"جدید” علمائے کرام

بلاگ : بلال حسن زئی

سبوخ سید ایک علمی خانوادے کے چشم وچراغ ہیں – صحافی ہیں- مفکر ہیں دانشور ہیں- پاکستان میں دینی مدارس کے طرز تعلیم کے بہت بڑے نقاد ہیں، وطن عزیز کی محترم شخصیت خورشید احمد ندیم کے ساتھ طویل عرصے تک ٹی وی پر "متبادل بیانیہ ” کے نام سے علمی، سماجی موضوعات پر پروگرام کرتے ہیں، گزشتہ دنوں پروگرام میں سبوخ سید نے خورشید ندیم کے سامنے ایک سوال رکھا، سوال تھا کہ مذہبی آدمی کیسا ہونا چاہیے ؟ خورشید ندیم نے یہ تو بتادیا کہ مذہبی آدمی کے اخلاق اچھے ہونے چاہیئے اور اس حوالے سے تشفی گفتگو کرلی مگر سوال کی تشنگی بہر صورت باقی رہی، متبادل بیانیئے کو سردست چھوڑ دیتے ہیں کچھ دیر کے لیئے اسلامی دنیا کے ایک بہت بڑے ملک "مصر” کا رخ کرتے ہیں-

مصر علمی دنیا کا مرکز جانا جاتا ہے ،وہاں عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی "جامعہ ازہر” موجود ہے، مصر کا مولوی جدید دنیا کا سب سے ماڈرن مولوی کہلاتا ہے، وہ پینٹ شرٹ و ٹائی بھی پہنتا ہے، داڑھی شیو کراتا ہے ،مصر کا استاد حدیث بھی تھری پیس سوٹ میں ملبوس ہوتا ہے ، سوال یہ ہے کہ پگڑی، داڑھی اور شلوار قمیص ہٹا کر وہاں کے مولوی نے کونسی کامیابی کے جھنڈے گاڑ ڈالے ہیں ؟مصر کے مولوی نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں کون سے نئے انکشافات کیے ؟ جو دنیا کے لئے یا کم از کم عالم اسلام کے لئے آئیڈیل بن سکے ، تو اس کا جواب ندارد ہے . مصر کا آج بھی ترقی کے اعتبار سے اسلامی دنیا میں بڑا نام نہیں ہے ،اس کے برعکس پاکستان کا مولوی آج بھی چٹائی پہ بیٹھ کر قرآن وحدیث پڑھاتا ہے، مگر پاکستان مصر سے علمی، سائنسی ہر میدان میں بہت آگے ہے، علوم نبویہ حاصل کرنے کے لئے مصر کے مقابلے میں دنیا پاکستان کا رخ کرتی ہے،اور پاکستان کو ترجیح دیتی ہے –

ایسے ہی مدارس میں جامعۃ الرشید ایک معیاری دینی درسگاہ ہے، گزشتہ کئ سالوں سے یہ ادارہ دینی مدارس کے اصل اہداف سے ہٹ کر نئی راہوں پہ چلنے کے تجربات کررہا ہے، بذات خود مجھے نہ "جامعۃ الرشید” سے کوئی ذاتی پرخاش ہے، اور نہ ہی جامعۃ الرشید سے مجھے کوئی نقصان پہنچ رہا ہے، اور نہ ہی جامعۃ الرشید کے طرز تعلیم پر کوئی اعتراض ہے ، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے، کہ پاکستان میں دینی مدارس خالص عوامی چندے سے چلتے ہیں اور عوام ان مدارس کو سالانہ کروڑوں روپے کا چندہ اس لئے دے رہی ہے کہ یہاں سے قرآن وحدیث پہ گہری نگاہ رکھنے والے ٹھوس علماء پیدا کیئے جائیں ،اگر اہل مدارس بھی وکلاء ، انجینئر پیدا کرنا شروع کردیں تو پھر ان عوامی چندوں پر قطعا آپ کا حق نہیں بنتا ہے ، میرے ذاتی خیال میں یہ احساس کمتری کی سب سے بدترین صورت ہے، اور مغربیت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کے بجائے اس میں بری طرح بہنے کا افسوس ناک عمل ہورہا ہے .

جامعہ کے ایک سالانہ کانووکیشن میں پاکستان کے ایک جید عالم دین نے پورے مجمع کے سامنے کہہ دیا تھا کہ یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ سب مرعوبیت کی دلیل ہے، اگر پاکستان کے دینی مدارس کا نام پوری دنیا میں گونج رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ اہل مدارس کی روایت پسندی ہے، یہ علوم نبویہ کے درسگاہیں ہیں ان کی کامیابی کا راز انہی علوم میں مضمر ہے، اس پاک وطن کو اس وقت وکلاء، انجینیرز، اور معیشت دانوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ چند ایسے خدا ترس علماء کی ضرورت ہے جو اس ملت کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگا سکیں، اور یہ افراد علوم نبویہ کے ان درسگاہوں سے پیدا ہوسکتے ہیں بشرطیکہ مدارس اپنے اہداف کو پہچان سکیں .

نوٹ : فاضل بلاگر کی یہ ذاتی رائے ہے ،اس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *