کیا ختمِ خواجگان اجتماعی طور پر پڑھا جا سکتا ہے ؟

سوال : بعض جگہ ختم خواجگان اجتماعی طور پر پڑھا جاتا ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا ہمیشہ پڑھنا بدعت و مکروہ نہ ہو گا؟

الجواب

اس سلسلہ کا ایک سوال احقر نے حضرت مفتی محمد یحییٰ صاحب نور ﷲ مرقدہ‘ (مظاہر علوم سہارنپور) سے کیا تھا ، مفتی یحییٰ صاحب نے حضرت مفتی محمود حسن گنگوھی قدس سرہ‘ سے اس کے متعلق دریافت کیا ، حضرت نے اس کا جواب املاء فرمایا ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوال و جواب ہی نقل کر دیا جائے انشاءﷲ اس سے آپ کے سوال کا بھی جواب ہو جائے گا ۔

سوال : ہمارے بزرگوں کے یہاں ختم خواجگان کا معمول ہے اور جو حضرات ان سے متعلق ہیں ان میں سے بعض اپنے مقام پر اس پر عمل پیرا ہیں ، اسی طرح سورہ یٓسین شریف کا اجتماعی ختم ہو کر اس کے بعد اجتماعی دعا ہوتی ہے اس پر شرح صدر نہیں ہے ، آپ کو تو اس کے جواز کے دلائل معلوم ہی ہوں گے تحریر فرما کر ممنون فرمائیں ۔

وجہ اشکال حضرت عبدﷲ بن مسعود ؓ کا وہ واقعہ ہے جو فتاویٰ رحیمیہ ص ۳۰۶، ص۳۰۷ جلد اول میں بحوالہ ازالۃ الخفاء ، الا عتصام اور مجالس الا برار مذکور ہے ۔

بعض حضرات نے فتاویٰ رحیمیہ کے مطالعہ کے بعد اشکال کیا کہ آپ کے فتاویٰ رحیمیہ میں یہ لکھا ہوا ہے اور سہارنپور دہلی وغیرہ مقامات پر ہمارے بزرگوں کے یہاں ختم خواجگان اور ختم سورۂ یٓسین شریف کا معمول ہے ،کیا یہ عمل حضرت عبدﷲ بن مسعود ؓ کے واقعہ کے خلاف نہیں ہے ؟ اور یہ التزام مالا یلزم نہیں ہے ؟ دونوں میں وجہ فرق کیا ہے ؟ … اگر یہ علاجاً یا دفع آفات کے لئے تجویز کیا گیا ہے تو علاج یا آفات وقتی چیز ہے ، جس طرح قنوت نازلہ ہنگامی حالات میں پڑھا جاتا ہے اس پر مداومت نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی ہونا چاہئے، فقط والسلام بینوا توجروا ۔

مذید پڑھیں :ایڈمنسٹریٹر کراچی نے شہر کے نوجوانوں سے مدد مانگ لی

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً:

دو چیزیں ہیں ، ایک تو مداومت اورایک اصرار ، دونوں کا حکم الگ الگ ہی ۔ امر مندوب پر مداوت قبیح نہیں ہے ۔ فقہاء نے امر مندوب پر اصرار کو مکروہ قرار دیا ہے ۔

اصرار یہ ہے کہ کسی عمل کو ہمیشہ کیا جائے اور نہ کرنے والے کو گنہگار سمجھا جائے اس کی تحقیر و تذلیل کی جائے تو یہ مکروہ ہے ، اگر امر مندوب پر مداوت ہو اصرار نہ ہو تو مندوب مندوب ہی رہتا ہے، مثلاً کوئی شخص وضو کے بعد تحیۃ الوضو پڑھتا ہے اوراس کو ضروری نہیں سمجھتا اور نہ پڑھنے والوں کو گنہگار نہیں سمجھتا اور ان کو ملامت نہیں کرتا تو اس میں کوئی کراہت نہیں ، اب جو اعمال علاجاً کئے جائیں یا کسی سبب کی وجہ سے کئے جائیں تو جب علاج کی ضرورت ہو گی یا وہ سبب پایا جائے گا اس عمل کو کیا جائے گا ۔
قنوت نازلہ اول تو امام شافعی رحمہﷲ تعالیٰ کے نزدیک روزانہ نماز فجر میں پڑھا جاتا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ ﷲ تعالیٰ نے ابتلائے عام کے وقت اجازت دی ہے اس کا سبب ابتلائے عام ہے ، لہذ اجب تک ابتلائے عام رہے گا اس کو پڑھا جائے گا اور جب یہ سبب ختم ہوجائے گا نہیں پڑھا جائے گا۔

ختم خواجگان حصول برکت کے لئے پڑھا جاتا ہے مشائخ کا مجرب عمل ہے کہ اس کی برکت سے دعاء قبول ہوتی ہے اور کون سا وقت ایسا ہے کہ برکت کی خواہش نہیں ہوگی ، لہذا جب اس کا مقصد حصول برکت ہے تو جب جب حصول برکت کی خواہش ہوگی اس کو پڑھا جائے گا اور ہر وقت برکت کی خواہش ہوتی ہے اس لئے مداومت کرتے ہیں مگر اصرار نہیں کرتے ہیں ، فقط ۔ املاء الشیخ محمود حسن۔

رئیس المفتیین مظاھر علوم ۔باستدعاء یحییٰ غفرلہ، ۱۰/۵/۱۴۰۲ھ

فقط وﷲ اعلم
محمد امیر الدیں حنفی دیوبندی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *