صالح لالہ …. ایک محب وطن پاکستانی

زندہ قومیں اپنے اکابر و اسلاف اور اپنے بزرگوں اور بڑوں کو زندہ رکھتی ہیں، انہیں کبھی مرنے نہیں دیتے ۔ وہ اپنے بزرگوں کی خدمات، قربانیوں اور جد و جہد کی احسان مند رہتی ہیں اور ان کے کردار کا چراغ دل کے طاقچے میں سدا روشن رکھ کر اس سے قدم قدم پر رہنمائی حاصل کرتی ہیں، طاقتِ پرواز اور ہمتِ کار کی توانائی کشید کرتی ہیں …. شخصیات کی پرستش الگ چیز ہے اور پرستش کی حد تک عقیدت بہر حال ہماری دینی اقدار کے تقاضوں کے منافی ہے، مگر اس سے اپنے بزرگوں کی یاد آوری کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی ۔ بسا اوقات تو قوم کے بانی، بزرگ اور اکابر قوم کے وجود کی شناخت ٹھہرتے ہیں اور انہیں یاد رکھنا قوم کیلئے بقا کی ضرورت بن جاتی ہے۔ وہ قومیں اپنے وجود کا جواز رفتہ رفتہ کھو دیتی ہیں، جو اپنے بڑوں کی احسان مند نہیں رہتیں اور انہیں جلد بھلا دیتی ہیں ۔

پاکستانی قوم بھی مادر وطن کے بانیوں اور اپنے بزرگوں قائد اعظم محمد علی جناح، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، قائد ملت لیاقت علی خان شہید، سردار عبد الرب نشتر اور دیگر سے عقیدت رکھتی اور ان کی جد و جہد، خدمات اور قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ ان قائدین اور اکابرین سے محبت و عقیدت یوں تو ہر پاکستانی کی گھٹی میں پڑی ہے، تاہم اس قوم میں صالح محمد خان المعروف صالح لالہ جیسے بزرگ بھی موجود ہیں جو قوم کے بزرگوں سے اپنی عقیدت و محبت اور احسان مندی کے جذبات کو اپنے عمل سے تر رکھتے ہیں۔

مذید پڑھیں :رضوان کی تعریف پر سرفراز کا حفیظ کو منہ توڑ جواب

لگ بھگ پچاسی سالہ صالح لالہ ایک نظریاتی پاکستانی ہیں، وہ اس بات پہ ایمان رکھتے ہیں کہ ”اسلام ہی اس ملک کا سامانِ بقا ہے….“ وہ کلمہ توحید کو پاکستان کی بنیاد اور وجہِ بِنا مانتے ہیں اور اس بات پر شعوری یقین رکھتے ہیں کہ یہ ملک کوئی عام نہیں، بہت خاص ملک ہے۔ یہ الل ٹپ قائم نہیں ہوا، اس کے وجود کا ایک ٹھوس جوازاور سبب موجود ہے۔ یہ وہی جواز ہے جو حکیمِ مشرق علامہ اقبال کے خواب میں روشن ہوا تھا۔ یہی خواب، تصور اور جوازِ وجود ”نظریہ پاکستان“ ہے! صالح لالہ پاکستانی قوم کی اس پِیڑی سے تعلق رکھتے ہیں، جس نے اسلامیان ہند کے الگ وطن کے ناقابل یقین تصور کو اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقت کے روپ میں ڈھلتے دیکھا۔ تاریخ شاہد ہے وطن عزیز کی صحیح قدر و منزلت اس قوم کی اسی اولین نسل نے ہی پہچانی ہے، جس نے اس کے وجود کو حسین خواب سے آگے بڑھ کر تعبیر کا خوبصورت پیرہن زیب تن کرتے دیکھا، یا اس عمل میں اپنی پر جوش جد و جہد سے حصہ شامل کیا۔ اس بنیاد گر نسل کے نزدیک پاکستان کلمہ توحید کی ہی وجودی تشریح ہے اور اس نسل کا ہر فرد اس یقین محکم کے ساتھ وطن عزیز کے ہر چپے، گوشے اور ذرے کو مقدس سمجھتا ہے کہ پاکستان اسلام کا مترادف ہے۔

صالح محمد خان نہ صرف خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، بلکہ ان کا پورا خاندان علم و ہنر اور دین و ملت سے قلبی و قریبی راہ و رسم رکھتا ہے۔ وہ طویل عرصہ پاکستان اسٹیل سے بطور مکینکل انجینئر وابستہ رہے۔ کراچی میں قائم مزار قائد پوری قوم کیلئے مرکزِ عقیدت کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزار قائد کے احاطے میں مرکزی آخری آرام گاہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی ہے، جبکہ ان کے علاوہ محترمہ فاطمہ جناح، قائد ملت لیاقت علی خان، سردار عبد الرب نشتر سمیت کئی دیگر قومی مشاہیر اور اکابر بھی یہاں محو خواب ہیں۔ قبور کے علاوہ مزار کمپلیکس میں بابائے قوم کی ذاتی و قومی زندگی سے وابستہ کئی یاد گاریں اور ان کے استعمال کی تمام چیزیں بھی محفوظ ہیں۔ مزار قائد آنے والے شہری ان تمام مقامات پر حاضر ہوتے اور اپنے بزرگوں سے اپنے تعلق کو تازہ کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں :صحافیوں کی مدد کیلئے KUJ نے اپنی ویب سائٹ کا اجرا کردیا

صالح لالہ اس ملک کے قوم بننے کے زیر تکمیل عمل کے سرِ آغاز سے ہی شاہد ہیں۔ پاکستانی قوم کی پہلی نسل کے فرد کی حیثیت سے صالح لالہ کی رگ و پے میں قوم کے اکابر سے عقیدت رچی بسی تھی اور ہے، چنانچہ اسی نظریاتی عقیدت کے زیر اثر 1960ء کی دہائی میں انہوں نے بزرگان ِ قوم کے ایصال ثواب کیلئے مزار قائد کے احاطے میں قرآن خوانی کا انتظام اعزازی طور پر اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ ریڈیو پاکستان کی معاونت سے قرآن خوانی ٹیم کے لیڈر کے طور پر 35 سال تک یہ خدمت قومی جذبے سے انجام دیتے رہے اور 2006ء میں ضعف کی وجہ سے اس سے سبکدوش ہوئے، اس سے پہلے وہ سالہا سال تک قرآن خوانیوں کے انتظام کیلئے پشاور (جہاں وہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد سے مستقل مقیم ہیں) سے کراچی کا خصوصی سفر بھی کرتے رہے۔

اب 2010ء سے یہ خدمت ہمارے دوست اور مزار قائد کے فاتحہ خواں جناب قاری شمس الدین صاحب اعزازی طور پر اسی جذبے سے نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے ہیں، جس جذبے سے اس سلسلے کی صالح لالہ نے بنیاد رکھی اور اپنی عقیدت سے اس کی سالہا سال تک آبیاری کرتے رہے۔ یقینا صالح لالہ جیسے بزرگ ہماری قوم کا اثاثہ ہیں اور ان کا یہ عمل پوری قوم کی طرف سے ”خراجِ کفایہ“ کا درجہ رکھتا ہے ۔ بہت سے لوگوں کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ صالح محمد خان کے تعارف میں ایک حوالہ مفتی محمد جمیل خان شہید کا بھی ہے ۔ صالح لالہ مفتی جمیل خان شہید اور انڈس اسپتال کراچی کے سربراہ ڈاکٹر عبد الباری خان کے بڑے بھائی بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا جذبہ سلامت رکھے اور قوم کے ہر پیر و جوان کو اس جذبے سے سرشار ہو کر ملک کی خدمت کی توفیق دے، آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *