ایبٹ آباد : سردار لیگ اور علاقائی کرکٹ کا میلہ

تحریر :عبدالقدوس محمدی

ضلع ایبٹ آباد کی 48 ٹیموں کا کرکٹ میچز کا سلسلہ اسلام آباد میں کئی روز تک جاری رہا ۔ جس میں ایبٹ آباد کی تمام یونین کونسلز کی ٹیموں نے شرکت کی اور حسن اتفاق سے فائنل میچ پی کے 36 اور پی کے 37 یعنی ککمنگ اور بیرن گلی کی ٹیموں کے مابین ہوا ۔

سردار لیگ کے اس کامیاب کرکٹ میلے کی اختتامی تقریب میں برادرم عبدالروف محمدی کی معیت میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت ہوئی ۔ نوجوانوں کی صلاحیتیں دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی ۔ اختتامی خطاب میں عرض کیا کہ ، ” ایسی مثبت تفریحی سرگرمیاں خوش آئند ہیں، لیکن یہ صرف کھیلوں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیں بلکہ دینی امور، تعلیم اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی اسی طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

قومی کرکٹ ٹیم کی مثال دیتے ہوئے عرض کیا کہ، جس طرح سعید انور، انضمام ، محمد یوسف سمیت دیگر لوگوں نے دین کو مقدم رکھا تو اللہ رب العزت نے کرکٹ اور دنیا کے معاملات میں بھی کامیابی سے ہم کنار کیا۔ اس لیے نوجوان کسی بھی میدان میں ہوں، اللہ رب العزت کے احکامات ، پیارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات اور دینی معاملات کو مقدم رکھیں ۔ اللہ رب العزت دنیا آخرت کی سرخروئی نصیب فرمائیں گے ۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 5 کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب کا میلہ آج سجے گا

اس پروگرام میں 48ٹیموں کی شرکت کا مطلب ہے تقریبا 550 سے زائد نوجوان باقاعدہ میچ میں شامل رہے ۔ جب کہ ان کے رفقاء ، منتظمین، تماشائی اور دیگر لوگوں کی مجموعی تعداد بہت زیادہ رہی یوں ۔ سردار لیگ میں صرف 550 نوجوان نہیں بلکہ سینکڑوں دیہاتوں اور علاقوں کی بھر پور نمائندگی رہی ۔

اس طرح کے میچز صرف کھیل ہی نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی اور سماجی سرگرمی اور باہمی رابطوں کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں ۔ آج کے پروگرام میں جس طرح اذان کے وقت سب نوجوانوں نے با ادب اور خاموش ہو کر اس وقت تک تقریب کی کارروائی روکے رکھی جب تک اذان ہوتی رہی ۔ اس پر دلی خوشی ہوئی ۔

اللہ کریم حدیث مبارکہ میں دی گئی، بشارت کے مطابق اس موقع پر موجود تمام لوگوں کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت نصیب فرمائیں کیونکہ حدیث شریف کا مفہوم ہے جس نے خاموشی اور ادب سے اذان سنی,اذان کا جواب دیا اور اذان کے بعد کی دعا پڑھی اس پر میری شفاعت واجب ہو گئی ۔

مزید پڑھیں: سیاحت کے فروغ کیلئے پبلک پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے کا فیصلہ

اس طرح کے پروگرام وقتا فوقتا انعقاد پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ ہر پروگرام کے دوران اگر منتظمین اسی طرح اہتمام سے نماز کا وقفہ کریں اور مہمانان گرامی میں علماء کرام کو مدعو کرنے کا اہتمام کریں تو یہ میچ بھی تربیت گاہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔

میری تمام علماء کرام بالخصوص نوجوان دوستوں اور جدید فضلاء سے درخواست ہے کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کے افراد سے رابطہ رکھیں اور دوستانہ ماحول میں انہیں دین کی دعوت بھی دیں اور مسجد مدرسہ کے ماحول میں بھی لائیں، کیونکہ

نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اتنے شاندار پروگرام کے انعقاد پرسردار واجد صاحب اور سردار لیگ کے جملہ منتظمین کو خراج تحسین بالخصوص برادر عزیز سردار عبدالغفار ہزاروی اور ان کے رفقاء کا بہت شکریہ جو آج سب لوگوں سے ملنے اور اتنی اچھی تقریب میں شرکت کا سبب بنے۔

مزید پڑھیں: چین میں مصنوعی ذہانت سے نظام تعلیم چلایا جانے لگا

پروگرام میں برادر گرامی شہزاد گل صاحب بھی تشریف لائے تھے، جو پی ٹی آئی کی روایتی ناقدری اور داخلی کھینچا تانی کا شکار ہو کر اہلیت کے باوجود سینٹ کا ٹکٹ حاصل نہ کر پائے ۔ میری شہزاد بھائی سے علاقے کے نوجوانوں اور دینی مدارس کے فضلاء اور طلبہ کو مختلف اسکلز سکھانے کے حوالے سے متعدد نشستیں ہو چکیں ۔ شہزاد بھائی ایک اچھے اور باصلاحیت انسان ہیں، خاص طور پر اپنے علاقے کی فکر کرنے والے اور نوجوانوں کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھنے والے …. کسی قدردان جماعت میں ہوتے تو بہت کچھ مختلف ہوتا لیکن خیر مخلص لوگ عہدوں اور ٹکٹوں کے محتاج نہیں ہوتے جہاں رہیں کامیاب ٹھہرتے ہیں ۔ سب بھائیوں کے لیے بہت دعائیں اور نیک تمنائیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *