سلطان محمد فاتح ۔۔۔ (پہلی قسط)

مصنف : ڈاکٹر محمد مصطفیٰ

عیسوی سے مشرق وسطیٰ اور مشرق قریب میں اسلامی سلطنت پر ضغف واضمحلال کی کیفیت طاری ہونی ہو چکی تھی منصور اور ہارون الرشید کی اولاد کا اقتدار آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا اور عباسی سلطنت بغداد اور اس کے گرد و نواح ہی میں محدود ہو کر رہ گئی تھی تیرھویں صدی عیسوی کے نصف میں یہ براۓ نام سلطنت بھی ختم ہو گئی اور تاتاریوں کا خونیں سیلاب البلاد عروس بغداد کو اپنی تندو تیز موجوں میں آنا فانا بہا، کر لے گیا ایک طرف مشرق وسطیٰ اور مشرق قریب میں اسلامی سلطنت پر ادبار کی گھٹائیں چھا رہی تھی دوسری طرف مغرب میں مسیحی طاقتوں کے ہاتھوں اندلیس کی اسلامی حکومت نزع کی حالت میں مبتلا تھی ایک طرف تاتاری مسلمانوں کی تباہی کے درپے تھے دوسری طرف یورپ کے مسیحی اسلامی تہذیب ؤ تمدن کے آثار کو محو کرنے کے لیے ایڑی سے چوٹی کا زور لگا رہے تھے ۔

ایسے نازک حالات میں اگر خدانخواستہ مخالف اسلامی طاقتیں آپس میں اتحاد کر لیتیں اور متحدہ قوت کے ساتھ اسلامی علاقوں پر حملہ آور ہوتیں تو اسلام کا نام صفحہ ہستی سے مٹ جاتا لیکن خوش قسمتی سے ان میں اتحاد حقیقی قائم نہ ہو سکا اور ہر طاقت اپنے طور پر مسلمانوں سے نبروآزما رہی جس کے نتیجے میں کسی طاقت کو بھی حقیقی کامیابی نصیب نہ ہو سکی تاہم اسلامی سلطنتوں کی کمزوری اور ان کی مخالف طاقتوں کی قوت دیکھ کر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ اسلامی دور کا اختتام اب بہت قریب ہے اسی احساس نے یورپ کے صلیبیوں بھی جرات دلائی اور ان کی فوجیں پوری قوت سے شام اور فلسطین کے علاقوں پر حملہ آور ہونے لگیں ۔

مزید پڑھیں: ترکی پر اقتصادی پابندی لگانے کا امریکی فیصلہ

قریب تھا کہ اسلام ان قوتوں کے پے درپے حملوں کی تاب نہ لا کر ہمیشہ کے لئے نابود ہو جاتا لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت سلجوقی اور عثمانی ترکوں اور ایوبیوں اور مملوکوں کی صورت میں ظاہر ہوئی اور ان خاندانوں نے مسلمانوں کی روبہ زوال حالت کو دور کر کے اسے ایک بار پھر رفعت اور شوکت سے ہمکنار کر دیا جہاں ایوبیوں اور مملوکوں نے شام اور فلسطین سے صلیبیوں کو نکال کر ایک مہتم بالشان کا کارنامہ سر انجام دیا ۔ وہاں ترکوں نے مشرق قریب کی آخری مسیحی سلطنت دولت بازنطینیہ پر کاری وار کر کے اور اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ کو اپنے قبضے میں لا کر اس عظیم الشان نقصان کی تلافی کر دی جو بغداد کے تاتاریوں کے ہاتھوں میں جانے سے اسلام کو پہنچا تھا یعنی اگر مسلمانوں کا ایک دارالسلطنت ان کے ہاتھوں سے چھن گیا تھا تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے قسطنطنیہ کی فتح کے ذریعے انھیں دوسرا دارالحکومت میسر آ گیا تھا جو شان و شوکت میں بغداد سے کسی طرح کم نہ تھا ۔

خلفائے راشدین کے عہدے سے ہی ایشاۓ کو چک میں عربوں کی ترک تازیوں اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو عباسی دور کے اختتام سے کچھ عرصہ قبل تک جاری رہا تا ہم یہ فتوحات مدو جزر کی حیثیت رکھتی تھیں کبھی تو ایسا دور آتا تھا کہ اسلامی فوجیں تیزی سے اس علاقے میں بڑھنی شروع ہو جاتی لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بازنطنبیوں کے پر زور حملوں کی تاب نہ لا کر انہیں ماورالنہر اور عراق کی حدود میں سمٹ آنا پڑتا صرف سلجوقی ترک تھے جنھوں نے گیارہویں صدی ۔

مزید پڑھیں: فتنہ قادیانیت سے متعلق 7 فروری کو ریاست بہاول پور کا تاریخی فیصلہ

عیسوی میں منزکرت کی فیصلہ کن جنگ میں بازنطنبیوں پر ضرب کاری لگا کر ایشاۓ کو چک میں اسلام کے قدم مضبوطی سے جما دیے اور بازنطنبیوں کے متواتر حملے اور صلیبیوں کی سر توڑ کوششیں مسلمانوں کے جمے ہوئے قدموں کو متزلزل نہ کر کر سکیں اسلام اس علاقے میں تیزی سے پھیلنے لگا اور یہاں کے باشندے جوق در جوق اسلام قبول کر کے اسلامی حکومت کے استحکام میں روز بروز آ ضافہ کرنے لگے چنانچہ ابھی تیرھویں صدی شروع نہ ہوئی تھی کہ اسلام نے اس علاقے میں مکمل غلبہ حاصل کر لیا ۔

ایشاۓ کوچک پر تسلط حاصل کرنے کے بعد اب ترکوں کی نظریں بحرہ روم کے ساحل کے دوسری طرف قسطنطنیہ پر پڑنی شروع ہو ئیں جو اس زمانے میں یورپ کا سب سے خوب صورت شہر سمجھا جاتا تھا اور جسے ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم بنانے میں بازنطنبیوں نے اپنی پوری طاقت صرف کر دی تھی تاہم یہ کام سلجوقیوں کے بس کا نہ تھا کیونکہ مرور ایام کے باعث سلجوقیوں میں بھی ضعف و اضمحلال سرایت کر چکا تھا اتحاد کی عظیم طاقت ان کے ہاتھوں سے چھن چکی تھی حتیٰ کہ ان کے آخری عہد میں بعض ایسے لوگ بھی ان میں پیدا ہو گیۓ تھے جنھوں نے اپنے بھائیوں کے مقابلے میں بازنطنبیوں سے گٹھ جوڑ کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا اور اس طرح وہ دشمنان اسلام کو طاقت اور قوت بہم پہنچانے میں مدو معاون ثابت ہوۓ ان نا سازگار حالات میں تین صدیوں تک ایشاۓ کوچک کو بازنطنبیوں اور صلیبیوں کی دست برد سے محفوظ رکھنا ہی دولت سلجوقیہ کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔

مزید پڑھیں: اسلام سے پہلے کا ہندوستان

دولت سلجوقیہ کی کمزوری بلا آخر رنگ لائی اور اس کے مقبوضات ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ سے نکلنے لگے سلجوقیوں کی جگہ خوارزم کے ایک قبیلے نے لے لی جسے ترکمانی کہا جاتا تھا اور جو تاتاریوں کے حملوں کی تاب نہ لا کر ایشاۓ کوچک میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا اسی قبیلے کے ایک اولوالعزم انسان سلطان محمد ثانی کو وہ سعادت نصیب ہوئی جس کے حصول کے لیے آٹھ سو سال سے مسلمان کوشاں تھے یعنی اس خوش نصیب انسان کے ہاتھوں قسطنطنیہ فتح عمل میں آئی ۔

دولت عثمانیہ نے جس کا قیام عثمان خاں کے ذریعے عمل میں آیا تھا اور جسے اس کے لڑکے آرخاں نے اپنی خداداد قابلیت اور ذہانت کی بدولت ترقی یافتہ منظم سلطنت میں تبدیل کر دیا تھا بہت جلد ایشاۓ کوچک سے آگے قدم بڑھا کر یورپ پر حملے شروع کر دیے اور ادرنہ (ایڑریانوپل) پر قابض ہو کر اسے اپنا دارالسلطنت بنا لیا ۔

عثمانیوں نے اپنے حملے بیک وقت ایشاۓ کوچک اور بلقان میں جاری رکھے چودھویں صدی کے آخر میں سلطان مراد اول نے سربیا اور بلغاریا کی فوجوں کو عبرت ناک شکست دے کر ان کی قوت و طاقت کو خاک میں ملا دیا اور اس طرح ان علاقوں میں سلطنت عثمانیہ سب سے بڑی طاقت بن گئی یہ وہ زمانہ تھا جب ترکی قبائل تاتاریوں کے بے پناہ حملوں کی تاب نہ لا کر نہایت کثرت کے ساتھ ایشاۓ کوچک میں پناہ لینے کے لیے بھاگے چلے آ رہے تھے دولت عثمانیہ ان قبائل کو حالت انتشار سے بچانے کے لئے فوجوں میں بھرتی کرنا شروع کیا اور اس طرح یہ قبائل سلطنت پر بوجھ بننے کی بجائے فتوحات میں عثمانیوں کے ممدو معاون بن گئے ۔

مزید پڑھیں: ترکی کی آیا صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل

مراد اول کے بعد اس کا بیٹا بایزید اول سر پر آراۓ سلطنت ہوا جس نے بے نظیر بہادری اور شجاعت کے باعث یلدرم (صاعقہ) کا لقب حاصل کیا بلغاریا کا کچھ حصہ تو سلطان مراد اول کے زمانے میں فتح ہو چکا تھا ملک کے باقی علاقے اس کے عہد میں فتح ہوۓ علاوازیں اس نے اپنی فوجوں کے ذریعے سربیا کی طاقت و قوت کو بھی بالکل تباہ برباد کر دیا اور الباینا کے بعض حصوں کو بھی فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا جب یورپین طاقتوں نے دیکھا کہ عثمانیوں کی فوجیں طوفان کی طرح پڑہتی چلی آ رہی ہیں تو انھوں نے پوری طاقت سے ان کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کر لیا چنانچہ 1394 سن 798 ہجری میں نیکوپولیس کے مقام پر سلطان بایزید اور یورپ کی متحدہ افواج کا مقابلہ ہوا جس میں اتحادیوں کو عبرت ناک شکست کھانی پڑی

اس عظیم سے بایزید کے حوصلے بڑھ گیۓ اور اس نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے ارادے سے اس کا محاصرہ کر لیا لیکن اس کی بد قسمتی سے عین اسی وقت تاتاریوں کی فوجوں نے بھی اپنا رج سلطنت عثمانیہ کی طرف پھیر لیا اور تیمور نے ایک لشکر جرار کے ساتھ ایشیاۓ کوچک پر حملہ کر دیا اس پر مجبوراً بایزید کو قسطنطنیہ کا محاصرہ اٹھانا پڑا اور تیمور کی فوجوں نے نبروآزما ہونا پڑا انگورہ کے مقام پر عثمانیوں نے تاتاریوں کی فوجوں سے شکست کھائی اور سلطان بایزید تیمور کے ہاتھوں میں قید ہو گیا عثمانیوں کی شکست کے نتیجے میں بعض مقبوضات مثلاً مانیہ. ایدہن. کرمان ان کے ہاتھوں سے نکل گئے اور بازنطنی سلطنت نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا ۔

مزید پڑھیں: ترکی کا عالمِ دین انمول مثال بن گیا

تاہم عثمانیوں کی قسمت اچھی تھی تیمور ایشاۓ کوچک کی فتوحات کو ادھورا چھوڑ کر چین پر حملہ کرنے کی غرض سے سمر قند واپس چلا گیا ادھر سلطنت پر قبضہ کرنے کی خاطر بایزید کے بیٹوں میں کشمکش شروع ہو گئی جس میں بلا آخر محمد اول کو کامیابی نصیب ہوئی اس نے سریرآراے سلطنت ہوتے ہی مملکت کے تباہ شدہ نظم و نسق کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش شروع کر دی اور عثمانی ایک بار پھر عظیم الشان طاقت بن کر یورپ کی قوموں سے نبروآزما ہوئے۔ سلطان محمد فاتح کے والد سلطان مراد ثانی کے عہد میں عثمانیوں کو ایشاۓ کوچک اور بلقان پر مکمل تسلط حاصل ہو گیا ۔

جمہوریہ وینس کی فوجوں کے مقابلے میں عثمانی فوجوں کو زبردست کامیابی نصیب ہوئی جزیرہ نماۓ یونان کو گھوڑوں نے اپنے ٹاپوں سے روند ڈالا. ہنگرویوں اور البانیوں کو دولت عثمانیہ کے مقابلے میں سخت شکست ہوئی. وارنہ اور کسووا کی فیصلہ کن جنگوں کے بعد دریائے ڈینیوب تک کا سارا علاقہ ترکوں کے زیر تسلط آ گیا اور بازنطنی شہنشاہِ کو خراج ادا کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا اب تمام بازنطینی مملکت میں صرف قسطنطنیہ ہی ایسا شہر باقی رہ گیا تھا جس پر اب تک ترکوں کی تسلط حاصل نہ ہوا تھا سلاطین عثمانیہ میں سے ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ یہ شہر اس کے ہاتھوں فتح ہو اور اس کے لیے ہر ایک نے حتی الواسع کوشش کی لیکن یہ سعادت سلطان محمد ثانی کے مقدر میں لکھی تھی جس کا تفصیلی ذکر ہم آ ہندہ صفحات میں کریں گے۔۔۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *