نکاح کی مبارک باد دینے کا سنت طریقہ

نکاح کی مبارکباد

سوال
نکاح کی مبارک باد دینے کا سنت طریقہ کیا ہے؟

جواب
نکاح کے موقع پر میاں بیوی یا ان کے خاندان والوں کو برکت کی دعا دینا اور اس کے لیے ’’شادی مبارک‘‘ یا ’’مبارک ہو‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرنا حدیثِ مبارک سے ثابت ہے اور اس کے لیے حدیث میں الفاظ بھی منقول ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی آدمی کو شادی کی مبارک باد دیتے تو یوں فرماتے کہ : ”بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ“، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس نکاح کو مبارک فرمائے اللہ تم پر اپنی برکتوں کا نزول فرمائے اور تم دونوں کو بہترین طریقے پر جمع رکھے۔

مزید پڑھیں: بے شمار لڑکیاں نکاح سے محروم کیوں ؟

نیز مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ حضرت عقیل بن ابی طالب کی شادی ہوئی اور پہلی رات کے بعد جب وہ باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا ہو، اور یہ نکاح اولاد کا ذریعہ بنے! انہوں نے فرمایا: ٹھہرئیے! یوں نہ کہیں، کیوں کہ نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے، اور کہا ہے: یوں کہا کرو: ” بارك الله لك، وبارك عليك، وبارك لك فيها“ اللہ تمہارے لیے اسے مبارک کرے، تمہیں برکتیں عطا فرمائے اور اس نکاح میں تم پر خوب برکت نازل فرمائے۔

سنن أبي داود (2/ 241):
"حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ، قَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ»”.

مزید پڑھیں: تنسیخِ نکاح و خُلع کی شرعی حیثیت

مسند أحمد ط الرسالة (25/ 17):
"عن عبد الله بن محمد بن عقيل، قال: تزوج عقيل بن أبي طالب، فخرج علينا، فقلنا: بالرفاء والبنين، فقال: مه لا تقولوا ذلك، فإن النبي صلى الله عليه وسلم قد نهانا عن ذلك، وقال: ” قولوا: بارك الله لك، وبارك عليك، وبارك لك فيها”. فقط واللہ اعلم

 

فتوی نمبر : 144201200891

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *