پشاور اب بھی قدیم و جدید امتزاج کا مظہر

مسعود علوی

میری ڈائری: مسعود احمد علوی


پشاور اب بھی قدیم وجدید کا حسین امتزاج ہے. یہاں پہنچ کر خوب اندازہ ہوتا ہے کہ جدت اور روایت کی جنگ میں پلڑا کس کا بھاری ہے. ایک طرف میٹرو سروس یورپ کا سماں باندھتی ہے تو دوسری جانب پرانی چمکیلی بھڑکیلی بسیں اب بھی سڑکوں پر فراٹے بھرتی ہیں. شام کو اگر مکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے برانڈز کی روشنیاں آنکھوں کو خیرہ کرتی ہیں تو پرانے چرسی تکوں کی دکانیں بھی سارا دن بھری رہتی ہیں. کوہاٹی گیٹ سے داخل ہوتے ہی پشاوری چپلوں اور روایتی سامان کی دکانوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے. یہاں جامع مسجد کے سامنے پہچتے ہی بھینی بھینی خوشبو ہم سے اجنبیوں کے قدم روک لیتی ہے. پٹھانوں کی تختوں اور چارپائیوں پر بیٹھ کر کھانے والی وہ عادت ہے جو انہیں ورثے میں ملی ہے جبکہ کھانوں میں پینڈا اور ثوبت ان کی وہ ڈشز ہیں جنہیں یہ دبئی اور یورپ جا کر بھی نہیں بھولتے ۔

پچھلے دنوں پشاور سے واپسی پہ جب اس کا تذکرہ چھڑا تو ایک صاحب طنز کرتے ہوئے کہنے لگے "آپ سے کون سا ایسا گناہ ہو گیا تھا کہ پٹھانوں سے متھا لگانا پڑ گیا”…… ان کی یہ بات تھی تو بہت نیچ لیکن تحمل سے سنی اور اپنی بات شروع کی ۔

جناب! پٹھانوں سے آپ کو ذاتی رنجش تو ہو سکتی ہے لیکن ان کی کچھ چیزیں ایسی ہیں٬ جن سے آج تک کوئی اختلاف کی جسارت نہیں کر سکا. سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ پٹھان وہ بہادر مخلوق ہے جو توپ کے گولے اور بندوق کی نالی کے سامنے تو نہیں جھکتی لیکن پیار کے دو بول کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہے. اللہ نے اسے اس خمیر سے بنایا ہے جس میں خودداری اور غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے. ہر پٹھان اپنی روایت سے تسبیح کے دانوں کی طرح جڑا ہوا ہے. یہ اپنی زبان اور طور طریقوں پر جان دیتا ہے. اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پٹھان بھلے کسی صدر وزیراعظم کے سامنے بیٹھا ہو٬ جب بھی کسی دوسرے پٹھان سے بات کرے گا تو لکھوا لیں وہ پشتو میں بات کرے گا. اس معاملے میں یہ بڑے سے بڑے بندے کو بھی خاطر میں نہیں لاتا ۔

مذید پڑھیں :سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق ختم کی جائے : انجمن اساتذہ جامعہ کراچی

پٹھانوں کی سب سے بڑی خوبی ان کا محنتی ہونا ہے. کل اپنی گاڑی کی اسمبلی خریدنے پنڈی کے علاقے چاہ سلطان گیا تو عجیب منظر دیکھا. اسمبلیوں والی اتنی بڑی گلی میں کسی ایک بھی دکان پہ کوئی دوسرا بندہ نظر نہیں آیا. اس گلی میں داخل ہوں تو آپ کو ایسا محسوس ہو گا کہ شاید کے پی کے آ گئے ہوں. صرف یہی نہیں بلکہ درجنوں ایسے کام ہیں جن میں پٹھان آپ کو بلا شرکت غیرے نظر آئیں گے. درے والوں کو دنیا کی کوئی گن اور پشاور میں کارخانے والوں کو دنیا کی کوئی مشینری دے دیں وہ آپ کو اس کی ہو بہو نقل تیار کر دیں گے ۔

آپ دنیا کا کوئی محنت مزدوری والا سخت سے سخت کام دیکھ لیں٬ پٹھان آپ کو صف اول میں نظر آئے گا. پاکستان سے باہر محنت مزدوری والے جتنے بھی کام ہیں ان میں بڑی تعداد ان پٹھانوں ہی کی ہے. دبئی و خلیج کی فلک بوس عمارتیں ہوں یا حرم شریف کی تعمیرات ہر خطرناک مرحلے پر آپ اپنے پٹھان بھائیوں کو آگے آگے دیکھیں گے. مہمان کوئی ان کے پاس پہنچ جائے تو اسے یہ سر پہ اٹھا لیتے ہیں. دنیا گھومے ہوئے لوگوں میں سے کسی کے پاس آپ کبھی بیٹھیں. وہ بتائے گا کہ صحابہ کرام کے بعد مہمان نوازی والا وصف کہیں کہیں عربوں میں نظر آتا ہے یا پھر پشتونوں میں.

یہ بات بھی اپنی جگہ سو فیصد درست ہے کہ انگریز بہادر کو اپنے پورے سو سالہ دور حکومت میں اگر کسی سے خطرہ رہا ہے تو وہ یہی پٹھان تھے یا پھر سکھ ۔

بات اتنی سادہ نہیں ہے جناب!!

انگریز جس سے نفرت کرتا تھا اسے مذاق بنا کے رکھ دیتا تھا. جتنے بھی لوگ ہاتھ کی کمائی اور محنت والے پیشے سے وابستہ تھے٬ خواہ وہ موچی ہوں، درزی ہوں، قصائی ہوں یا نائی…..انہیں گھٹیا اور کمی کمین کس دور بنا کر پیش کیا گیا؟

ایک وقت تھا جب غیر مولوی بھی اپنے نام کے ساتھ مولوی لگوانا پسند کرتے تھے. یہاں تک کہ بعض ہندو بھی اپنے نام کے ساتھ مولوی لگوانا شروع ہو گئے تھے. لیکن پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ یہی نام طعنہ بن گیا؟

وڈیروں اور جاگیرداروں کے علاوہ مقامی سطح پر علماء اور زمیندار ہی نہیں بلکہ ہر پگڑی والے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا. لیکن ذرا پتہ تو کیجیے کس کے حکم پر ڈھونڈ ڈھونڈ کے ٹھگنوں کو تلاش کیا گیا اور انہیں پگڑی باندھ کر عمدہ ہوٹلوں کے دروازے پر کھڑا کیا گیا. تاکہ یہ اونچی پگڑی والے جھک جھک کر گوروں کی بیویوں کو سلام کریں اور ان کے لیے دروازے کھولیں ۔

آپ کو کیا لگتا ہے یہ جو پٹھانوں اور سکھوں پر لطیفے بنے ہوئے ہیں٬ یہ ویسے ہی بنے ہوئے ہیں؟!! یہ اتفاق نہیں چال ہے۔ یہ لطیفے اور جگتیں کستے ہوئے کیا کبھی ایک بار بھی ہمارے دل میں یہ خیال آیا کہ ہمارے ان لطیفوں سے پٹھانوں کا کوئی نقصان ہو نہ ہو، گورے کے کلیجے میں بڑی ٹھنڈ پڑتی ہو گی۔ کیوں کہ گورا جتنے بھی نفرتوں اور تعصبات کے چھوٹے چھوٹے بیج ہم میں بو کے گیا تھا، ماشاء اللہ باقاعدگی سے پانی لگا کر ہم نے انہیں بڑے بڑے درختوں میں بدل دیا ہے۔ ویسے بھی پتہ ہو یا نہ ہو اس قسم کی شجر کاری میں ہم بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو سمجھ اور ہدایت دے!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *