندر گاہ میں پہنچنا چاہا لیکن سلطان کی فوج نے انھیں روک دیا. اور ایک بھی جہاز کو آگے نہ جانے دیا.

سلطان نے ادرنہ پہنچ کر اپنے فوجی سرداروں کو جمع کیا اور تمام صورتحال سے انھیں آگاہ کر دیا. اس نے بتا دیا کہ اس وقت بازنطینی سلطنت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ قسطنطنیہ پر قبضہ کرنا کوئی دشوار امر نہیں. سیاسی حالات ہمارے لیے ساز گار ہیں اور ہمارے پاس اتنی قوت موجود ہے جس سے ہم دشمن کا بآسانی مقابلہ کر کے اس کی کمر توڑ سکتے ہیں. لیکن اس کام میں دیر ہرگز نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اگر مغربی طاقتیں قسطنطین کی پشت پر کھڑی ہو گئیں اور یورپ سے بازنطینیوں کو کمک پہنچنی شروع ہو گئی تو اس وقت قسطنطنیہ پر قبضہ کرنا آسان نہ رہے گا اور محاصرے کے لمبا ہونے کے باعث خود ہمیں نقصان سے دو چار ہونا پڑے گا…

تمام سرداروں نے متفقہ طور پر سلطان کا ساتھ دینے کا اقرار کیا اور سلطان نے بڑی تیزی سے اس مہم کی تیاریاں شروع کر دی. سب سے پہلے تو اس نے قسطنطنیہ کی ان تمام نواحی قلعوں پر قبضہ کیا جو ابھی تک اس کے زیر نگیں نہ آئیں تھے اس طرح بحیرہ اسود اور بحیرہ مارمورا کے ساحل پر واقع تمام قلعوں اور شہروں کو بھی کلی طور پر اپنے زیرنگیں لا کر پشت کی حفاظت کا سامان بہم پہنچا لیا اور اب اسے یہ اندیشہ نہ رہا کہ دشمن کی کوئی فوج کسی وقت اس کی بے خبری سے فائدہ اٹھا کر اس پر اچانک حملہ کر سکے گی…

مزید پڑھیں: ترکی کی آیا صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل

جونہی قسطنطین کو یہ علم ہوا کہ سلطان قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے اس نے شہر کی دفاعی انتظامات کو تیز کر دیا سب سے اول ضرروی تھا کہ شہر کی فصیل کے بوسیدہ حصوں کو درست کیا جاتا. چنانچہ یہ کام پورے زور و شور سے شروع ہو گیا اور اس کے لیے قبروں کے پتھر اور پرانی عمارات کی اینٹیں استعمال کی گئی.. بڑی سرعت سے اسلحہ اور سامان رسد کے ذخائر اکھٹے کیے گئے. اس کے علاوہ آتش بیان مقرروں کو یورپ کے مختلف علاقوں میں روانہ کیا گیا تا کہ وہ اپنی پر جوش تقریروں سے مسیحیوں کے دلوں میں ایک آگ لگا دیں اور وہ قسطنط کو ترکوں سے بچانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں. تاہم شہر کے باشندوں پر حالت نا امیدی طاری تھی اور انھیں ہر گز یقین نہ تھا کہ اس کھٹن اور نازک وقت میں یورپ کے خود غرض مسیحی ان کی مدد کے لیے دیوانہ وار چلے آئیں گے….

ادھر سلطان کی فوجی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی تھی اس نے ایک عظیم الشان لشکر جمع کیا. جس کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ تھی ایک زبردست بحری بیڑا بھی تیار کیا تھا اور قریب و جواز کے تمام قلعوں میں وافر مقدار میں اسلحہ رکھ دیا تا کہ ضرورت کے وقت فورا دستیاب ہو اس نے اپنی توپیں قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیجبنی شروع کر دی اور ساتھ ہی جنگی جہاز اور کشتیاں بنانے کی مقدار بھی تیز کر دی….

سردیوں کا تمام موسم ترکوں اور بازنطینی کا جنگ کی تیاریوں میں گزرا اس دوران میں یورپ کی بعض ریاستوں کی طرف سے بازنطینی کو کسی حد تک امداد موصول ہو گئی. وینس کی دو کشتیاں جن میں جنگی سامان لدا ہوا تھا کسی نہ کسی طرح آبناۓ باسفورس عبور کر کے بندر گاہ قسطنطنیہ میں لنگر انداز ہونے میں کامیاب ہوگئے..

مزید پڑھیں: کیا ترکی و سعودی تعلقات بحال ہو سکیں گے ؟

کارڈ ینل ایسیڈور جسے یورپ نے یونانی اور رومی کلیسا کا اتحاد عمل میں لانے کے لیے بھیجا تھا اپنے ہمراہ دو سو سوآز مود سپاہیوں کو لے کر قسطنطنیہ پہنچا.. کریٹ سے آٹھ کشتیاں شراب لے کر آئیں.. جنیوا سے جان جٹیانی دو جنگی جہازوں اور سات سو منتخب بہادروں کے ساتھ پہنچا.. شہنشاہ نے بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا اور اسے بڑی فوجوں کا کمانڈر مقرر کر دیا.. یہ شخص اپنی شجاعت اور اعلیٰ فوجی قابلیت کے لحاظ سے تہنا ایک فوج کے برابر تھا. دوران محاصرہ میں اور خاص کر آخری حملہ کے روز اس نے ایسی جاں بازی کا ثبوت دیا کہ خود سلطان کی زبان سے بے اختیار اس کے متعلق کلمات تحسین نکل گئے.. جان جٹیانی نے قسطنطنیہ پہنچتے ہی دفاعی انتظامات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا.. شہر کی فصیل پر جا بجا چھوٹی توپیں نصب کرائیں.. فوج کو مختلف دستوں میں تقسیم کر کے ہر ایک دستہ پر ایک سردار مقرر کیا.. خندقیں گہری کرائیں. شہر کے عام باشندوں کو فنون حرب کی تربیت دے کر انھیں اس قابل بنا دیا کہ وہ شہر کی مدافعت میں فوج کا ہاتھ بٹا سکیں…

بندر گاہ کی حفاظت اور اسے عثمانی بحری بیڑے کی دست برو سے بچانے کے لئے شہنشاہ نے؛؛ گولڈن ہارون؛؛ (جس کے لفظی معنی شاخ زدیں کے ہیں اس خلیج کا نام ہے جو آبناۓ باسفورس سے بطور شاخ قسطنطنیہ کے ساتھ ساتھ چلی گئی ہے اس کے دونوں جانب آبادی ہے ایک غلطہ اور دوسری کو استنبول کہتے ہیں) کے اگلے سرے کو دینا مناسب خیال کیا.. چنانچہ بندر گاہ کی شمالی مشرقی جانب سے غلطہ تک موٹی موٹی زنجیروں باندھ دی گئیں اور شمالی جانب کی حفاظت کا کام مذکورہ بالا جنیویوں کے سپرد کر دیا.. اس تدبیر کا خاطر خواہ اثر ہوا اور مسلمانوں کے جنگی جہاز زنجیروں کے اس سلسلے کو توڑ کر گولڈن ہارون میں داخل نہ ہو سکے….

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *