تعلیم کی تباہی پر سندھ حکومت کی چشم کشا رپورٹ لمحہ فکریہ ہے : جماعت اسلامی

کراچی : جماعت اسلامی سندھ نے تعلیمی ایمرجنسی کے باوجودد سندھ میں تعلیم کی تباہی پر مبنی حکومتی چشم کشا رپورٹ کو لمحہ فکریہ قراردیتے ہوئے زوردیا ہے کہ حکومت سندھ میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے سنجیدہ و کرپشن فری اقدامات اور اعلانیہ 37 ہزار اساتذہ کی اسامیاں میرٹ وقابلیت کی بنیاد پر پر کی جائے۔

جماعت اسلامی سندھ کے نائب امراء پروفیسر نظام الدین میمن، عبدالغفار عمر، ممتاز حسین سہتو، حافظ نصراللہ چنا اور اظہار الحق نے آج اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت کا وڈیو اسکینڈل حکومتی دعووں کی نفی تو دوسری طرف مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن اور حکومتی نا اہلی سمیت عوام کے سلگتے ہوئے مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی۔

مزید پڑھیں :کیا ختمِ خواجگان اجتماعی طور پر پڑھا جا سکتا ہے ؟

انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت صوبہ میں 12 ہزار اسکول بندپڑے ہیں اور جو فعال ہیں تو وہ بیت الخلا، بجلی، چار دیواری، پینے کے پانی، کھیل کے میدان اور لائبریری سے محروم ہیں۔ باقی صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں تعلیمی صورتحال انتہائی رشویش ناک ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ اساتذہ کی اصطلاح بھی ہمارے صوبہ میں رائج ہے۔ ایک زمانے میں سرکاری اسکول معیاری تعلیم کی ضمانت تھے۔ مگر اب میرٹ کا قتل و اقرباءپروری کی صورتحال نے اس پر پانی پھیر دیا دیا ہے۔ سرکاری شعبہ میں تعلیم کے انحطاط نے نجی شعبہ کو موقع دیا ہے اور تعلیم متوسط اور غریب طبقے کی رسائی سے باہر ہوتی چلی جارہی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *