سواتی، افغانستان سے سوات اور پھر ہزارہ آئے

تحریر: گلزار

ہزارہ میں آباد قبائل کی اکثریت افغانستان سے یہاں ہجرت کرکے آئی ہوئی ہے۔ ہم دو دریاوں کے درمیانی خطے کے مالک ہیں اور صدیوں سے اپنا تحفظ کرتے آرہے ہیں۔ چھ چھ فتح جنگ بشمول کوہ مری کوہستان تک ہزارہ ہے۔ تاریخ اس کو ایک ملک قرار دیتی ہے اور ہم بھی اسے ملخ ہی کہتے ہیں۔

ایک سازش کے تحت انگریزوں نے اسکے ٹکڑے بخرے کرکے اسے پنجاب اور شمال مغربی صوبے میں تقسیم کر دیا، اس خطہ کے لوگ اس خطے کے نام سے صدیوں سے ہزارہ وال کہلائے جاتے رہے ہیں پاکستان میں جب پاکستانی قوم کے مقابلے میں چاروں صوبائی قومیں کھڑی کی گئیں تو دو بڑی قوموں کے اکابرین نے ہمارے وسائل پر قبضہ برقرار رکھنے کیلیے ہماری اس قومی شناخت کی تضحیک شروع کر دی پنجاب میں پختون اور اٹک پار ہمیں پنجابی جان لیا گیا اور سندھ میں بھی یہی سلوک ہوا۔

مزید پڑھیں: انجمن اتحادِ ہزارہ کی کارکردگی کیا ہے ؟

جب مہاجروں کے مقابلے میں زندہ رہنے کیلیے پنجابی پختون اتحاد قائم ہوا تو فرنٹ پر لڑنے والوں کی ہزارہ وال اکثریت کو بھی بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود اس اتحاد میں شناخت نہ دی گئی۔ یہاں بھی ہزارہ وال کی شناخت مٹا کر اسے پنجابی اور پختون کہا گیا۔
اس کے خلاف سب سے توانا آواز کراچی سے بلند ہوئی جب یہ گونج ہزارہ میں تو تحریک صوبہ ہزارہ میں ڈھل کر پوری دنیا میں ثابت ہوئے۔ یہ 2000ء کے کراچی میں سرگرم ہزارہ وال ۔۔۔ہزارہ پرستوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج کراچی میں بیس لاکھ سے زیادہ ہزارہ وال کو بحیثیت ہزارہ سندھیوں کی شناخت حاصل ہے۔ کراچی کی اب جب بھی بات ہوگی تو ہزارہ وال بحیثیت ایک قوم سٹیک ہولڈر ہیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *