سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (چوتھی قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

قسط نمبر 4

قسطنطنیہ کے محاصرے کی تیاریاں

3 فروری 1452ء(2 محرم 856ھ)مسیحیت کے سب سے بڑے دشمن مراد ثانی کا ادرمہ (ایڑریا نوپل) میں انتقال ہو گیا اس کے مرنے پر بازنطینی سلطنت نے قدرے اطمینان کا سانس لیا کیونکہ سلطان مراد نے پے درپے فتوحات سے بازنطینیوں میں کھلبلی مچا رکھی تھی اور اس کے نام سے بلقانی ریاستوں کا ایک ایک فرمانروا کانپ رہا تھا

اس کی وفات کے وقت اس کا بیٹا محمد (ثانی) ایشاۓ کوچک کے شہر مغنسیا میں مقیم تھا مراد نے اپنی زندگی میں اسے دوبارہ سلطنت کا نظم و نسق سپرد کر دیا تھا مگر کم سنی اور نا تجربہ کاری کے باعث وہ اس عظیم بوجھ کو نہ سنبھال سکا اور مراد کو مجبوراً زمام سلطنت اپنے ہی ہاتھ میں لینی پڑی. باپ کی وفات کے وقت بھی اس کی عمر اکیس برس سے متجاوز نہ تھی جب اسے یہ خبر پہنچی تو اس نے اس ڈر سے کہ کہیں وہاں کے سر کش لوگ بغاوت پر آمادہ نہ ہو جائیں اسے مخفی رکھا اور تیزی سے کرتا ہوا گیلی پولی پہنچا وہاں پہلی مرتبہ سلطان کی وفات کا اعلان کیا اس کے بعد ادرنہ آیا اور وہاں جشن تاج پوشی منایا اس کے والد کے عہد میں وزارت کے عہدوں پر ابراہیم اور اسحاق سرفراز تھے ان دونوں کی راۓ محمد کے متعلق اچھی نہ تھی اور وہ بار بار سلطان مراد کو یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ سلطنت کا انتظام و انصرام کلیتہ محمد کے ہاتھوں میں دینا مناسب نہیں. لیکن اس کے باوجود محمد ثانی نے ان دونوں کو ان کے عہدوں پر بر قرار رکھا کیونکہ انھیں نظم و نسق چلانے کا کافی تجربہ تھا اور جنگی امور میں بھی انھیں مہارت حاصل تھی سلطان نہ چاہتا تھا کہ انھیں معزول کر کے سلطنت کو دو بیدار مغز وزیروں کی خدمات سے محروم کر دے

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

سلطان محمد ثانی کا معاصر قسطنطین یا زوہم اس سے تقریباً پچیس برس بڑا تھا اس کے عہد میں ترکوں کے پے در پے حملوں کے باعث بازنطینی شہنشاہی کی حالت بے حد بتر ہو چکی تھی یہ سلطنت قسطنطنیہ کے علاوہ اپنے تمام مقبوضات ہاتھ سے کھو چکی تھی اور ترکوں نے بلقانی ریاستوں کی سخت مزاحمت کے باوجود شمالی یورپ میں ایڑریا یا نوپل کو اپنا دارالحکومت اور فوجی مستقر بنا لیا تھا تا کہ یہاں سے با آسانی بلقان کے ہر حصے پر چڑھائی کی جا سکے محر اسود ورداینا لاور آبناۓ باسفورس میں انہی کے جہازوں اور بحری بیڑوں کا عمل دخل تھا اور بازنطینیوں کا بحری بیڑہ جو کسی زمانے میں قوت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھا ترکوں کے سامنے کے سامنے اپنی ساری قوت اور شان کھو بیٹھا تھا

جب محمد ثانی تخت سلطنت پر بیٹھا تو اس وقت عثمانیوں اور بازنطینیوں کے تعلقات چنداں خوشگوار نہ تھے اگرچہ بازنطینیوں نے ترکوں سے صلح کے معاہدات کر رکھے تھے لیکن ترکوں کو معلوم تھا کہ جونہی کوئی موقع ملا بازنطینی ان معاہدوں کو پست ڈالنے میں قطعاً دریغ نہ کریں گے اس سے قبل کہئ بار بازنطینی عثمانیوں کو زک پہچانے کی غرض سے ان کے دشمنوں سے خفیہ طور پر سازشیں کر چکے تھے اور عثمانی سلطنت کے باغی امراء کو برابر ہر قسم کی پوشیدہ مدد پہنچاتے رہتے تھے قسطنطین کا خیال تھا کہ چونکہ مراد کے زمانے میں محمد ثانی نے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا

اس لیے اب بھی وہ سلطنت کا نظم و نسق فوری طور پر نہ سنبھال سکے گا اسی خیال کے مطابق اس نے آغاز حکومت ہی سے بعض ایسے مطالبات کرنے شروع کر دیے جن سے سلطان کو یقین ہو گیا کہ بازنطینی شہنشاہ کی نیت ٹھیک نہیں اور وہ ان مطالبات کی آڑ میں جنگ چھیڑ کر اپنے مقبوضات واپس لینا چاہتا ہے چنانچہ ابھی محمد ثانی کو حکومت سنبھالے زیادہ نہ گزری تھی کہ قسطنطین نے مطالبہ کیا کہ سلطنت عثمانیہ کی طرف سلیمان بن یزید کے بیٹے آرخاں کے وظیفے میں آضافے کے مطالبے کے ساتھ ہی قسطنطین نے دھمکی یہ دی کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ آرخاں کو تخت کے ایک دعویدار کی حیثیت سے محمد ثانی کے مقابلے میں کھڑا کر دے گا اور اس طرح اس کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو جائیں گی

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

محمد ثانی جانتا تھا کہ اس مطالبے کے پس منظر میں قسطنطین کی کیا خواہشات کار فرما ہیں اس وقت اسے واقعی شدید مشکلات کا سامنا تھا ایک طرف ایشیاۓ کوچک میں برپا ہونے والی بغاوتیں تھیں دوسری طرف قسطنطین کے بگڑے ہوئے تیور اور دھمکیاں تا ہم اس نے نہایت پا مردی سے ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کر لیا قسطنطین کے مطالبے کا جواب اس نے بہت نرمی سے دیا لیکن ساتھ ہی بات واضح کر دی کہ اگر بازنطینی سلطنت نے اپنے معاہدات توڑنے اور اس کے مقابلے میں تخت کا ایک نیا دعویدار کھڑا کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج اس کے حق میں اچھے نہ ہوں گے

یوں تو قسطنطنیہ فتح کرنے کی خواہش محمد ثانی کے دل میں پچپن سے ہی تھی لیکن ان تازہ واقعات کی بنا پر اسے یقین ہو گیا کہ جب تک بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت اور اس کی آخری نشانی پر ضرب کاری نہ لگائی جائے گی اس وقت تک قسطنطین کی ریشہ دوانیاں ختم ہونے کا نام نہ لیں گی اور اسے اطمینان و سکون اور چین کا سانس لینا نصیب نہ ہو گا اسی خیال کے پیش نظر اس نے قسطنطنیہ پر آخری بھر پور حملہ کرنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اگرچہ قسطنطین محمد ثانی کی کم عمری اور بظاہر نا تجربہ کاری سے دھوکا کھا کر اسے دھمکیاں دینے میں مصروف تھا مگر واقعہ یہ ہے کہ خود اس کی اپنی حالت نہایت پتلی تھی سلطنت بازنطنینہ کی کل کائنات قسطنطنیہ اور اس کے نواحی علاقے تھے تربیت یافتہ فوج کی تعداد بہت قلیل تھی جنگی کشتیاں اتنی کم تھیں کہ وہ کسی بھی دارالسلطنت کا دفاع نہ کر سکتی تھی ان حالات کو دیکھ کر قسطنطین کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ مغربی یورپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاۓ لیکن بد قسمتی سے اس زمانے میں یونانی اور رومی کلیساؤں میں شدید اختلافات برپا تھا بازنطینی سلطنت یونانی کلیسا سے تعلق رکھتی تھی اور مغربی یورپ کی ریاستیں رومی کلیسا سے اس اختلاف کے باعث جو دونوں کلیساؤں میں فرق تھا مغربی یورپ بازنطینی سلطنت کی مدد کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہ تھا

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

: بازنطینیوں اور مغربی طاقتوں کے درمیان مصالحت کے لئے کئی بار سفارتی سطح پر گفتگو ہوئی لیکن پاپاۓ روم نے اس وقت تک مصالحت کرنے سے انکار کر دیا جب تک رومی کلیسا کی شرائط کے بموجب یونانی کلیسا کا رومی کلیسا کے ساتھ اتحاد عمل نہ آئے اسی شرط پر مغربی ریاستیں بازنطینیوں کی مدد کرنے اور مسیحی دنیا کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے کے لئے تیار ہو سکتی تھیں

قسطنطین کے لئے تو ذلت آمیز شرط کو قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہ تھا لیکن اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ قسطنطنیہ کے باشندوں کی اکثریت اور سلطنت کے کل پاردی اس شرط کے سخت خلاف ہیں اور اسے قبول کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہیں.

موجودہ گفت و شنید اپنی طرز کی پہلی گفت و شنید نہ تھی 1054 ء سے 1453ء تک کے عرصے میں دونوں کلیساؤں کا اتحاد عمل میں لانے اور یونانی کلیسا کو رومی کلیساۓ ماتحت کرنے کے لیے تیس مرتبہ بات چیت ہو چکی تھی مغربی کلیسا کے علمبردار اور پاپاۓ روم اس کوشش میں پیش پیش تھے ان کے خیال کے بموجب مسیحی دنیا کی روز افزوں کمزوری اور مسیحیت کی رو زوال حالت کا واحد علاج یہ تھا کہ دونوں کلیساؤں کو متحد کر کے یونانی کلیسا کو کلیتہ رومی کلیسا کے ماتحت کر دیا جائے اس صورت میں انھیں امید تھی کہ مسیحیت اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت اور اپنی گزشتہ قوت و طاقت دوبارہ حاصل کر لے گی اور تمام مسیحی حکومت پاپاۓ روم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کا مقابلہ کر سکیں گی.

مزید پڑھیں: ترکی کی آیا صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل

تاہم یونانی کلیسا کے علمبردار اپنے آپ کو رومی کلیسا میں مد غم کرنے اور مغربی طاقتوں کی غلامی کا جوا اپنے سروں پر اٹھانے کے لیے تیار نہ تھے دینی اختلافات کے ساتھ ساتھ سیاسی اختلافات بھی اس قدر بڑھ چکے تھے کہ کوئی فریق دوسرے فریق کی بالا دستی قبول کرنے اور اس سے مصالحت کرنے کے لیے تیار نہ تھا. نتیجہ یہ ہوا کہ ہر فریق نے دوسرے کو ملحد اور بے دین کا خطاب دینے اور اسے مسیحیت سے خارج کرنے کی مہم شروع کر دی اور معاملہ اس تک بڑھا کہ کیتھولک کلیسا کی حامی مغربی طاقتوں نے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کی مہمات کے ساتھ ساتھ اپنے دینی بھائیوں کے خلاف بھی جنگی کاروائیاں شروع کر دیں اور لاؤ لشکر لے کر قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوئیں.

لیکن ترکوں کی روز افزوں طاقت نے بازنطینی زعما کو اس قدر حواس باختہ کر دیا کہ انھوں نے اپنی حریف مغربی ریاستوں سے ہر قیمت پر صلح کرنے کی ٹھان لی اور پاپاۓ روم کی پیش کردہ شرائط پر یونانی کلیسا کا رومی کلیسا سے الحاق کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی تا کہ اس طرح مغربی طاقتیں انھیں ترکوں کے مقابلے میں فوجی اور مالی امداد دینے پر رضا مند ہو سکیں. پاپاۓ روم نے بھی اپنے وعدے کے مطابق مسیحی دنیا کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے اور اسے بازنطینی سلطنت کی امداد پر کمر بستہ کرنے کی مقدس مہم کا آغاز کر دیا لیکن یہ مہم بڑی حد تک نا کام رہی اور کوئی ریاست بھی دل و جان سے بازنطینیوں کی مدد کرنے کو تیار نہ ہوئی اکا دکا ریاستوں نے مدد بھی کی تو بے دلی کے ساتھ. دراصل بات یہ تھی کہ بازنطینی حکومت کو جب ترکی خطرے کا احساس ہوتا تھا تو اس وقت تو وہ مغرب سے اتحاد کر لیتی تھی اور اس سے مالی اور جنگی اعانت کی طلبگار ہوتی تھی اور جیسے ہی خطرہ ٹل جاتا تھا مغرب کو باکل نظر انداز کر دیتی تھی اور اس سے تعلقات ویسے ہی کشیدہ ہو جاتے تھے جیسے پہلے ہوتے تھے

علاوہ ازیں قسطنطنیہ کے باشندے اور پادری اس اتحاد کے سخت خلاف تھے اور اپنی مزہبی اور سیاسی کو بر قرار رکھنے کی خاطر ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہتے تھے ان وجہ کی بنا پر پاپاۓ روم کی اپیلوں کا مغربی طاقتوں پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا صرف معرکہ نیکو پولیس میں صلیبوں نے بازنطینیوں کی زبردست مدد کی تھی لیکن اس جنگ کا انجام صلیبیوں کے لئے اس قدر خطرناک ہوا کہ بعد میں انھیں قسطنطنیہ کو مسلمانوں سے بچانے کے لیے بازنطینیوں کے ساتھ میدان جنگ میں آنے کی جرات نہ ہوئی.

مزید پڑھیں: سلطان محمود غزنوی اور محبتِ رسولﷺ

تاہم اس مرتبہ قسطنطنیہ کو اس قدر شدید خطرہ لاحق ہو چکا تھا کہ پوپ کے لئے اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہا کہ وہ جس حد تک ممکن ہو سکے کیتھولک حکومتوں کو بازنطینیوں کی مدد کے لیے تیار کرے. خصوصاً اس صورت میں جبکہ قسطنطنیہ نے اسے مشرقی اور مغربی کلیساؤں کو متحد کر دینے کا یقین دلایا تھا چنانچہ اس یقین دہانی پر پوپ نے بازنطینی حکومت کی مدد کے لیے جنگی جہازوں کا ایک بیڑا بھیجنے کا وعدہ کیا اور اپنے ایک نائب کارڈ ینل ایسیڈور کو قسطنطنیہ روانہ کیا تا کہ وہ اس کی جانب سے مشرقی اور مغربی کلیساؤں کو متحد کرنے کی رسوم انجام دے.

کارڈ ینل ایسیڈور دسمبر 1452 ء 852 ھ میں قسطنطنیہ پہنچا. اس کے پہنچے پر سینٹ صوفیا کے گرجے میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد کیا گیا جس میں شہنشاہ قسطنطین اور شہر کے بطریق اعظم گر یگوری کے علاوہ تین سو پادری بھی شریک ہوے اور دونوں کلیساؤں کو متحد کرنے کی رسومات ادا کی گئیں.

گو قسطنطین نے منت سماجت کر کے شہر کے اکثر پادریوں کو رومیوں کے ساتھ اتحاد کرنے پر رضا مند کر لیا تھا لیکن اس کے باوجود ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو اس اتحاد کے سخت خلاف تھا اس طبقے کا سربراہ گناڈیوس تھا یہ لوگ برملا کہتے تھے کہ اگر رومی کلیسا کے ساتھ الحاق عمل میں آ گیا تو سلطنت عذاب الہی میں گرفتار ہو جائے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے اس عذاب نہ بچا سکے گی. جو لوگ اپنے دین کو چھوڑ کر کیھتولک فرقے سے وابستہ ہو جائیں گے اور رومی اقتدار کو قبول کر لے گے انھیں بھی تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *