کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کی گرفتاری کیلئے کراچی میں احتجاج

کراچی : جاں بحق نوجوانوں کی تدفین سے قبل ہی کشمالہ طارق کے بیٹے اور ارب پتی شوہر کی پچاس ہزار روپے میں ضمانت کا منظور ہو جانا ہمارے نظام انصاف کے منہ پر طمانچہ تھا : مقررین

کراچی : 2 فروری کی رات کو اسلام آباد کے سرینگر ہائی وے پر وفاقی محتسب برائے ہراسانی وسابق رکن قومی اسمبلی کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل تیز رفتار گاڑی کے حادثے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی اور واقعے میں ملوث کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کی گرفتاری کیلئے کراچی پریس کلب پر ہزارہ وال سیاسی وسماجی رہنماؤں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔

جس میں سبیل الرحمن اعوان، آفتاب اعوان، رستم اعوان، حاجی ذوالفقار اعوان، محمد خالد تنولی، رفیق خان، لالہ نذیر،دلاور خان، منظور تنولی، شیراز تنولی، ڈاکٹر رستم اعوان، ملک جمیل، حاجی آصف تنولی، وسیم احمد ترک، فیاض سواتی، ندیم تنولی سمیت دیگر شریک تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے قطبے اٹھا رکھے تھے ۔

مذید پڑھیں : میٹرک بورڈ 30 اپریل تک امتحانی فیس میں اضافہ نہیں کرے گا : پرویز ہارون

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ مانسہرہ کے چار نوجوان آنکھوں میں مستقبل کے خواب سجائے اینٹی نارکوٹکس فورس میں انٹرویو کیلئے جارہے تھے کہ کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل گاڑی جسے ان کا بیٹا اذلان چلا رہا تھا کی ٹکر سے حیدر ولد آصف، فاروق احمد ولد ساجد، عادل ولد اشرف، انیس ولد شکیل کو ابدی نیند سلا دیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ حادثے میں جاں بحق ہونیوالے نوجوانوں کی تدفین سے قبل ہی کشمالہ طارق کے بیٹے اور ارب پتی شوہر کی صرف پچاس ہزار روپے کے مچلکے پرضمانت کا منظور ہو جانا ہمارے نظام انصاف کے منہ پر طمانچہ تھا۔

مقررین نے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق ہونیوالے نوجوانوں کے اہلخانہ میں سے ایک ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائے حادثے میں زندہ بچ جانیوالے واحد زخمی جو واقعے کا عینی شاہد ہے اس کا علاج سرکاری سطح پر کروایا جائے اور کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کو گرفتار کرکے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *