سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (تیسری قسط)

تحریر: ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

قسط نمبر 3

قسطنطنیہ کی بناء اور اس کی شان و عظمت

قسطنطنیہ مشہور رومی شہنشاہ کنسٹنٹائن دی گریٹ (قسطنطین اعظم) نے آبناۓ باسفورس کے ساحل پر ایک پرانی بستی کے کھنڈر ہموار کر کے تعمیر کیا تھا چونکہ یہ شہر دفاعی لحاظ سے بہت ہی مناسب جگہ تھا اس لیے شہنشاہ نے اس کو اپنی مملکت کا دارالحکومت بنایا اس جدید شہر نے بہت جلد ثقافتی تہزہبی علمی اور مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل کر لی، جس زمانے میں اسلامی سپین کے سوا یورپ کے باقی تمام حصوں پر جہالت کی گھنگور گھٹا چھائی ہوئی تھی اس وقت اکیلا قسطنطنیہ اس تمام عیسائی علاقوں میں روشنی کے مینار کا کام دے رہا تھا اور یہاں سے علم کی کرنیں پھوٹ پھوٹ کر مشرق و مغرب کو منور کر رہی تھیں

قسطنطنیہ ایک ہزار سال تک مشرق و مغرب کے لوگوں کی نظروں کا مرکز بنا رہا ازمنہ وسطیٰ میں اس عظیم الشان شہر کو اپنی خوبصورتی اور رونق کے لحاظ سے وہ ہی حیثیت حاصل تھی جو آج کل پیرس کو ہے یہ شہر محل وقوع معتدل آب و ہوا محفوظ بندرگاہ کشادہ بازاروں صاف شفاف سڑکوں بلند و بالا عمارتوں عظیم الشان گرجاؤں اور لا تعداد ادحماموں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا اپنے مضبوط قلعوں اور قدرتی حصار کے باعث یہ شہر صدیوں سے ہنوں یلغاریوں روسیوں سلادیوں اور ایرانیوں عربوں اور ترکوں کے مقابلے میں چٹان کی طرح جما رہا اور کوئی حملہ آور بھی اس پر قابض ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا بازنطینی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہاں چہار جانب سے لوگ کھنچے چلے آتے تھے اور یہاں کی آبادی اس کے دور عروج میں لاکھوں سے متجاوز ہو گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ترکی اور پائما کے درمیان یارن و ٹیکسٹائل صنعت کیلئے معاہدہ

یہ آبادی کسی ایک نسل یا قوم سے تعلق نہ رکھتی تھی بلکہ یورپ کا کوئی ایسا نہ تھا جس کے باشندے یہاں موجود نہ ہوں یہاں حسین یونانی بھی تھے اور بڑی بڑی داڑھیوں اور سیاہ بال والے ایشیائی بھی سر منڈے بلغاروی بھی تھے اور فرا اور پوستین پہننے والے روسی بھی تھے سفید چہروں اور سنہری بالوں والے اسکنڈے نیوی بھی رہتے تھے اور ارمنی اور سلادی بھی غرض یہ کہ ہر قوم اور ہر نسل کے لوگ یہاں موجود تھے اور اس طرح یہ شہر صحیح معنوں میں بین الاقوامی حیثیت کا مالک بن گیا تھا غیر ملکی تاجر بھی کثرت سے موجود تھے ان میں اگر ایک طرف جنیوا ہسپانیہ اور فرانس کے مسیحی تاجر تھے تو دوسری طرف بغداد اور شام کے مسلمان سوداگر بھی موجود تھے شہر کی حفاظت کے لیے جو فوجیں یہاں متعین تھیں وہ بھی یورپ کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھتی تھیں ان میں سے کوئی فرانسیسی تھا تو کوئی سلافی کوئی جرمن تھا تو کوئی اطالوی کوئی ہسپانوی کوئی پرتگالی غرض یہ کہ ہر مذہب و ملت کے لوگ یہاں موجود تھے جن کے معاشرت تہزیب اور زبان ایک دوسرے سے باکل مختلف تھی

شہر کے باشندے میں مذہبی روح پوری طری کار فرما تھی ہر جگہ دینی درس و تدریس کا سلسلہ جاری تھا مختلف فرقوں اور گروہوں کے علماء کے درمیان مناظروں اور مباحثوں کا بازار گرم رہتا تھا شہنشاہ اور درباری امراء سے لے کر عوام تک ہر شخص مناظروں اور مباحثوں کا شوقین تھا جو بڑے اہتمام سے منعقد ہوا کرتے تھے بعض اوقات یہ مناظرے زبانی بحث سے گذر کر مجادے کی صورت بھی اختیار کرلیتے تھے اور ان کے باعث مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان مستقل عداوت قائم ہو جاتی تھی

قسطنطنیہ بلند و بالا عمارتوں اور رفیع الشان محلات ہی کی وجہ سے مشہور نہ تھا بلکہ یہاں کے گرجا بھی قابل دید تھے باشندوں میں چونکہ دین کی طرف بہت رحجان تھا اس لیے وہ نہ صرف اپنے مذہبی پیشواؤں کو گہری تقدس اور احترام کی نظروں سے دیکھتے تھے بلکہ اپنی عبادت گاہوں کو بھی اسی طرح سجاتے تھے کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھتا تھا یہاں کا سب سے بڑا گرجا سینٹ صوفیا تھا جسے شاہ جسٹنین نے تعمیر کرایا تھا جب کوئی نیا شہنشاہ سریرآۓ سلطنت ہوتا تو اس کی رسم تاج پوشی اسی گرجا میں ادا کی جاتی تھی اس کے علاوہ تمام اہم مذہبی اجتماعات بھی اسی گرجا میں منعقد ہوتے تھے

سینٹ صوفیا کے گرجے کا شمار قسطنطنیہ کے عجائبات میں ہوتا تھا اس کا بلند بالا قبہ (جس کے متعلق مورخین نے لکھا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ ایک سہنری زنجیر کے ساتھ آسمان سے لٹکا ہوا ہے) رفیع آلشان عمارت سنگ مرمر کے ستون دیدہ زیب سجاوٹ قیمتی جھاڑ فانوس دیکھنے والے کی نظروں کو ذخیرہ کر دیتے تھے

مزید پڑھیں: سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت ہونے کے علاوہ قسطنطنیہ ایک زبردست ثقافتی مرکز بھی تھا مشرق یورپ میں اسے وہی حیثیت حاصل تھی جو مغربی یورپ میں روما کو تھی یہاں کے لوگ قدیم یونانی ثقافت کے دلدادا تھے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کیا کرتے تھے یہاں کے کتب جانے یونانی کتابوں سے بھرے پڑے ہوئے تھے مدرسوں میں حساب موسیقی فصاحت بلاغت کے علاوہ یونانی ادب کی تعلیم بالا دی جاتی تھی قسطنطنیہ کی یونیورسٹی یونانی ثقافت کا مرکز تھی یہیں سے اطالویوں نے افلا طون کے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی اور یہیں سے عربوں نے رومی قانون اور یونانی ثقافت میں کمال حاصل کیا قسطنطنیہ نے دراصل دنیا کو دو ہی چیزیں دیں

رومی قانون اور یونانی فلسفہ یہاں کے علما نے رومی قانون کی تددین کر کے اور اسے دنیا میں پھیلا کر ایسا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس پر آئل قسطنطنیہ کو جس قدر بھی فخر ہو کم ہے

قسطنطنیہ اپنے جغرافیائی محل و وقوع کے باعث سلطنت کا صنعتی اور تجارتی مرکز بھی تھا بحرہ اسواد اور بحرہ روم کے مقام اتصال پر واقع ہونے کی باعث مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے لوگوں کی یہاں آمدورفت تھی. فارس ہند. مشرق وسطیٰ وسط ایشیا سکنڈے نیویا اور مشرق ومغربی یورپ کے تاجر کثرت سے یہاں آتے رہتے تھے گولڈن ہارن میں واقع اس بندر گاہ میں دنیا بھر کے جہاز آ کر لنگر انداز ہوتے تھے قسطنطنیہ پر قبصے کے باعث جس قدر تجارتی سہولتیں بازنطینی سلطنت کو میسر تھیں اور کسی سلطنت کو نہ تھی اور یہی وجہ اس کی خوشحالی کی تھی قسطنطنیہ کے بازار دنیا بھر کے سامان تجارت سے بھرے رہتے تھے اور اس کے باشندوں کو گھر بیٹھے تمام جہان کی نعمتیں میسر آ جاتی تھیں

مزید پڑھیں: سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

قسطنطنیہ کی یہ خصوصیات تھیں جھنوں نے اس کو دنیا کے بیشتر شہروں سے ممتاز کر دیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ عربوں اور ترکوں کی نظریں رہ رہ کر اس شہر پر پڑتی تھیں اور اسے اپنی عملداری میں لینے اور مسیحی دنیا کی بجائے عالم اسلام کا مرکز بنانے کے لیے بیتاب تھے

قسطنطنیہ پر حملے

دولت اسلامیہ کے آغاز ہی سے مسلمانوں کے دلوں میں قسطنطنیہ فتح کرنے کی خواہش چٹکیاں لے رہی تھی اور سلطان محمد فاتح کے عہدے قبل وہ یہی آرزو دل میں لے کر کئی بار اس شہر پر چڑھائی کر چکے تھے قیاصرہ روم کے دارالحکومت کو فتح کرنے کا خیال سب سے پہلے دمشق میں امیر معاویہ کو آیا تھا انھیں امید تھی کہ اگر یہ شہر ان کے ذریعے اسلامی مملکت میں داخل ہو گیا تو ان کی سلطنت اس قدر شان و شوکت حاصل ہو جائے گی جس کا اندازہ لگانا آسان نہیں چنانچہ انھوں نے سخت مشکلات کے باوجود اپنے لڑکے یزید کو ایک زبردست فوج دے کر اسی غرض کے لیے آبناۓ باسفورس روانہ کیا جس نے جا کر قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا لیکن مسلمان بازنطینیوں کی زبردست بحری قوت اور آتش یونان (گریک fire) کے باعث شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اسی محاصرے کے دوران میں رسول اللہ علیہ وآلہ و سلام کے جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاری نے وفات پائی اور انھیں شہر کی فیصلوں کے نیچے دفن کیا گیا. اب چونکہ ایک مقدس صحابی کے مزار کی عزت وحرمت کا سوال تھا اس لیے مسلمانوں نے اس شہر کو کبھی فراموش نہ کر سکے اور انھوں نے تہیہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ شہر کو فتح کر کے رہیں گے

قسطنطنیہ کو فتح کرنے کی دوسری کوشش اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کے عہد میں کی گئی سلیمان نے اپنی بھائی مسلمہ بن عبدالمک کو اس غرض کے لئے بحری اور بری فوجیں دے کر روانہ کیا اس زمانے میں قسطنطنیہ کا فرمانروا شہنشاہ لیوسوم تھا یہ بہت بیدار مغز انسان تھا اور جملہ سیاسی اور حربی امور پر اسے گہری دسترس حاصل تھی جب اسے مسلمانوں کے ارادے کا علم ہوا تو اس نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے ریاست بلغاریہ کو اپبے ساتھ ملا لیا اور دونوں فوجوں کی مدد سے مسلمانوں کا لشکر کا مقابلہ کیا اس مرتبہ بھی بازنطینیوں نے آتش یونان سے کام لیا چونکہ مسلمانوں کے پاس اس خوف ناک آلہ حرب سے بچنے کا کوئی سامان نہ تھا اس لیے اس مرتبہ بھی مسلمان قسطنطنیہ کو فتح نہ کر سکے

مزید پڑھیں: ترکی کا عالمِ دین انمول مثال بن گیا

مسلمہ کی مہم آخری مہم تھی جو عہد بنی امیہ میں فتح قسطنطنیہ کی خاطر سر انجام دی گئی بنو امیہ کی جگہ جب دولت عباسیہ نے لی تو ان کی توجہ اس طرف سے ہٹ کر دوسری جانب مبذول ہو گئی اس کی وجہ یہ تھی ک بنو امیہ کے برعکس عباسیوں نے اپنے بحری بیڑے کو مضبوط کرنے کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی اور قسطنطنیہ پر اس وقت تک کوئی موثر حملہ کیا ہی نہ جا سکتا تھا جب تک مسلمانوں کا بحری بیڑا اس قدر مضبوط نہ ہوتا کہ سمندری راہ سے پہنچنے والی کمک کو روک سکتا ان وجوہ کی بنا پر قسطنطنیہ عثمانی دور تک مسلمانوں کے حملوں سے بڑی حد تک محفوظ رہا عثمانیوں کے زمانے میں سب سے پہلے سلطان بایزید اول نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تھا لیکن جب اسے ایشاۓ کوچک میں تاتاریوں کی پیش قدمی کی اطلاعات موصول ہوئی تو اسے مجبوراً یہ محاصرہ اٹھانا پڑا اس کے بعد سلطان ثانی نے اس اہم کام کا بیڑا اٹھایا لیکن عثمانی بحر بیڑے کی کمزوری اور مضبوط فوجی قوت کی عدم موجودگی کے باعث اسے بھی اس مہم کو ادھورا چھوڑنا پڑا آخر کار یہ شرف سلطان محمد ثانی کے حصہ میں آیا اور اس نے اس شہر کو فتح کر کے مسلمانوں کی دیرینہ آرزو کو پورا کر دیا

عربوں اور ترکوں ہی نے اس شہر کو فتح کرنے کے لیے اپنی طاقتیں صرف نہیں کی تھیں ان سے قبل بلغاریوں اور سربیوں نے بھی اسی قسم کی کوششیں کی تھیں اور محاصرہ کر کے شہر پر تسلط حاصل کرنا چاہا تھا پہلی بار تو ان کی کوششیں ناکام ہو گئیں لیکن تیرھویں صدی کے اوائل میں ایک بار پھر ان دونوں طاقتوں نے صلیبیوں کی مدد سے شہر پر زور حملہ کر کے اسے فتح کر لیا تا ہم ان سلطنتوں کے کمزور ہو جانے پر بازنطینی سلطنت نے زور پکڑا اور دوبارہ اپنے دارالحکومت پر قابض ہو گئے اور مسلمانوں نے آ کر اس سے یہ شہر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا. . . .

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *