سیّد کا لقب اولاد فاطمی کے ساتھ کیسے مخصوص ہوا؟

سید

تحریر: سیّد عاقب شاہ ترمذی


ہمارے آئمہ فقہاء نے آپﷺ کی خصوصیات میں لکھا ہے عام طور پر نسب اور نسل بیٹے سے چلتی ہے لیکن یہ آپﷺ کی خصوصیت ہے کہ آپ کی نسل اور نسب آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمۃ الزہرا سے چل رہا ہے چنانچہ طبرانی کی روایت ہے:

"حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :ہر عورت کی اولاد کا نسب اپنے باپ کی طرف سے ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہ کے کہ میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں "

آپﷺ بنی ہاشم سے تھے اور بنی ہاشم قبیلہ قریش کی ایک شاخ ہے یعنی آپﷺ ہاشمی قریشی تھے

اب ان کی اولاد ہاشمی اور قریشی کی بجائے سید اور سادات کہلاتے ہیں یہاں تک کہ سید،سادات عجم اور خاص کر پاک و ہند میں ایک نسب اور قبیلہ تصور کیا جاتا ہے ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟

لفظِ سَیِّد!

لفظ سیّد یہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکی جمع سادات ہے،اس کا اطلاق کئی معنوں پر ہوتا ہے مثلاً مربی،مالک،شریف،فاضل،کریم حلیم،اپنی قوم کی ایذاء پر تحمل کرنے والا،رئیس،سردار اور پیشوا،

قاضی عیاض(رح) لفظ سیّد کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ سیّد وہ ہے جو اپنی قوم پر فائق ہو اور یہ سیادت،ریاضت،قیادت اور بلند رتبے سے عبارت ہے،نیز یہ بھی لکھتے ہیں کہ سیّد وہ ہے جو خیر میں اپنی قوم پر فائق ہو۔

(مشارق الانوار ج سوم/ص۲۸۶)

دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ سیّد وہ ہے جس سے قوم مصائب اور مشکلات میں رجوع کریں اور وہ اسے دفع کریں۔

(اکمال المعلم بفوائد مسلم،ج۷/ص ۵۸۲)

علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں

شریف،مالک،فاضل،سخی اور برد بار کو سیّد کہتے ہیں۔

(لسان العرب ج ۸/ص۴۲۲ )

علامہ مرتضیٰ زبیدی لکھتے ہیں

سیّد وہ ہے جسے اپنا غصہ مغلوب نہ کریں۔

(تاج العروس ج ۵/ص۳۲)

امام رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جس کی اطاعت واجب ہوتی ہے اسے سیّد کہنا جائز ہے۔

بعض نے فرمایا ہے سیّد وہ ہے جو خیر و برکات میں دوسروں سے بڑھ کر ہو

حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندی محدث دارالعلوم دیوبند کے شاگر رشید مولانا عبدالحفیظ بلیاوی اپنی مشہور زمانہ لغت کی کتاب”مصباح اللغات میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک سیّد وہ ہے جو خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا کی اولاد اور نسل سے ہو اور السیدان حضرت امام حسن اور امام حسین کو کہتے ہیں جوکہ حضرت علی کے بیٹے ہیں

لفظ سیّد کے مذکورہ لغوی معنی سے معلوم ہوا کہ اگر کسی بھی ذات،پات کے شخص میں ایسے اوصاف پائے جائے تو وہ سیّد کہلانے کا حقدار ہے اور عملاََ ایسا شخص اپنے دائرہ اثر میں سردار مانا بھی جاتا ہے اور اسکی اچھی عظمت،شہرت بھی ہوتی ہے۔

(مناقب الزہرہ ص۸۲)

لفظ سیّد کا اصطلاحی معنیٰ!

سیّد وہ ہے جن کا نسب امام حسن اور حسین سے منسوب ہو(ان دونوں کی اولاد سے ہو)

یہ بات تو کنفرم ہے کہ اس لفظ کو حدیث "اَلْحَسَنُ وَ الْحُسِیْنُ سَیَّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ”سے لیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ پیغمبرؐ کی اولاد کے لئے سید کا لفظ کس زمانے سے استعمال ہونا شروع ہوا اس بارے میں جو اسناد موجود ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٦صدی ہجری میں یہ لفظ عام تھا، اس زمانے میں وہ علماء جو پیغمبرؐ کی اولاد میں سے تھے انکے نام کے ساتھ سید ہوتا تھا. لیکن شیخ طوسی (م٤٦٠ق) اور نجاشی (م٤٥٠ق)، نے ہر جگہ پر شریف کا کلمہ استعمال کیا ہے اور اگر کسی جگہ پر انہوں نے سید کا لفظ استعمال کیا ہے، تو وہ بھی اکیلا نہیں ہوا بلکہ السید الشریف کی صورت میں ہے.

٦صدی ہجری کی کتاب تاریخ بیہق میں ایک باب سادات بیہق کے عنوان سے تدوین ہوا ہے،اس میں پیغمبرؐ کے خاندان سے جنہوں نے وہاں سفر کیا انکے بارے میں ذکر ہوا ہے

اس سے پہلے قم کی تاریخ میں پیغمبرؐ کی اولاد کے لئے سید یا سادات کا لفظ استعمال ہوا ہے. ابن حوقل جو کہ تاریخ قم نامی کتاب کا مولف تھا اس نے آل ابی طالب کے لئے سادات کا لفظ استعمال کیا ہے.

ان سندوں کے ہوتے کہا جا سکتا ہے کہ سادات کا لفظ چوتھی صدی سے ہی پیغمبرؐ کی اولاد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔

’لفظ الشریف‘ جس کا لغوی منعی ہے بزرگ،عالی خاندان، اصیل اور مہذب، اہل بیت رضوان اللہ علیم اجمعین کے خصائص میں شامل ہے کہ صدر اول کی اصطلاح میں لفظ اشراف کا اطلاق جمیع اہل بیت پر ہوتا تھا بعد ازاں یہ لفظ ان میں صرف حسنی وحسینی سادات کے لئے مخصوص ہو گیا

علامہ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں قرون اولیٰ( ابتدائے اسلام) میں اہل بیت کے ہر فرد کے لئے لفظ شریف کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور اس میں سب برابر تھے،خواہ وہ حسنی ہو یا حسینی ہوں،خواہ وہ علوی ہوں یا جعفری، عقیلی ہوں یا عباسی۔

چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الحاوی للفتاوی میں ایک باب قائم بنام العجاجۃ الزرنبیۃ فی السلالۃ الزینبیہ کیا ہے جس میں لکھتے ہیں:

اِنَّ اسْمَ الشَّرِیفِ کَانَ یُطْلَقُ فِیْ الصَّدْرِ الْاَوَّلِ عَلٰی مَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْبَیْتِ سَوَاءُ کَانَ حَسْنِیّاََ اَمْ حُسِیْنِیّاََ اَمْ عَلْوِیّاََ مِنْ ذُرِّیِّۃِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنْفِیَّۃِ وَ غَیْرَہ مِنْ اَوْلَادِ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبِِ اَمْ جَعْفَرِیّاََ اَمْ عَبَّاسِیّاََ وَ لِھٰذیٰ نَجِدُ تَارِیخِ الذَّھَبِیِّ مشحونا فِیْ التَّرَاجِمِ بِذَالِکَ یَقُولُ : اَلشَّرِیْف الْعَبَّاسِیّ، اَلشَّرِیْف العقیلی، الشَّریْف الجعفری، الشریف الزّینبی فَلَمَّا ولّیٰ الْخلُفَاء الفَاطَمَیُّونَ بِمِصْر قَصَّرُوْا اِسْمَ الشَّرِیْفِ عَلٰی ذُرِّیِّۃِ الْحَسَنِ وَ الْحُسِیْنِ فَقَط فَاسْتَمَرَّ ذٰلِکَ بِمِصْر اِلٰی الْآنِ۔

چھوتی صدی کے آخر اور پانچویں صدی کے شروع میں مصر میں جب اولاد فاطمی کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے قانون سازی کی کہ آج کے بعد لفظ شریف صرف اولاد کے لئے مخصوص ہوگا یوں ہی سرکاری سطح پر شریف کا لفظ صرف امام حسن و امام حسین کی اولاد تک محدود ہو گیا،جو آج تک مصر سمیت عرب ممالک میں یہ ان کے ساتھ یہ مخصوص ہے۔

مشرق و مغرب کے تمام بلاد اسلامیہ میں اس وقت بھی عام اصطلاح یہی ہے اور عربی زبان میں جب بھی شریف لفظ کہا جائے گا تو اس سے مراد حسنین کریمین کی اولاد ہوں گے

نکتہ: ہمارے اردو کے شارحین لفظ”الشریف”کا ترجمہ لفظ”سَیِّد” سے کرتے ہیں یعنی ان کے ہاں اس خاندان کے ساتھ دور حکومت اولاد فاطمی میں خاص ہوا۔

بخاری شریف جلد دوم میں امام بخاری نے قیصر روم ہر قل کا ایک واقعہ تفصیل سے ذکر کیا ہے فرماتے ہیں جب نبی کریمﷺ نے روم کے بادشاہ ہرقل کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے لئے اپنے قاصد کے زریعے خط بھیجا تو ہرقل نے آپﷺ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے ابو سفیان کو اپنے دربار بلایا اس وقت ابو سفیان تجارت کے سلسلے میں روم(شام)میں تھے

روم کے بادشاہ ہرقل نے ابو سفیان سے چند سوالات کئے جن میں ایک سوال آپﷺ کے نسب کے متعلق تھا

کَیْفَ نَسُبُہ فِیْکُمْ

تم میں انکا نسب کیسا ہے؟

ابو سفیان نے جواب دیا:

ھُوَ فِیْنَا ذُوْ نَسَبِِ

وہ ہم میں بڑے نسب والے ہیں

شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ بزار کی یہ الفاظ ہیں

ھُوَ فِیْ حَسَبِِ مَا لَا یَفْضُلُ عَلَیْہَ اَحَد قَالَ ھٰذِہ آیَۃ

(فتح الباری)

یعنی حسب و نسب میں اور خاندانی شرف میں کوئی ان سے بڑھ کر نہیں قیصر روم نے کہا کہ یہ بھی ایک علامت،نشانی ہے

یعنی نبی ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ آپﷺ کا خاندان سب سے اعلی،افضل اور اشرف ہے

جب قیصر روم نے ابو سفیان نے کا جواب سنا تو کہنے لگے

وَ کَذَالِکَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِیْ اَحْسَابِ قَوْمِھَا

یعنی پیغمبر ہمیشہ شریف ہی خاندان سے ہوتے ہیں،

آپﷺ نے اپنی صاحبزدای فاطمۃ الزہرا کے بارے میں فرمایا تھا وَ فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ النِّسَاءِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ اَنَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسِیْنَ سَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔

(ترمذی ج ۲/ص ۶۹۸)

ترجمہ: فاطمۃ الزہرا جنتی عورتوں کی سردار اور ان کے دونوں بیٹے حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔

اہل فارس اپنے سردار کو سیّد کہا کرتے تھے لیکن جب تیسری صدی ہجری میں اولاد فاطمی فارس میں آباد ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ کون ہیں جو اس خاندان سے عظمت،شرافت،حسب و نسب اور بلند مرتبے میں بڑھ کر ہو یہ وہی خاندان ہیں جو لفظ سیّد اور لفظ شریف کے معنی پر پورا اترتے ہیں تو لہٰذا انہوں نے اس خاندان کے لئے لفظ سیّد کا استعمال شروع کیا۔

یہاں ہند و پاک میں پیر و مرشد کو سید،سیدی اور ان کی اولاد کو شاہ جبکہ بادشاہ اور ان کی اولاد کو بھی شاہ کہتے تھے لیکن سلطان غیاث الدین بلبن سلاطینِ ہند میں سے تھے دہلی پایہ تخت تھا،موصوف کا دور حکومت 1266 عیسوی تا 1287 عیسوی ہے۔ اور یہ سلطان بلبن حضرت بابا فرید گنج شکر فاروقی قریشی کے خسر تھے نے اپنے دور حکومت میں

ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جسے بلبن کا شاہ گزٹ نوٹیفکیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس میں طے ہوا کہ تمام اولاد فاطمی اپنے نام کے آغاز میں سید اور آخر میں لفظ شاہ لکھیں گے

یہ طریقہ ابھی تک پاک و ہند میں رائج ہے کہ سادات اپنے نام کے شروع میں سید اور آخر میں شاہ لکھتے ہیں۔

اب یہ عرف بھی ہے اور اصطلاح بھی ہے، جو اس لفظ کا تلفظ کرے گا اس سے مراد اولاد فاطمی ہی ہوں گے، اگر کسی نے مطلق سیّد کہا تو اس سے مراد اولاد فاطمی ہوں گے کیوں کہ عرف میں یہ انہی کے ساتھ خاص ہے۔

Comments: 3

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. اگر چہ بغیر اجازت کی میری تحریر اٹھاکر ویب پر لگادی
    ادارے کا شکریہ آدا کرتا ہوں جنہوں نے میری تحریر کو اپنے ویب پر جگہ دی

  2. وٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتی تحریر کو من و عن اور صاحبِ تحریر کے نام سے شائع کرنے میں میرے خیال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ؟۔ کیوں کہ وہاں آپ کا نام ہی تھا نمبر تو تھا نہیں کہ لگا کر یا قبل از اشاعت آپ کو اطلاع کی جاتی ۔ ایفادہ عام اور اصلاح عام کے لئے اچھی تحاریر کو الرٹ ڈاٹ کام شائع کرتا ہے ۔ آپ کا شکریہ

  3. من و عن آگے شیئر کرنے میں مضائقہ نہیں
    شکریہ آدا کرتے ہیں۔