گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے میں صرف 4 دن باقی

ہیلتھ کئیر ورکرز

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) ہیلتھ کیئرز ورکرز پر مشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس نے محکمہ صحت کی جانب سے وعدے کے باوجود 12 مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف 23 فروری تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے گورنر ہاﺅس اور وزیر اعلی ہاﺅس کی جانب احتجاجی ریلی کیساتھ پیش قدمی کا عندیہ دیدیا ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے میں صرف 4 دن باقی رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن نے 45 جعلی کلینک سیل کر دیئے

ذرائع نے بتایا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس میں شامل ینگ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس نے احتجا ج کو کامیاب بنانے کیلئے سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں گرینڈ ہیلتھ الائنس دمادم مست قلندر کرنے کو تیار ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس اور محکمہ صحت کے درمیان جاری مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں احتجاج کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کے باعث سرکاری اسپتالوں میں ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس حوالے سے گرینڈ ہیلتھ الائنس کے فوکل پرسن ڈاکٹر محبوب علی نوناری نے بتایا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اس سے قبل محکمہ صحت کو 15 فروری تک ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس کے مسائل حل کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی تاہم سیکریٹری صحت سندھ کے رابطے پر اس مدت میں توسیع کرتے ہوئے 23 فروری تک وقت محکمہ صحت کو دیا گیا ہے جس کے بعد 24 فروری سے ہم اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں آزاد ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ڈاؤ یونیورسٹی کے ملازمین کا کووڈ ویکسینیشن کے بائیکاٹ کا اعلان

گرینڈ ہیلتھ الائنس کے فوکل پرسن ڈاکٹر محبوب علی نوناری کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ، ینگ نرسز ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکس کی تنظیموں پر مشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس نے حکمت عملی مرتب کر لی ہے ہماری تحریک 2011 سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں پہلے ہی سہولتیں نہیں اسپتالوں میں مشینری بھی غیر فعال ہیں۔

ملازمین کے مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ وزیر صحت اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہا اس لئے اس بار ہیلتھ ورکرز کااحتجاج سابقہ احتجاج سے مختلف ہو گا۔ ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے رہنما اعجاز کلیری نے کہا کہ نرسنگ کا فورٹیئر فارمولہ 2019ء میں منظور ہوا مگر اب تک عمل نہ ہو سکا، 2019ء ہی میں ہیلتھ پرفیشنل الاﺅنس کی منظوری دی گئی مگر آج تک نوٹیفائی نہیں ہوا۔

کویڈ نرسز کو کورونا میں رکھنے کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا گیا، جھوٹے وعدے اور دعوے کئے گئے، سروس اسٹرکچر اور شہدا پیکیج پر بھی عمل نہیں ہوا۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس کورونا وباء میں فرنٹ لائن ورکرز کا کردار ادا کر رہے ہیں مگر انہیں تحفظ حاصل نہیں۔ سندھ حکومت اور محکمہ صحت نے ہیلتھ ورکرز کیساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ اختیار کر رکھا ہے ہمیں ہی مارا پیٹا جا رہا ہے اور ہمیں ہی علاج کرنے پر مجبور بھی کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے بدعنوان عملہ نے لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا

ہیلتھ ورکرز موجودہ حالات میں بڑے مشکل ہو گئے ہیں، ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں جب بھی مذاکرات کیلئے بیٹھتے ہیں چائے اور بسکٹ کھلا کر ٹہلا دیا جاتا ہے مگر اب ایسا نہیں چلے گا پوری تیاری کیساتھ سندھ بھر کے ہیلتھ ورکرز کراچی پریس کلب پر آئیں اور اپنا حق لیکر دکھائیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *