کاشتکاروں کو درپیش چیلنج کیلئے EFP حکمت عملی تیار کرے گی

کراچی : ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ پائیدار اسٹریٹجک پالیسی فریم ورک کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملٹی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت باالخصوص کاٹن سپلائی چین کی پائیدار پالیسی فریم ورک وقت کی اشد ضرورت ہے۔ سپلائی چین ایف پی آر ڈبلیو میں کام کے مقام پر بنیادی اصولوں اور حقوق کو فروغ دینے کے لیے سب کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہو گا۔

یہ بات انہوں نے انٹریشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے تعاون، انڈی ٹیکس کے فنڈڈ پروجیکٹ کے تحت ای ایف پی کے زیر اہتمام ”سندھ میں کاٹن سپلائی چین کی پائیدار پالیسی فریم ورک“ کی تیاری پر ملٹی اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پرکنٹری ڈائریکٹر آئی ایل او انگریڈ کرسٹینسن، پریگمیا کے چیف کوآرڈینیٹر و سابق صدر شیخ شفیق جھوک والا،نائب صدر سائٹ ایسوسی ایشن عبدالقادر بلوانی،صدر پی ڈبلیو ایف کراچی چیپٹرموسیٰ خان،سندھ لیبر ڈائریکٹوریٹ محمد جاوید، پروجیکٹ ڈائریکٹر آئی ایل او اعجاز احمد، لینڈ لارڈ ایسوسی ایشن دادو کے صدر قاضی واجد،اسمال لینڈ لارد ایسوسی ایشن کے صدر مولا بخش،ایڈوائزر ای ایف پی فصیح الکریم، ڈائریکٹر ای ایف پی سید نذر علی اور پروجیکٹ کنسلٹنٹ نزہت جہاں نے بھی اظہار خیال کیا۔

مذید پڑھیں :اہل ملیر نے پیپلز پارٹی کو ریجیکٹ کر دیا : مفتی محمد مبارک عباسی

ای ایف پی کے نائب صدر ذکی احمد خان نے خیرمقدمی کلمات میں ایف پی آر ڈبلیو پر صوبائی سطح پر سوشل ڈائیلاگ کے پلیٹ فارم کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ۔ جس میں تمام اہم اسٹیک ہولڈرز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے دیہی آبادی اور اسٹیک ہولڈرز کو بیدار کرنے کی تائید کی تاکہ ایف پی آر ڈبلیو کے فروغ اور سہ فریقی ملٹی اسٹیک ہولڈرز کے مشاورتی پلیٹ فارم کے قیام کے لیے کام کیا جا سکے جو کاٹن کی سپلائی چین میں شامل فیصلہ سازوں کے لیے جگہ مہیا کر سکتی ہے ۔ جن میں آباد گار، مارکیٹوں کی ایسوسی ایشنز، مقامی حکام اور سوشل پارٹنرز شامل ہیں نیز ایف پی آرڈبلیو کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعمیل کے لیے چیلنجز اور مواقعوں کے بارے میں باہمی اتفاق اور مربوط طریقے سے رکاوٹوں سے نمٹنے کے حل پر متفق ہوا جا سکتا ہے ۔

مشیر ای ایف پی فصیح الکریم صدیق نے اپنی پریزنٹیشن میں پاکستان میں کاٹن سپلائی چین کی پائیدار پالیسی فریم ورک کی تفصیلات کا خاکہ پیش کیا جس میں قابلیت کو بڑھانے اور سوشل ڈائیلاگ کے لیے تحقیق کی سہ فریقی حکمت عملی پر توجہ دی گئی اور ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

مذید پڑھیں :سندھ رینجرز کے تحت 16 مدارس کے مابین کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد

شرکاء نے سپلائی چین میں مزدوری کے بہترین طریقوں کو قبول کرنے میں چیلنجز اور مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کاٹن سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں تعاون کرنے کا عہد کیا۔خاص طور پر کام کرنے کے حالات بہتر بنانے، اجرت میں عدم مساوات،صنفی امتیاز کو دور کرنے، بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے اور صنعتی کارکنوں کے برابر لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

ای ایف پی پاکستان میں کاٹن کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 5 سالہ حکمت عملی تیار کرکے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کرے گی۔اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر سندھ میں صوبائی سطح پر سہ فریقی سوشل ڈائیلاگ پلیٹ فارم کے قیام اور فصل کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے پالیسی کی تجویز پیش کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *