سلطان مُحمد فاتح ۔ ۔ ۔ (دوسری قسط)

مُصنف : ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

سلطان محمد ثانی سلطنت عثمانیہ کا گوہر آبدار اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ ممتاز اور دنیا کی عظیم ترین شخصیت تھا ۔ سلطان کی ولادت 26 رجب 833ء مطابق 20 اپریل 1429 کو ہوئی اس کے والد سلطان مراد ثانی نے اس کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا اور اس غرض کے لئے مملکت کے بڑے بڑے علماء اور فضلاء کو گراں قدر مشاہرے دے کر مقرر کیا گیا سلطان کو اپنے والد کی زندگی میں ہی سلطنت کا نظم و نسق چلانے کا کافی حد تک عملی تجربہ ہو گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان مراد ثانی تنہائی پسند انسان تھا اور سلطنت کے بکھیڑوں میں زیادہ نہ پڑتا چاہتا تھا اسی لیے اس نے دو مرتبہ گوشہ نشینی اختیار کر کے کاروبار مملکت اپنے بیٹے کے ہاتھ میں دے دیا ۔

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے تو محمد زیادہ تر اپنی رائے پر بھروسہ کرتا تھا اور اپنے باپ کے وزیروں کے مشوروں کو درخورا اعتناء نہ سمجھتا تھا اس پر مجبوراً انھیں مراد ثانی کے پاس شکایت کرنی پڑی چنانچہ وزیراعظم خلیل پاشا نے ایک مرتبہ مراد سے دوبارہ امور مملکت کو اپنے ہاتھ میں لینے کی درخواست کرنے ہوۓ کہا تھا کہ آپ کا لڑکا ابھی نا تجربہ کار اور سلطنت کے داخلی اور خارجی امور سے نا واقف ہے. جنگی امور کا بھی اسے کوئی تجربہ نہیں اس کے علاوہ سب سے خطرناک بات یہ کہ وہ دوسروں کے مخلصانہ مشوروں کی کوئی پروا نہیں کرتا اور خیر خواہانہ نصائح پس پست ڈال دیتا ہے. اس لیے ضرروی ہے کہ آپ دوبارہ مملکت کو اپنے میں لے لیں ورنہ سلطنت کو سخت خطرہ لاحق ہو جائے گا وزیراعظم کی اس شکایت نے محمد ثانی کے لیے مہمیز کا کام دیا اور اس نے اپنی عادات و خصائل کی اصلاح کر کے سلطنت کے کاموں کو خوش اسلوبی سے سر انجام دینا شروع کر دیا ۔

محمد ثانی کا باپ آل عثمان کا جلیل القدر فرمانروا تھا اس کی والدہ مئورخین کی روایات کے بموجب مسیحی تھی اس لیے اس میں مشرق اور مغرب دونوں خطوں کی اعلیٰ صفات کا امتزاج پایا جاتا تھا یہ مسلم ہے کہ خاندان اور وراثت کا اثر انسان کے عادات و خصائل پر ضرور پڑتا ہے ۔

مزید پڑھیں: کیا ترکی و سعودی تعلقات بحال ہو سکیں گے ؟

چنانچہ محمد ثانی کو بھی اپنے والد سے بہادری شجاعت صبرو استقلال اور عزم و حوصلہ کی صفات ورثے میں ملی تھیں سیاسی امور کی تربیت قیادت کا عملی ڈھنگ اور جنگی پالیسی کو تشکیل دینے کا تجربہ بھی اسے اپنے والد ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ سلطان محمد ثانی گندم گوں درمیانہ قد گھٹیلے جسم کا مالک صاحب بصیرت ارادے کا دھنی مصائب و شدائد کو خاطر میں نہ لاۓ والا اعلے درجہ کا شاہ سوار فنون حرب کا ماہر ترقی کا دلدادہ بیدار مغز جملہ امور سلطنت سے کما حقہ واقف اور سریع الفہم انسان تھا ۔

جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس کے والد نے اس کی تعلیم و تربیت کا بہت اعلیٰ انتظام کیا تھا جس کے نتیجے میں محمد کو علوم متداولہ میں خوب دسترس حاصل ہو گئی تھی اس کا ادبی مذاق بہت اچھا تھا مشرق تہزیب و ثقافت کے متعلق اس کا علم بہت وسیع تھا اس کے علاوہ بیرونی زبانوں پر بھی اسے عبور حاصل تھا چنانچہ اپنی مادری زبان ترکی کے علاوہ اسے عربی فارسی اور یونانی زبانوں سے گہری واقفیت تھی اور وہ ان میں اچھی طرح گفتگو کر سکتا تھا مزید برآں اطالوی زبان بھی سمجھ لیتا تھا تاریخ سے اسے کافی دلچسپی تھی نامور انسانوں اور بہادری لوگوں کے سوانح حیات خصوصاً قیاصرہ روم آگٹس قسطنطین تھیوڈوسس اور سکندر اعظم کے حالات زندگی بہت شوق سے پڑھتا تھا ۔

فنون لطیفہ بالخصوص موسیقی اور تصویر کشی کا بھی شائق تھا ادب سے اسے خصوصی تعلق تھا اور مختلف شعراء کے اشعار نہ صرف یاد رکھتا تھا بلکہ اپنے جذبات کو اشعار کی صورت میں بخوبی ادا بھی کر سکتا تھا تاہم جنگی علوم فنون میں اسے جس قدر دلچسپی تھی اتنی کسی اور علم میں نہیں تھی اور اس کی کامیابی کا راز بھی اسی میں مضمر تھا ۔

مزید پڑھیں: ترکی کے لیے اصحاب رسول سے زیادہ شاہ سلیمان اہم؟

جب کبھی اسے کسی نئی جنگی ایجاد کا علم ہوتا تو فوراً اس کے متعلق مفصّل معلومات حاصل کرنے اور اس سے کما حقہ استفادہ کرنے کی کوشش کرتا تھا ۔ اس کی زندگی بہت سادہ تھی اور اس کا سارا وقت پڑھنے فنون جنگ کے متعلق معلومات حاصل کرنے اور سیرو شکار میں گزرتا تھا عیش و آرام سے اسے دور کا واسطہ نہ تھا ۔

اس کا دستر خواں بہت ہی مختصر اور خوراک بہت ہی سادہ ہوتی تھی اس نے کسی شخص کو اپنا ندیم وہم حلبیس نہیں بنایا تھا اور نہ کبھی راگ رنگ اور عیشِ عشرت کی کسی محفل میں شرکت کی وہ تنہائی پسند انسان تھا اور ایسے ماحول کو پسند کرتا تھا جو یا تو انتہائی پر سکون ہو اور علم و ثقافت کے چشمے وہاں ہر سو بہہ رہے ہوں یا جہاں تیغ آزمائی ہو رہی ہو اور تلواروں کی جھنکاروں گھوڑوں کی ٹاپوں اور محاربین کے پر جوش نعروں سے میدان جنگ گونج رہا ہو

محمد ثانی کے زمانے میں ایشا اور یورپ میں مذہبی تعصب انتہا کو پہنچ گیا تھا مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان لمبے عرصے سے جنگ جاری تھی اور ہر دو فریق کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض و عداوت کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے. طویل عرصے کی آویزش کے باعث کوئی فریق دوسرے پر رحم کرنے اور اس سے کسی قسم کی رعایت برتنے کے لئے تیار نہ تھا. اسی مسموم فضا کا اثر تھا کہ سلطان کو بھی (اپنے والد کے بر عکس) بعض اوقات دشمنوں کے خلاف ورشتی اور سختی سے کام لینا پڑا. تاہم اس سے یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ سلطان طبعاً سخت دل اور تندخو تھا. بات یہ ہے کہ وہ طبعاً سخت دل اور بے رحم نہ تھا بلکہ حالات نے اسے سختی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔

حکومت کا نظم و نسق چلانے والے کارکنوں کے انتخاب کے سلسلے میں سلطان کو بہت تگ دو کرنی پڑتی تھی. کسی عہدے پر کسی شخص کا تقرر کرتے وقت وہ ذاتی خواہشات کو راہ میں حائل نہ ہونے دیتا تھا اس کے پیش نظر صرف یہ امر ہوتا تھا کہ آیا اس شخص کا تقرر مفاد ملکی کے لئے ضروری ہے کہ نہیں اور وہ اس کے احکام کی بلا چون و چرا تعمیل کرے گا یا نہیں انہی امور کو مد نظر رکھ کر وہ کارکنوں اور افسروں کا تقرر کیا کرتا تھا ۔

یہی وجہ ہے کہ اس کا عہد ثقافتی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ نظم و نسق کے لحاظ سے بھی ایک مثالی عہد تھا سلطان نے پوری جدوجہد کے بعد سلطنت عثمانیہ کو بہت وسیع کر دیا تھا ایشاۓ کوچک آور یورپ کا کثیر حصہ اس کے زیر نگیں آ گیا تھا اس صورت میں ضرروی تھا کہ اس کے عہدے کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نۓ قوانین مرتب کیے جاتے اور نظم و نسق کی مشینری چلانے کے لیے حکومت کے شعبوں کی نئے سرے سے تنظیم کی جاتی سلطان کی آولواالعزمی کی داد دینی چاہیے کہ روز وشب جنگ میں مصروف رہنے کے باوجود اس نے یہ کام بھی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا اور نہ صرف یہ کہ عظیم الشان فتوحات کے ذریعے سلطنت کا دائرہ بے حد وسیع کر دیا بلکہ حکومت کے شعبوں کی نۓ سرے سے تنظیم کر کے اور مناسب حال قوانین وضع کر کے حکومت کی بنیادوں کو نہایت مستحکم کر دیا ۔

مزید پڑھیں: نیلگوں پانیوں پر مشتمل ترکی کے ’’ ماوی وطن ‘‘ کی دلچسپ کہانی

بعض غیر مسلم مورخین نے لکھا ہے کہ سلطان کو مذہب سے کچھ زیادہ تعلق نہ تھا اور اس کے ثبوت میں وی آن مراعات کو پیش کرتے ہیں جو سلطان نے یونانی کلیسا کو دے رکھی تھی لیکن یہ درست نہیں ہے متعدد شواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ سلطان دین اسلام کا شیفتہ تھا اور اس کی تعلیمات پر سختی سے کار رہنے کی کوشش کرتا تھا مورخین یونانی کلیسا کے ساتھ نرمی برتنے کو اس کی آزاد خیالی پر محمول کرتے ہیں حالانکہ غیر مذہب کے ساتھ رواداری سے پیش آنا ۔

اسلامی تعلیم کا ایک اہم جزو ہے اور سلطان نے اس تعلیم پر عمل کر کے اپنے آپ کو ایک سچا مسلمان ثابت کر دیا واقعہ یہ ہے کہ سلطان تنگ نظر اور متعصب شخص نہ تھا اور وہ اس بات کو اچھی طرح سمبھتا تھا کہ اگرچہ دوران جنگ میں فریق مخالف سے سختی کا سلوک کرنا چنداں قابل اعتراض بات نہیں بلکہ اس زیر کرنے کے لیے بعض اوقات سختی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جنگ کے بعد اسی وقت تک صحیح طور پر امن و امان قائم رکھا جا سکتا ہے جب تک مفتوحین سے حسن سلوک کر کے ان کے دلوں کو موہ نہ لیا جائے ۔ چنانچہ سلطان نے اسی نظریہ پر عمل کیا اور مسیحیوں سے کامل روا داری کا سلوک کر کے انھیں اپنا حامی و مدد گار اور ہمدرد بنا لیا ۔

بازنطینی سلطنت

بازنطینی سلطنت دراصل سابق مشرقی رومی شہنشاہی کا ایک حصہ تھی گو کہنے کو تو یہ خود مختار حکومت تھی لیکن یہاں کی اقتصادیات پروینس اور جنیوا والے مسلط تھے اور جونک کی طرح یہاں کے باشندوں کا خون چوستے رہتے تھے ۔

یہ سلطنت (جیسے سلطنت یونان کا نام بھی دیا گیا ہے) ایک ہزار سال تک قائم رہی اس عرصے میں اسے سینکڑوں بار شدید مصائب و آفات کا سامنا کرنا پڑا اگر اس کی جگہ کوئی کمزور سلطنت ہوتی تو ان شدائد و آلام کی تاب نہ لا کر کب کی ختم ہو چکی ہوتی لیکن اس کے دم خم اسی طرح بر قرار تھے کہیں چودھویں صدی عیسوی میں جا کر اس پر ضعیف واضمحلال کی کیفیت طاری ہونی شروع ہوئی یہی وہ زمانہ تھا جب قدرت کی طرف سے ایک اور قوم اس سلطنت کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ۔ عثمانی ترک روز بروز طاقت حاصل کر رہے تھے اور بازنطینی سلطنت کا آخری وقت بہت قریب آ رہا تھا ۔

بازنطینی سلطنت میں مطلق العنان شہنشاہی نظام رائج تھا اس نظام حکومت میں بادشاہ کو غیر محدور اختیارات کے علاوہ مذہبی تقدس بھی حاصل تھا اس کے متعلق سمجھا جاتا تھا کہ خداوند اپنے احکام براہ راست اس پر نازل کرتا ہے اس لیے وہ قانون سے بالاتر ہے اس طرح وہ مملکت کے آہینی سر براہ کے فرائض بھی سر انجام دیتا تھا اور مذہبی امور میں بھی اس کے فیصلے حرف آخر کا درجہ رکھتے تھے وہ حاکم اعلیٰ بھی تھا اور کلیسا کا سر پرست بھی ۔

مزید پڑھیں: چین مین ہزاروں اویغوروں مسلمان عقوبت خانوں میں قید ہیں ،بی بی سی اردو

استبدادی مملکتوں میں جہاں شہنشاہ کو اختیارات کلی حاصل ہوتے ہیں اور اقتدار میں اس کا کوئی شریک نہیں ہوتا بغاوتیں بالعموم بڑی کثرت سے ہوتی رہتی ہیں حتیٰ کہ شاہی خاندان کے لوگ بھی جن میں بسا اوقات شہنشاہ کی اولاد اور بھائی بھی شریک ہوتے ہیں سازشوں کا بازار گرم کرنے سے نہیں چوکتے ہر ایک کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اقتدار اس کے ہاتھ میں آۓ اور وہ کوس لمن الملک بجا کر مخالفین کا کانٹا اپنی راہ سے مٹا دے یہی وجہ تھی کہ بازنطینی سلطنت کی پوری تاریخ بغاوتوں سازشوں اور سیاسی انقلابات سے بھری پڑی ہے مردوں کے علاوہ عورتیں بھی اکثر سازشوں کے تار ہلاتی رہتی تھی چنانچہ کون شخص ہے جس نے بازنطینی سلطنت کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہو اور وہ تھیوڈورا اور ایرین کی کار ستاینوں اور سازشوں سے واقف نہ ہو ۔

بازنطینی سلطنت کے قیام کا درمدار کلینہ فوجی قوت پر تھا سلطنت کو اس امر کا پوری طرح احساس تھا کہ ایک مضبوط لشکر کے بغیر حکومت کا وجود بے معنی ہے چنانچہ وہ ہمیشہ فوجی طاقت بڑھانے اور اسے جدید آلات سے لیس کرنے میں مصروف رہتی تھی سلطنت کی فوجیں مقامی باشندوں کے علاوہ وہ تنخواہ دار فوجیوں پر مشتمل ہوتی تھی ان فوجیوں کو جنگ کی باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی تھی یہ لوگ قومی ہیکل اور تنو مند ہوتے تھے اور ہو قسم کی مشکلات اور مصائب برداشت کرنے کے عادی تھے شہنشاہ فوجی قوت بر قرار رکھنے کے لیے ان پر بے دریغ دولت خرچ کرتا تھا اور وقتاً فوقتاً انھیں جاگیروں اور انعام و اکرام سے نوازاتا رہتا تھا ۔

مزید پڑھیں: ترکی کی آیا صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل

مگر اس قدر اہتمام کے باوجود فوجوں میں یک جہتی مفقود تھی اور سلطنت ان سے صحیح معنوں میں استفادہ نہ کر سکتی تھی وجہ یہ تھی کہ یہ فوجیں مختلف قبائل اور متعدد عناصر پر مشتمل ہوتی تھیں اور عقائد و خیالات تہزیب و تمدن زبان اور مذہب کے لحاظ سے ایک دوسرے سے باکل مختلف تھیں ان میں یورپین بھی تھے اور ایشیائی بھی اور یونانی بھی تھے اور ہن بھی تھے اور سلاری بھی تھے اور ترک بھی عرب بھی ہسپانوی اطالوی جرمن شمالی روسی اسکنڈے نیویا کے باشندے شامل تھے اگر ان میں کوئی قدر مشترک تھی تو صرف لوٹ مار اور مال غنیمت کا لالچ اور مال و دولت کی حرص تھی ۔

سلطنت کی جانب سے ان لشکروں پر کڑی نگرانی رکھی جاتی تھی اور بڑے جہاندہ گرم وسرد چشیدہ اور بہادر سرداروں کو ان کی قیادت سونپی جاتی تھی تا کہ ان میں خود سری کا جزبہ پیدا نہ ہونے پائے اور وہ سلطنت کے لیے خطرے کا باعث نہ بن جائیں سر کشی کی صورت میں یہ لوگ بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے تھے کیونکہ انھیں حکمت کی تمام کمزوریوں کا بخوبی علم ہوتا تھا اور وہ ان کمزوریوں سے وقت فائدہ اٹھا سکتے تھے ۔

اپنے جغرافیائی محل و وقوع اور ایک عظیم سلطنت ہونے کے لحاظ سے دولت بازنطینیہ کو ایک زبردست بحری قوت ہونے کا شرف حاصل تھا آٹھویں صدی عیسوی میں اس کا بحری بیڑا مشرقی سمندروں میں سب سے طاقتور بیڑا تھا ۔

مزید پڑھیں: ابھرتے ترکی سے عرب ممالک کی پریشانی کیوں ۔؟

لیکن بعد میں اس کی قوت طاقت میں کمی آ گئی اور وہ اپنی شان و شوکت کھو بیٹھا. اس کی ایک وجہ تو یہ تھی اس دوران میں سلطنت عباسیہ کے ساتھ جو بازنطینی سلطنت کی سب سے بڑی دشمن تھی جتنی لڑائیاں ہوئیں وہ سب خشکی پر ہوئیں اس کے علاوہ سلطنت کو خود بحری کمانڈروں کی طرف سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں وہ اس قدر طاقت حاصل نہ کر لیں کہ بیرونی حملوں کی مدافعت کرنے کی بجائے خود مملکت کے لئے خطرے کا موجب بن جائیں ۔

بحری بیڑے کی طرف سے عدم تو جہی برتنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ بازنطینی سلطنت بحیرۂ ایحبین کے یونانی مجمع الجزائر کو اسلامی فوجوں کی تاخت و تاراج سے محفوظ نہ رکھ سکی اور جزیرہ کریٹ اور صقلیہ (سسلی) مسلمانوں کے قبضے میں آ گیۓ ۔ نویں صدی عیسوی کے آخر میں بازنطینی سلطنت نے ایک بار پھر طاقت و قوت حاصل کر کے بحری بیڑے کی جدید تنظیم کی طرف توجہ دی اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ بحیرہ روم کی اول درجے کی بحری طاقت بن گئی ۔

بارھویں صدی عیسوی کے اوائل تک اس کی یہ خصوصیت بر قرار رہی تا آنکہ سلجوقی ترکوں نے اسے زیر کر کے ایشاۓ کوچک کے اکثر حصے پر قبضہ کر لیا اور اہم بحری آڈے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے اس کی بحری بیڑے کی طاقت بھی براۓ نام رہ گئی اور وہ سلطنت کے لیے فائدہ کا موجب ہونے کی بجائے ایک زبردست بوجھ بن گیا ۔

مزید پڑھیں: ابھرتے ترکی سے عرب ممالک کی پریشانی کیوں ؟

آخری زمانے میں بازنطینی سلطنت کا تمام رعب ختم ہو چکا تھا اور نظم و نسق کی مشینری پر اس کا کوئی کنٹرول نہ رہا تھا نہ داخلی حالات سلطنت کے قابو میں تھے اور نہ خارجی حالات سیاسی شورشوں کا بازار گرم تھا اور حصول اقتدار کے لیے شاہی خاندانوں کے افراد میں مستقل آویزش جاری تھی تخت پر قبضہ کرنے کی خاطر ہر دعوے دار نے ملک کے سربرآوردہ لوگوں قبیلوں کے سرداروں اور فوج کے سالاروں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کر دیا سازشیوں نے اس غرض کے لیے غیر ملکی عناصر اور مملکت کے دشمنوں سے ساز باز کرنے میں بھی کوئی حرج نہ سمجھا یہ بیرونی عناصر ایک فریق کے خلاف دوسرے فریق کی مدد کرنے کے ساتھ مملکت میں غارت گری اور لوٹ مار کا بازار بھی گرم رکھتے تھے اور اس طرح سلطنت کے اقتدار کو آہستہ آہستہ خاک میں ملا رہے تھے ۔

بازنطینی شہنشاہی کے آخری دور میں سلطنت کے گرتے ہوے اقتدار کو فوج بھی سنبھالا نہ دے سکتی تھی کیونکہ وہ زیادہ تر بیرونی عناصر پر مشتمل تھی اور وطن محبت قرابت اور نسب کا کوئی تعلق اسے مملکت سے کامل وفاداری قائم رکھنے پر آمادہ نہ رکھ سکتا تھا سپاہی مملکت کی خدمت صرف روپے پیسے کے لالچ کرتے تھے اس کے مفاد کی انھیں کوئی پرواہ نہ تھی یہی وجہ تھی کہ جب کبھی مملکت ان کے روزافزوں اور غیر اختتام پذیر مطالبات کو پورا نہ کر سکتی تو وہ بغاوت پر آمادہ ہع جاتے اور مملکت کے دشمنوں سے مل جانے کی دھمکیاں دینے لگتے تھے اس طرح یہ لشکر بھی مملکت کے محافظ کی بجائے اس کے لیے سخت خطرے کا موجب بن گئے ۔

مزید پڑھیں: عرب اسرائیل کے قدموں میں

بحری قوت کے ختم ہو جانے کی وجہ سے بھی بازنطینی سلطنت کو سخت دھچکا لگا تھا اور وہ کلینہ وینس اور جنیوا کی سلطنتوں کے رحم و کرم پر آ رہی یہ سلطنتیں بظاہر تو بازنطینوں سے دوستی کا دم بھرتی تھیں لیکن ان کا دعویٰ اخلاص و محبت محض دکھاوے کا تھا ان کی اپنی مصلحتیں اس امر کی متقاضی تھیں کہ بازنطینی سلطنت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس کا کس قدر خون چوسنا ہو چوس لو چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور موخرالذ کر سلطنت مادی افلاس کی آخری حد تک پہنچ گئی اگر بازنطینی اپنی بحری طاقت کو قائم رکھتے تو ترکوں کے لئے بہت مشکل تھا کہ وہ سمندر کو عبور کر کے یورپ کے ساحل پر پہنچ سکتے اور وہاں اپنے قدم جما سکتے بازنطینی سلطنت پر کاری ضرب لگانے میں بہت بڑا حصہ سریبا اور بلغاریہ کی نوزائیدہ مملکتوں کا بھی تھا ۔

ان مملکتوں نے ظاقت حاصل کر کے بلقان کا بہت سا علاقہ بازنطینوں سے چھین لیا عین اس وقت جب عثمانی ترکوں نے گیلی پولی پر حملہ کر کے اس پر تسلط حاصل کر لیا تھا سریبا اور بلغاریہ کے مسیحی بلقان میں فتوحات حاصل کر رہے تھے بازنطینی سلطنت کو ایک طرف ترکوں سے مقابلہ در پیش تھا دوسری طرف اپنے بھائی بند مسیحیوں سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا تھا اور ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا وہ اس خوف ناک صورت حال کا کس طرح مقابلہ کرے مایوسی کے گھٹا توپ اندھیرے میں آخری تدبیر یہ سوجھی کہ بلقان کے سلادیوں کو اپنی جانب ملانے کی کوشش کرے تا کہ ایک متحدہ قوت کے ساتھ عثمانیوں کا مقابلہ کر کے انھیں یورپ سے نکالا جا سکے لیکن ان کی بد قسمتی سے یہ مساعی بھی بار آور نہ ہوئیں بلقانی سلادیوں کو ترکوں کے نکالنے میں اتنی دلچسپی نہ تھی جتنی بازنطینوں کی تباہی سے تھی ۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان

قدرت کی طرف سے ان کو زریں موقع دیا گیا تھا جس سے اگر وہ فائدہ اٹھاتے تو اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت شاید دوبارہ حاصل کر لیتے مگر انھوں نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا وہ موقع انھیں اس طرح حاصل ہوا تھا کہ عین اس وقت عثمانی یورپ میں فتوحات پر فتوحات حاصل کر رہے تھے ان کے ایشیائی مقبوضات پر تاتاریوں نے حملہ کر دیا اور انھیں یورپی فتوحات کو ادھورا چھوڑ کر تاتاریوں کے مقابلے پر متوجہ ہونا پڑا اگر بازنطینی اس وقت تاتاریوں سے اتحاد کر لیتے تو عثمانیوں کو نہ صرف یورپ بلکہ ایشاۓ کوچک سے بھی نکال سکتے تھے تاتاریوں سے کوئی تعلق قائم کرنے کی بجائے انھوں نے عثمانیوں کے ایک فریق کے ساتھ دوستی کے معاہدات کر کے ان کے اقتدار کو مستحکم کرنے میں مدد دی۔

مغربی یورپ کی طاقتیں اس نازک وقت میں بازنطینی سلطنت کو بہت مدد دے سکتی تھیں لیکن بازنطینوں کے تعلقات ان سے بھی مخلصانہ نہیں تھے مغربی یورپ کی سلطنتوں سے مدد مانگنے کے نتیجے میں انھیں یونانی کلیسا کے مقابلے میں کیتھولک کلیسا کی برتری کا اقرار کرنا پڑتا تھا جس کے لیے وہ کسی طرح تیار نہ تھے بازنطینی رعایا کا ایک بڑا حصہ اس امر کے لئے تو آمادہ تھا کہ سلطنت عثمانیہ کی اطاعت قبول کر کے اس کے حلقہ غلامی میں آ جائے لیکن یورپ کی بالا دستی قبول کرنے کے لیے وہ کسی طرح تیار نہ تھے اس صورت حال میں بازنطینی سلطنت کو مغربی یورپ کی طرف سے امداد ملنے کا سوال پیدا نہ ہوتا تھا جب عثمانیوں کا دباؤ حد سے زیادہ بڑھ گیا اور بازنطینوں کو اپنا اقتدار کلینہ خاک میں ملتا نظر آیا تو مجبوراً شہنشاہ کنسٹنٹائن (قسطنطین) نے یونانی کلیسا کے کیتھولک کلیسا کے ساتھ اتحاد عمل کی منظوری دے دی سینٹ صوفیا کے گرجا میں اس اتحاد کو آخری شکل بھی دے دی گئی۔

مزید پڑھیں: کیا آج اتا ترک ہوتے تو وہ بھی ڈرامہ ارطغرل دیکھتے ؟

لیکن شہنشاہ کا یہ اقدام بعد از وقت مرض اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ یہ علاج بھی کار گر ثابت نہ ہوا اگرچہ شہنشاہ نے رومن کلیسا کی تمام شرائط قبول کر کے آپ کو کلیتہ مغربی طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا لیکن اس کے باوجود مغربی یورپ نے بازنطینی سلطنت کو تباہی سے بچانے کے لیے اس کی کوئی خاص مدد نہ کی مدد کرنا تو کجا اہل جینوا نے تو سلطان مراد ثانی سے معاہدہ صلح کر کے اس کے ساٹھ ہزار فوج کو ایشاۓ کوچک سے ساحل یورپ پر منتقل کرنے کی ذمہ داری قبول لر لی تھی بازنطینی سلطنت کی اس سے زیادہ بدبختی کیا ہو سکتی تھی کہ ان کی ہم مذہب ایک ریاست اس کے مقابلے میں اس کے دشمنوں سے معاہدہ صلح کر رہی تھی اور اسے یہ ترغیب دے رہی تھی کہ وہ اپنی فوجیں زیادہ سے زیادہ یورپی علاقوں میں منتقل کر دیں تا کہ بازنطینی سلطنت کو ان اطاعت قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ ہو ۔

نظم و نسق کی حالت اتنی ابتر ہوچکی تھی امن و امان اس حد تک آٹھ چکا اور اقتصادی بد حالی کے باعث باشندگان ملک کی حالت اتنی خستہ ہو چکی تھی کہ وہ صمیم قلب کے ساتھ یہ آرزو کرنے لگے تھے کہ کاش ان کے علاقے پر دولت عثمانیہ کا کامل تسلط ہو جائے تا کہ انھیں اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کرنے کا موقع ملے ۔

یہ تھے وہ حالات جن کے باعث بازنطینی سلطنت کی حالت روز بروز ابتر ہوتی چلی جا رہی تھی تا ہم اس کی گم گشتہ طاقت و قوت اور سطوت و جبروت کا ایک نشان دارالسلطنت قسطنطنیہ کی صورت میں ابھی تک باقی تھا لیکن ترکوں کے بڑھتے ہوے سیلاب نے اس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور قسطنطنیہ کی فتح کے ساتھ بازنطینی سلطنت کی صف بھی ۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لپیٹ گئی۔۔۔۔۔
(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *