جنابِ عمران خان اِک نظر اپنی صف پر بھی ڈالیئے

تحریر : ضیاء چترالی

تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں عوام کو بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کسی ایسے عوام دوست دور رس اقدام کا دور تک کوئی نام و نشان نہیں، جس سے یہ امید لگائی جا سکے کہ مشکل وقت جلد ختم ہو جائے گا اور عوام کے دن بدل جائیں گے۔ اگر ایسا ہوتا تو وقتی مہنگائی کا بوجھ سہنا شاید اتنا مشکل نہ ہوتا۔ مہنگائی کے ستائے عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو گیا ہے ۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ گرانی کا عفریت بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ جس حساب سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے پیش نظر اچھے خاصے عہدوں پر فائز ملازمین کا بھی گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔ اس لئے وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے اداروں کے ملازمین دارالحکومت میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔ جن کے خلاف ایک سو چھبیس دن دھرنا دینے والے عمران خان کی حکومت نے طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ مگر بالآخر وفاقی حکومت سرکاری ملازمین کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور ان کی تنخواہوں میں پچیس فیصد اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

اس سے پہلے حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اضافے سے متعلق معاملات طے پائے تھے، لیکن مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جاتا، اس وقت تک وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کو اپنے وسائل سے اسی قسم کے اقدامات کرنے کی تجویز دے گی۔ ملازمین کے تین مطالبات تھے، جن میں ایک تنخواہوں میں اضافہ، مختلف سرکاری محکموں میں تنخواہوں کا جو فرق ہے اس کو دور کرنا اور تیسرا یہ کہ اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے طریقہ کار وضع کرنا۔ تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے چل رہا تھا۔ تاہم سرکاری ملازمین کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے ساتھ وعدے کرتی تھی، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے۔ حکومت کے اس غیر سنجیدہ رویئے کی وجہ سے وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔

مذید پڑھیں :محمد رضوان کی دوران میچ نماز کی ادائیگی کی ویڈیو وائرل

ملازمین کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے مظاہرین کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو فوری طور پر واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی ملازمین کو تو جیسے کیسے حکومت نے منا کر واپس کر دیا۔

لیکن اب مزید اداروں سے وابستہ ملازمین وپنشنرز نے بھی اسلام آباد مارچ کی تیاری کرلی ہے۔آل پاکستان ایمپلائیز ، پنشنرز و لیبر تحریک کے قائد محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ جس گروپ سے حکومت نے معاہدہ کیا، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، ہمارا اکیس نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ ہے اور ہم نے تنخواہیں بھی سو فیصد بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تواکسٹھ اداروں کے ملازمین اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اورپندرہ فروری کو ملک بھر سے قافلے روانہ ہوں گے۔

ان اداروں میں واپڈا، پی آئی اے، اسٹیل مل، او جی ڈی سی ایل، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن، سول ایوی ایشن، ریلوے، اساتذہ، ینگ ڈاکٹرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت دیگر شامل ہیں۔ اسلم خان نے کہا ہم پارلیمنٹ کے گیٹ پر دھرنا دیں گے اور ہمارا دھرنا دس گنا بڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا اگر ہمارا احتجاج روکا گیا تو تمام اداروں میں تالا بندی، بجلی، گیس، ریلوے اور فضائی سروس بند کر دیں گے۔ حکومت ویسے بھی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی تحریک سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

مذید پڑھیں :پی ٹی آئی رہنما ابرارالحق کی گاڑی کو حادثہ

اگر اتنے سارے اداروں کے ملازمین نے بھی اسلام آباد کا رخ کرلیا تو حکومت کا مزید چلنا مشکل ہوجائے گا۔ عمران خان جن لوگوں کے حصار میں قید ہیں، وہ ان کی نیّا ڈبو کر ہی دم لیں گے۔ معیشت کو سدھارنے کیلئے انہوں نے جن لوگوں کی خدمات حاصل کی ہیں، ہم نے ان کالموں میں متعدد بار اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ پاکستان کی معاشی کشتی کو بیج منجدھار چھوڑ کر فرار ہو جائیں گے۔ اب تو اس میں کوئی شبہ بھی نہیں رہا کہ مشیر خزانہ سے لے کر اسٹیٹ بینک کے گورنر تک سب بیرونی آقاؤں کے پیرول پر ہیں اور وہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے کسی عالمی منصوبے کا حصہ ہیں۔ حکومت کی ساری عمارت یو ٹرن پہ کھڑی ہے اور عمران خان نے پہلے ہی دن سے اپنے منشور سے یو ٹرن لیتے ہوئے کشکول گدائی ہاتھ میں لیا اور پھر قرضے لینے پر موت کو ترجیح دینے کا اعلان کرکے خود عالمی سود خود اداروں کے چوکھٹ پر ڈھیر ہو گئے۔

امداد اور قرضوں کے اربوں ڈالرز کی آمد کے باوجود معاشی حالت مزید ابتر ہوتی چلی گئی۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ موجودہ دور حکومت میں کس نے کتنی رقوم سے اپنی تجوری بھری۔ مگر اس وقت مہنگائی کا سونامی عوام کو بڑی تیزی سے نگل رہا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ وزیر اعظم جب تک خاموش رہتے ہیں، مہنگائی اپنی رفتار سے بڑھ رہی ہوتی ہے، لیکن جب وہ کسی چیز کے بارے میں ایکشن لے لیتے ہیں تو پھر اس کی قیمت کو گویا پر لگ جاتے ہیں، پھر اس کی قلت بھی ہوجاتی ہے۔ عمران خان اس کا الزام مافیا پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔

عمران خان اگر اپنی بائیس سالہ سیاست کو خود اپنے ہاتھوں درگور نہیں کرنا چاہتے تو انہیں ایک نظر اپنے اردگرد دوڑانی چاہئے۔ جس طرح چینی بحران کے ذمہ دار ان کی بغل میں کھڑے تھے، اسی طرح معیشت کی تباہی کے ذمہ دار بھی انہیں اپنی ہی صف میں نظر آئیں گے۔ یہ وہی غیر منتخب لوگ ہیں، جنہیں وزیر اعظم نے اپنے مشیر کے طور پر کابینہ کا حصہ بنا رکھا ہے۔ ان سے جان چھڑانا وزیر اعظم کے لئے ازبس ضروری ہے۔ ورنہ اکسٹھ اداروں کے لاکھوں ملازمین اگر اسلام آباد پہنچ گئے تو انہیں اس پر سوچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *