مولانا انور بدخشانی کے اہم ملفوظات

مفسر قرآن ،محدث زمان جامڈ المعقول والمنقول حضرت مولانا محمد انور بدخشانی دامت برکاتہم  کے اہم ملفوظات !

1- نیت کی لغوی اور شرعی صورت

نیت لغوی یہ ہے کہ بندہ مطلق طاعت کی نیت کرے اور نیت شرعی یہ ہے کہ بندہ اس عمل کو خالص اللہ تعالی کی رضا کے لئے کرنے کی نیت کرے، قرآن کریم میں مخلصین لہ الدین اور حدیث مبارک میں انما الاعمال بالنیات میں اسی نیت شرعیہ کی طرف اشارہ ہے کہ اعمال شرعی اعتبار سے اس وقت قبول ہوتے ہیں جب وہ نیت شرعی کے ساتھ ہوں، اس فرق کو لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

2- اللہ تعالی کی صفات

اللہ تعالی کی بعض صفات ذاتی ذات الاضافات ہیں مثلا خالق و قادر یعنی خالق بالمخلوقات و قادر بالمقدورات، بعض صفات حقیقی ہیں مثلا حی قیوم صمد، بعض اضافی ہیں مثلا غافر الذنب وقابل التوب، شدید العقاب، بعض صفات سلبی ہیں مثلا لیس کمثلہ شیئ وغیرہ

3- لفظ قرآن کا مصداق

قرآن کریم میں لفظ قرآن جہاں معرفہ آیا ہے وہاں کتاب معین یعنی قرآن کریم مراد ہے اور جہاں نکرہ آیا ہے وہاں مقرو (مصدر بمعنی مفعول) مراد ہے اور اس سے دیگر کتب سماوی بھی مراد ہیں مثلا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن اور ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال الخ

4- غریب القرآن و غریب الحدیث کیا ہے؟

غریب القرآن و غریب الحدیث کا تعلق مفردات سے ہے اور مشکل القرآن و مشکل الحدیث کا تعلق جملوں سے ہے، لفظ تناوش غریب القرآن ہے کہ اس کا تعلق مفردات سے ہے، مفردات امام راغب غریب القرآن کے متعلق ہے ، دونوں کے لئے الگ الگ کتابیں ہیں۔

5- لفظ قرآن یا نظم قرآن؟

قرآن کریم کے الفاظ کو لفظ کہنے میں بے ادبی ہے اس لئے اصولیین نے نظم کا لفظ نکالا کہ اس کا معنی ہے موتیوں کو پرونا جبکہ لفظ کا معنی ہے پھینکنا، چونکہ آیات قرآنی موتیوں کی طرح پروئی ہوئی ہوتی ہیں، اس لئے اس کے لئے لفظ نظم مناسب ہے ، مگر میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ قرآن نے نظم قرآنی کو نظم کہا ہو۔ فرمایا : اشکال ہوسکتا ہے کہ آپ نے نظم قرآنی کا لفظ نکالا تاکہ بے ادبی نہ ہو مگر نظم کا لفظ بھی شعر کے معنی میں ہے جو کہ ممدوح نہیں، وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ، والشعراء یتبعھم الغاوون، لہذا نظم کا لفظ بھی درست نہ ہونا چاہئے؟

جواب یہ ہے کہ نظم کا معنی مجازا شعر ہے اور حقیقت میں موتیوں کو پرونے کے معنی میں آتا ہے ، اور یہاں حقیقی معنی میں مراد لیا گیا ہے۔

6- تفسیر و تاویل کیا ہے؟

ہماری بہت سی تفسیر ، تاویل ہیں، ہم اس کو مجازا تفسیر کہتے ہیں، حالانکہ تفسیر وہ ہے جو دلیل قطعی سے ثابت ہو اور تاویل وہ ہے جو دلیل ظنی سے ثابت ہو، لہذا دلیل قطعی سے ثابت ہونے والا مفسر اور دلیل ظنی سے ثابت ہونے والا موؤل کہلاتا ہے۔

7- تعلیمی تربیت

ششماہی امتحان کے بعد کتابوں کو ختم کرانا اور نہ سمجھنا، یہ کتاب کو پورا کرنے کے لئے ایک رسمی طریقہ بن گیا ہے ، یہ تعلیمی ظلم ہے کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں، یہ دوسروں کو دھوکہ دینا در حقیقت اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے جس کا خود شعور نہیں وما یخدعون الا انفسہم ومایشعرون۔

8- اصولِ ہدایہ کا کمال

ہدایہ اصول فقہ سے پُر ہے، اس میں اصول فقہ دونوں معنوں میں ہے ، ایک معنی ہے ادلة الفقہ ، اس کو صاحب ہدایہ لقولہ تعالی اور لقولہ علیہ السلام سے بیان کرتے ہیں اور دوسرا معنی ہے وہ قواعد کلیہ جن کی روشنی میں احکامات فرعیہ کو قرآن و حدیث سے مستنبط کیا جاتا ہے، اس کو صاحب ہدایہ لأن کہہ کر بیان کرتے ہیں ، یہ فرضی اصول نہیں ہیں بلکہ قرآن و حدیث سے استنباط کئے ہوئے ہیں۔

9- علل ہدایہ کا درجہ

احکام علل ہدایہ و حجة اللہ البالغة دونوں میں ہیں لیکن دونوں میں فرق ہے، مولانا سیاح الدین کاکاخیل مرحوم نے بتلایا کہ حجة اللہ البالغة میں علل ترغیبی و ترھیبی ہیں، اس سے اجتہاد و استنباط کرنا ممکن نہیں اور ہدایہ کے علل سے اجتہاد و استنباط کرنا ممکن ہے کیونکہ وہ بتلاتے ہیں کہ یہ مسئلہ کیوں ہے وغیرہ ۔

اقول : دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہدایہ میں علل و اسباب کا بیان ہے اور حجة اللہ میں حِکم واسرار کا بیان ہے، احکام کامدار علل و اسباب پر ہوتا ہے حِکم و اسرار پر نہیں، اس لیے کہ علل احکام سے مقدم اور حِکَم مؤخر اور زائد فوائد کی قبیل سے ہوتی ہیں.
یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ عموما علل اور حکم کے درمیان فرق نہ کرنے کے نتیجے میں بہت سے خلجانات پیدا ہوتے ہیں.

10- اجتماعی ایصال ثواب کا ثبوت نہیں!

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجتماعی طور پر ایصال ثواب کرنے کا شرعا ثبوت نہیں ہے البتہ انفرادی طور پر ہر ایک اپنے طور پر بخش دے تو بہتر ہے اور اس کا شرعا ثبوت بھی ہے، ہمارے معاشرے میں اجتماعی ایصال ثواب کیا جاتا ہے، اور آخر میں ایک قاری صاحب بآواز قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر دعا کرتے ہیں، اس کا کیا مقصد ؟ کیا باقیوں کی تلاوت بے کار ہے؟ ہم نے خود یہ چیزیں بنائی ہیں، کوئی ناراض ہو یا راضی، صحیح بات یہی ہے۔

11- امام کے لئے تین لازمی اوصاف

امامت کرنے والے میں تین صفات ہوئیں تو قیامت تک امام رہے گا :
١-مستغنی ہونا
٢-تواضع اور خوش اخلاقی والا ہونا
٣- لوگوں کی سیاست اور سیاسی مسائل میں حصہ نہ لینا۔

12- روزہ کی علت

روزہ کی علت اللہ تعالی نے تقوی بیان فرمائی ہے لعلکم تتقون لہذا اب جو چیز بھی خلاف تقوی ہے وہ ممنوع ہے چنانچہ غیبت، جھوٹ تقوی کے منافی ہیں اس لئے ممنوع ہیں۔

13- تبلیغی جماعت میں خیر غالب ہے!

حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم جامعہ میں 11 جمادی الاخری 1424ھ بمطابق 10 اگست 2003ء کو تشریف لائے، ہمارے دورہ حدیث کا سال تھا، حدیث کی اجازت بھی مرحمت فرمائی، اگلے دن استاذ محترم نے درسگاہ میں فرمایا:

مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک بات بہت عمدہ فرمائی کہ جس چیز کا شر غالب ہو اس کو نہ کرو اور جس کا خیر غالب ہو اس کو کرو ۔پھر استاذ محترم نے فرمایا کہ ہم خیر کے کام کو نہیں کریں گے تو شر غالب آئے گا، تبلیغ کے کام میں خامیاں ہونگی مگر اس کا خیر غالب ہے، آج جنید جمشید اور سعید انور جیسے سنگر اور کھلاڑی تبلیغ کی برکت سے تین دن، تین ھفتہ اور تین ماہ میں بدل گئے، یہ اس کام کی خیر کی برکت ہے۔

14- چار قرآنی امتحانات

قرآن کریم میں چار قسم کے امتحانات کا ذکر ہے :
تقوی کا اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی
مصائب کا ولنبلونکم بشیئ من الخوف
علم کا اذا جاءکم المؤمنات مہاجرات فامتحنوھن
عمل کا ایکم احسن عملا۔

15- علمی کمال پیدا کرنے کا ایک ذریعہ!

کوئی آدمی صرف بخاری شریف کو مع فتح الباری کے دوسال پڑھے تو اس کو بقیہ کتب صحاح کی ضرورت نہیں، زیادہ سے زیادہ فقہ مقارن کے لئے ترمذی کو دیکھے تو اس میں کچھ رجال کے بارے میں معلوم ہوگا، اس کے ساتھ عارضة الاحوذی رکھ لے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑا کوئی علم میں نہ ہوگا۔

16– غیر نافع مطالعہ

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ مطالعہ، تلاوت وغیرہ جو آپ کو نماز سے روک دے، اس میں ثواب نہیں۔

17- میرے استاذ کی بات!

میرے استاذ مفتی محمد فرید صاحب دارالعلوم اکوڑہ والے فرماتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوکر ہوشیار ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے باپ کو کیا آتا ہے، اسکو تو کمربند کھولنا بھی نہیں آتا، میں کہتا ہوں کہ اگر تیرے باپ کو کمربند کھولنا نہ آتا تو تو نہ آتا۔

18- منطقی عبارات کی وجہ

جیسے آج کل کے دور میں مضمون لکھنے والا اردو میں چند انگریز ی کے الفاظ لکھتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ وہ دقیانوسی نہیں ہے بلکہ اسکالر ہے، اسی طرح گذشتہ دور میں اپنی کتابوں میں منطق لانا فیشن تھا تاکہ معلوم ہو کہ لکھنے والا اونچا آدمی ہے اور عقلی دلائل جانتا ہے۔

19- وجود ملائکہ

یہ غلط ہے کہ ملائکہ مجرد عن المادہ ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ ان کا مادہ موجود ہے قرآن کریم میں ہے اولی أجنحة مثنی و ثلاث ورباع۔

20- تلویح حاشیہ ہے، شرح نہیں!!!

کون کہتا ہے کہ تلویح شرح ہے ، یہ شرح نہیں بلکہ حاشیہ ہے، کافیہ کو برباد کیا تحریر سنبٹ نے اور سلم کو برباد کیا اردو کی لمبی لمبی تقریروں نے کہ مقصد ہی فوت ہوگیا۔

21- علامہ تفتازانی کا انداز

علامہ تفتازانی بڑے لطیف انداز میں حنفیوں پر رد کرتے ہیں اور حوالہ بھی ذکر نہیں کرتے، مجھے اسی وجہ سے مرجانی بہت پسند ہے کہ وہ ان کا ادب کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔

22- قدیم اور جدید فلسفہ میں فرق

قدیم فلسفہ میں اجسام کی طبیعت سے بحث کی جاتی ہے کہ وہ متحرک ہے یا ساکن، اس کی حرکت و سکون کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں، جدید فلسفہ میں اس سے بحث ہے کہ اس جسم سے ہمیں کیا فائدہ ہے؟ یہ ہمارے کام کی چیز ہے، اس کے ذریعے تعلیمات قرآن و حدیث کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

23- عربی اور انگریزی زبان میں فرق

انگریزی زبان میں اشتراک زیادہ ہے اور یہ لغت کے دامن تنگ ہونے اور قحط زدہ ہونے کی علامت ہے اور عربیت میں ترادف زیادہ ہے اور یہ لغت کے دامن وسیع ہونے کی علامت ہے، عربی میں سمجھانا بنسبت انگریزی کے زیادہ آسان ہے۔

24- اساس البلاغة لغت کی کتاب ہے!

صاحب کشاف نے اساس البلاغة لکھی جوکہ لغت پر مشتمل ہے نہ کہ بلاغت پر، چونکہ بلاغت کی بنیاد لغت پر ہے اس وجہ سے اس کو اساس البلاغة کہا جاتا ہے لیکن ہمارے طلبہ آج کل لغت سے نا آشنا ہوتے ہیں، ان کو اس طرف توجہ دلائی نہیں جاتی۔

25- نقل کفر ۔۔۔

نقل کفر کفر نہ باشد ولے گناہ کبیرہ ضرور باشد

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *