ملیر PS-88 میں PPP سرپرستی میں دھاندلی کے ریکارڈ قائم : علامہ رضی حسینی رضوی

علامہ رضوی حسینی

کراچی : تحریک لبیک پاکستان کراچی ڈویژن کے مرکزی امیر علامہ رضی حسینی رضوی نے کراچی کے حلقہ پی ایس 88 ضلع ملیر میں ہونے والے ضمنی الیکشن کی پولنگ ختم ہونے کے بعد مرکزی الیکشن آفس میں هنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پپلز پارٹی کو سخت الفاظ میں هدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ضمنی الیکشن ضلع ملیر پی ایس 88 میں پیپلز پارٹی نے پولیس کی سرپرستی میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ۔

جب کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے پولنگ اسٹیشن پر جدید اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا ۔ جب کہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ یو سی 9 در محمد گوٹھ اور درسانه چنہ سمیت مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلزپارٹی کے غنڈوں نے ٹی ایل پی کے پر امن کارکنان کو زدوکوب کیا ۔

مذید پڑھیں :کیا واقعہ سندھ اسمبلی میں 2 مراد علی شاہ ہیں ؟

یہ ساری غنڈہ گردی انتظامیہ کی سرپرستی میں ہوتی رہی۔سندھ کی حکمران جماعت کی جانب سے پی ایس 88 کے ضمنی الیکشن میں زبردستی فوت شدگان کے ووٹ بھی ڈالوائے گئے اور ایک شناختی کارڈ پر کئی کئی ووٹ بھی ڈلوائے جاتے رہے ۔

پیپلز پارٹی نے اپنی یقینی شکست نظر آنے پر دھاندلی اور غنڈہ گردی کی بدترین مثالیں قائم کردیں۔ علامہ رضی حسینی رضوی نے مزید کہا کہ تحریک لبیک کے پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز کو ہراساں کیا گیا ۔ جب کہ اس موقع پر انتظامیہ کی خاموشی معنی خیز تھی۔ خواتین کے پولنگ اسٹیشنز پر ایک ایک خاتون نے کئی کئی ووٹ ڈالے پیپلز پارٹی کی اس غنڈہ گردی پر الیکشن حکام کی خاموشی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا – اور سارا دن الیکشن قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتی رہیں ۔ علاوہ ازیں علامہ رضی حسینی رضوی نے اهلیان ضلع ملیر کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *