شیخ الہند کے اس دور کے اساسی اصول

شیخ الہند کے اس دور کے اساسی اصول ہمارے نزدیک یہ ہیں ۔

1.شیخ الہند نے امام ولی اللہ کی حکمت پڑھانا ضروری قراردیا ۔اس سے ہم ایک خاص نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ امام ولی اللہ کی فلاسفی کو ہم اپنی پارٹی کا اساسی اصول بناتے ہیں ۔امام ولی اللہ کی فلاسفی غیر مسلم ہندوستانی کو بھی اپنے ساتھ لے سکتی ہے۔ یہ یورپین ازم کی لادینیت کو فنا کر سکتی ہے۔پھر اس فلاسفی نے اقتصادیات کے جواصول سمجھایے ہیں ، اس کی بناپریہ تمام دنیا پر برتری حاصل کرسکتی ہے۔

2.مولانا شیخ الہند نے علی گڑھ کالج کے انقلابی عنصر کو اپنی تحریک میں شامل کرلیا تھا ۔ان کے پارٹی چلانے والے ایک طرف مفتی کفایت اللہ اور مولاناحسین احمد مدنی تھے تو ان کے ساتھ ڈاکٹرمختار انصاری اور مولانا محمدعلی جوہر مساوی درجہ پر شریک تھے۔
اس اقدام سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہم ،، یورپین ازم،، کو ااپنی پارٹی کے مستقل پروگرام میں داخل کرتے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ مسلمانوں کا انگریزی پڑھاطبقہ ،جسے ہم ،، کالج پارٹی ،، کانام دیتے ہیں ،آگے چل کر لامحالہ ترکوں کے کمالی پروگرام کوقبول کرے گا ۔چونکہ ترکی میں کمالی پروگرام کے ساتھ لادینیت بھی آگیی ہے اور لادینیت کے معاملے میں ہم سکوت نہیں کرسکتے ، اس لیے اس کو روکنے کے لیے ہم امام شاہ ولی اللہ کی فلاسفی کو اپنے پروگرام کا ضروری اساس بناتےہیں۔

مدرسہ دیوبند کے دوسرے دور میں سب سے پہلے مولانا شیخ الہند نے مدرسہ کے پرانے فضلا کو ،، جمعیة الانصار،، میں جمع کرنا شروع کیا ۔اس طرح دیوبند ی نظام کی تعلیم یافتہ جماعتوں کی ساری اجتماعی طاقت منظّم ہوگیی اور اس نظام میں جس طرح ہندوستان کے علما داخل ہوگیے اسی طرح افغانی اور ترکستانی علما بھی شامل ہوگیے ۔نیز درجہ تکمیل جواب تک غیر منظّم صورت میں تھوڑے سے افراد پر مشتمل تھا اس کے قواعد و ضوابط منضبط ہوگیے اور مولانا شیخ الہند نے امام ولی اللہ اور مولاناقاسم نانوتوی کی کتابوں کو اس درجہ کی تعلیم کا لازمی عنصر قراردیا۔
امام عبیداللہ سندھی رح

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *