لکڑی کے مجسمے بنانے والے رحمت ولی کے پاؤں ناکارہ سہی لیکن حوصلے بلند ہیں

چترال (نثاربیٹنی سے) “آپ مجھے کوئی بھی تصویر دیں میں اس کا دیار کی لکڑی سے نقل بنا دونگا” ملئے ہمارے ہیرو “رحمت ولی” سے، جن کا تعلق کلاش گم ، چترال سے ھے۔

وادیِ کیلاش کا یہ “شاہین صفت” انسان پولیو کے مرض میں مُبتلا ہوکر مُستقل طور پر معذور ہوگیا مگر اُس نے اپنی معذوری کے باوجود حوصلہ نہ ہارا نہ اس معذوری کو مجبوری بننے دیا۔

مزید پڑھیں: رب سے مانگنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے

رحمت ولی کے پاؤں ناکارہ سہی لیکن اُن کے ہاتھ سونے کے ہیں، انہوں نے لکڑی کی مدد سے مجسمے بنانے کا کام سیکھا۔ وہ کسی پر بوجھ بننے کی بجائے اپنے فن کے ذریعے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی کفالت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں خُوشیاں بھی بانٹ رہے ہیں۔ آج پورے علاقے میں ان کا شہرہ ہے ۔
آپ رحمت ولی کو کسی بھی چیز کی صرف تصویر دے دیں، وہ اُس کا لکڑی سے ایسا شاہکار بنادیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ھے،

مزید پڑھیں: چترال کے ممتاز عالم دین مولانا عبد اللطیف انتقال کر گئے

اپنے روزگار کے لئے کسی پر بوجھ نہیں ہیں بلکہ ہمارے لئے ایک مثال بنے کہ انسان کے عزم و حوصلہ کو کوئی چیز شکست نہیں دے سکتی جب تک انسان خود حوصلہ ہار نہ مان لے۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے اور بھیک مانگنے کے بجائے حلال روزی کمانے والے اِن خُوددار ہاتھوں کو قوم کا سلام۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *