سعود ی ولی عہد کی پاکستان آمد سے قبل اسلام آباد و کراچی کی شاہراوں پر سعودیہ مخالف بینرزاور وال چاکنگ

رپورٹ: اختر شیخ

سعود ی ولی عہد کی پاکستان آمد سے قبل اسلام آباد و کراچی کی شاہراوں پر سعودیہ مخالف بینرزاور وال چاکنگ

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد ابن سلمان کی پاکستان آمد سے قبل 40اسلامی ممالک کی فوج کے اتحاد کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف بھی پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں وہ سیاسی اور سماجی رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں ،جب کہ ولی عہد کی آمد سے قبل خصوصی طیارے کے ذریعے ان کا سامان پہنچا دیا گیا ہے جسے 5ٹرکوں کے ذریعے اسلام آباد کے نجی ہوٹل پہنچا دیا گیا ہے ،جبکہ ولی عہد کے استعمال کے لئے گاڑی بھی سعودیہ سے لائی جائے گی ۔

سعودی علی عہدشہزادہ ابن سلمان 16فروری کو پاکستان کا پہلا دورہ کررہے ہیں جن کے اعزازمیں اسلام آباد وزیر اعظم کو سجانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ،جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ سعودیہ دنیا کا وہ واحد ملک یا ابن سلمان وہ واحد پیشوا ہیں جن کی آمد سے ایک ہفتہ قبل ہی سرکاری طور پر تیاریاں عروج پر ہیں تاہم اس کے ساتھ ہی دوسری جانب سعودیہ مخالف عناصر کی جانب سے اسلا م آباد ،لاہور اور کراچی کی اہم شاہراہوں پر سعودیہ مخالف وال چاکنگ کی جارہی ہے اور بینروز بھی آویزاں کئے جارہے ہیں ۔

سعودیہ اور ولی عہد شہزادہ ابن سلمان کی پاکستان آمد کے اعلان کے ساتھ ہی کراچی کی شاہراؤں جن میں مزار قائد کے سامنے کا علاقہ جہاں اہل تشیعہ آبادی ہے وہاں پر نئی تعمیر ہونے والی سڑک کے کناروں پر والا چاکنگ کی گئی ہے ،جس میں لکھا گیا ہے کہ ‘‘مردہ باد آل سعودمردہ باد’’ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد نامنظور’’درج ہیں ۔اس کے علاوہ اسلام آباد کے علاقوں ملیوڈی ،آبپارہ سمیت دیگر شاہراہیں شامل ہیں وہاں پر بھی بینرز آویزاں کئے گئے ہیں ،جن میں سعودیہ مخالف نعروں کے علاوہ پاک ایران دوستی زندہ باد لکھا گیا ہے ،پاک ایران دوستی کے 70سالہ دوستی اور اخوت ‘‘جیسے نعرے لکھے گئے ہیں جہاں پر خامنائی ،امام خمینی کے علاوہ قائد محمد علی جناح ؒ اور علامہ محمد اقبال ؒ کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں ۔

کراچی کی شاہراہوں پر کی گئی وال چاکنگ

سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے اس پر سخت تنقید کی جارہی ہے ،جمیل الرحمن فاروقی کی جانب سے ‘‘پاک چین دوستی والے بینرز کی تصویر لگاکر تبصرہ کیا گیا ہے کہ ‘‘ان تصاویر کو دیکھ کر آج جنرل حمید گل ؒکی یاد آرہی ہے ۔جبکہ محمد زبیر عثمانی نے لکھا ہے کہ ایسا تو آصف علی زرداری کے دور میں بھی کبھی نہیں دیکھا مگر خان صاحب کا دور میں سالگرہ منائی جارہی ہے ’’۔

جمیل الرحمن فاروقی کی وال سے لی گئی تصویر

ادھر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ محمد بلال خان نے لکھا ہے کہ ‘‘آل سعود میں مجھے مبغوض ترین کوئی شخص لگتا ہے تو وہ شہزادہ ابن سلمان ہے، مگر اس کے دورہِ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد بھر میں آلِ مجوس ایرانی سفارتخانے نے جس چیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالف وال چاکنگ کروائی اور پینافلیکس لگائے، اس سے ایران کی شاطری اور پاک سعودیہ تعلقات خراب کرنی کوشش واضح ہے، حکومت کو چاہیئے کہ "پڑوسی ملک” کی اس حرکت اور براہ راست پاکستان مخالف شرارت پر سفیر کو بلا کر سرزنش کرے، آج تک ایرانی صدور کے دوروں کے مواقع پر سعودی سفارتخانے یا سعودی حمایت یافتہ تنظیمات نے بھی یہ کام نہیں کیا، جو ایرانی نواز لابی نے اس بار کیا ہے، سعودیہ سے دشمنی کیلئے پاکستانی سرزمین کا انتخاب ایران کی کھلی بدمعاشی ہے۔

محمد بلال خان کی فیس بک وال سے لیا گیا عکس

دوسری جانب خدمت امت فاؤنڈیشن کے چیئرمین شہزاد احمد سلفی کا کہنا ہے کہ سعودی علی عہد اب سلمان کی پاکستان آمد سعودیہ سے ہماری سچی دوستی کی علامت ہے ،ہمارے ملک میں سعودیہ دوستی بہترین مثال شاہ فیصل مسجد اسلام آباد کے علاوہ دیگر بے شمار یادیں ہیں ۔ولی عہد نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی جو مدد کی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ،ا ن کی آمد سے قبل پاکستان حکام اس قسم کی مشکوک وال چاکنگ اور بینرز لگانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *