ویلنٹائن ڈے غیر شرعی اطوار اور یہودیوں سے مشابہت کے مترادف ہے

اسلام نے حیاء اور غیرت کا درس دیاہے ، بے حیائی اسلام میں نہیں ،ویلنٹائن ڈے منانے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،یہودیت کا پرچار کرتے ہیں ،الیکٹرانک میڈیا والے اس دن پروگرام رکھ کر بے حیائی کو فورغ نہ دیں ،ان خیالات کا اظہار رئیس دارالافتاء حمادیہ جامعہ ندوۃ العلوم ختم نبوت مفتی محمد طاہر مکی نے ایک تفصیلی فتویٰ میں کیا ہے .

انہوں نے لکھا ہیکہ ویلنٹائن ڈے منانے والے دوقسم کے لوگ ہیں ایک تو لکیرکے فقیرجنہیں کچھ علم ہی نہیں کہ اسکی حقیقت کیا ہے یہ صرف سخت ترین گناہگار ہونگے انکو سمجھاناہمارا فرض ہے، اور ایک وہ قسم ہیکہ انہیں معلوم ہیکہ یہ ایک یہودی جسکانام ’’ویلنٹائن ‘‘تھا اسنے ناجائز تعلقات کو جائز قراردیاجسکی پاداش میں اس وقت کی گورنمیٹ نے اس یہودی کو پھانسی دیدی ،جس پر ہر سال یہودی اسی مقام پر اُس یہودی کی نام سے یہ دن مناتے ہیں اور اسکو نام دیدیاگیا ’’ویلنٹائن ڈے‘‘اب جن لوگوں کو یہ حقیقت معلوم ہے پھر بھی وہ یہ فحاشی اور عریانی کا دن مناکر یہودیت کی پرچار کرتے ہیں وہ اس حدیث کی روشنی میں کہ ’’من تشبہ بقوم فہومنہم ‘‘جوجس قوم کیساتھ مشابہت اختیار کریگا اسکاحشراسی قوم کیساتھ ہوگا،یہ لوگ بروزمحشریہودیوں کیساتھ اٹھائے جائیں گے .

اسلئے مسلمانوں پر لازم ہیکہ وہ اس دن کو ’’یوم حیاء‘‘کے طور پر منائیں اور یہودیت کے پرچار سے خودکو دوررکھیں ،اسلامی تعلیمات کو عام کریں ،غیرت،حیاء اور شرم ہے ہی اسلام میں بے غیرتی بے حیائی اور بے شرمی انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،فتویٰ میں تحریر کیا گیا ہیکہ دوسروں کی بچیوں کو ویلنٹائن ڈے پر پھول پیش کرنے والے یا مسج کرنے والے یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ انکے سر پر قرض ہے جو انکی بچیوں سے کوئی بھی وصول کر سکتا ہے اسلئے اس دن اللہ کے غضب سے ڈرکرتوبہ استغفارکی کثرت کی جائے .

فتویٰ کے آخرمیں تحریرہیکہ یہ حکومت کا بھی فرض ہیکہ اسلام نے جو جائز طریقہ مرداور عورت کو ملانے کا رکھا ہے ’’شادی‘‘اسکے خلاف دوسراطریقہ اپنانے والوں کا راستہ روکے بصورت دیگر حکومت بھی اس ناجائز اور حرام کام میں عنداللہ برابر کی شریک ہوگی،فتویٰ میں کہا گیا ہیکہ کسی بھی طریقے سے ویلنٹائن ڈے پر پروگرام رکھنا بھی حرام ہے جسطرح الیکٹرانک میڈیا پروگرام رکھ کر دونوں گروپوں کو بلواتے ہیں ایک جو جائز کہتا ہے ایک جو ناجائز یہ غلط طریقہ اسکی مثال ایسی ھیکہ کل کلاں یہ میڈیا دوگروپس کو بلواکر اس پر مذاکرتے کروانا شروع کردے کہ زنا جائز ہے یا ناجائز؟ اسلام نے جسکو حرام قراردیدیااسمیں ’’یا‘‘کا لفظ شامل کرنا ہی’’شک‘‘ہے جو کفر ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *