جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم میں ختم بخاری و دستار بندی کا روح پرور اجتماع

جامعہ کی سالانہ تقریب ختمِ بخاری شریف و دستار بندی روایتی جوش و جذبے اور حسب روایت تزک و احتشام سے منعقد ہوئی۔ تقریب میں جامعہ کے تمام اساتذہ، طلبہ، انتظامیہ، فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے اعزہ و اقارب اور عامۃ المسلمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام مجید، حمد و نعت کے ذریعے ہوا۔ تقریب سے جامعہ کے استاد محترم معروف خطیب مولانا محمد بشیر اور صدر جامعہ مولانا ڈاکٹر قاسم محمود نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو ان کی مستقبل کی عملی دینی و سماجی ذمے داریوں اور چیلنجوں سے آگاہ کیا اور انہیں قیمتی نصائح و ارشادات سے نوازا۔

مولانا ڈاکٹر قاسم محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ گوناگوں مشکلات کے باوجود ہم نے امسال قال و قال رسول اللہ کے زمزموں سے جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم کے در و دیوار کو محروم نہ ہونے دیا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے ہی ممکن ہوا۔

انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں یہ آپ کیلئے تبریک کا موقع ہے کہ آپ اپنا رسمی تعلیمی سفر مکمل کر رہے ہیں، وہاں یہ آپ کے کندھوں پر امت کی اہم ذمے داریوں کے پڑنے کا بھی موقع ہے۔ آپ نے جس طرح لگن اور محنت سے اپنا یہ سفر جاری رکھا، اساتذہ سے قدم قدم پر رہنمائی لی اور ایک ایک سبق حاصل کیا، فارغ التحصیل ہونے کے بعد عملی زندگی کی مشکلات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے آپ کو اپنے اساتذہ اور مادر علمی سے قریبی تعلق رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت بہت بدل گیا ہے، امت مسلمہ اور مسلم سماج کو مختلف نظریاتی و فکری یلغاروں کا سامنا ہے، آپ یہ مت سمجھیں کہ آپ اب عقل کل بن گئے ہیں، آپ کو ایک کلید مل گئی ہے، جس کو بہت احتیاط سے کام میں لا کر آپ کو نئے فکری چیلنجوں سے نمٹنا ہوگا۔

انہوں نے طلبہ و گریجویٹس پہ زور دیا کہ کتاب، قلم، تعلیم و تعلم سے وہ اپنا رشتہ ہمیشہ مستحکم رکھیں اور بالغ نظری، اعتدال، تدبر، احتیاط کے ذریعے امت اور سوسائٹی کی رہنمائی کیلئے خود کو تیار کریں اور تمام نئے فکری و نظریاتی چیلنجوں سے آگاہی حاصل کریں۔ آخر میں انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے بہتر مستقبل اور اشاعت و خدمت دین کی راہ میں قبولیت کیلئے خصوصی دعا کی۔

تقریب کے آخر میں جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ سدوخانی نے بخاری شریف کی آخری حدیث پر نہایت عالمانہ فاضلانہ اور فکر انگیز درس دیا۔ تقریب اجتماعی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ جس کے بعد شرکاء اور مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

امسال دیگر طلبہ کے ساتھ صدر جامعہ حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود کے صاحبزادے مولوی عطاء الرحمن نے بھی جامعہ سے ہی دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی اور دستار فضیلت سجا کر اپنے دادا حضرت اقدس مولانا مفتی محمد مظفر الدین علیہ الرحمہ کی میراث علمی کی اہم اور گرانبار ذمے داری رسمی طور پر سنبھال لی۔ جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ادارہ مولوی عطاء الرحمن سلمہ سمیت جملہ طلبہ دورہ حدیث کو اپنا رسمی تعلیمی سفر مکمل کرنے پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ وہ دین حق کے سچے مخلص اور اعتدال پسند خادم ثابت ہوں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *