محکمہ تعلیم کالجز کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا

کراچی : محکمہ اسکول ایجوکیشن نے سندھ بھر میں انٹر میڈیٹ کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داﺅ پر لگا دیا، محکمہ اسکول ایجوکیشن نے انٹر کی سطح پر ایسا اختصار شدہ سلیبس تیار کیا ہے جس کی وجہ سے سرکاری کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے صوبہ سندھ کے ہزاروں طلبہ نہ صرف آغا خان اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ جامعات کے انٹری ٹیسٹ میں ہزاروں طلباء کے فیل ہونے کا خدشہ بھی پید ا ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹریٹ آف کریکیولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ جامشورو نے محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث رواں سال انٹرمیڈیٹ کے 40 فیصد کم سلیبس پر کالج اساتذہ کے اعتراضات کو مسترد کر دیا اور اسکول ایجوکیشن سندھ کے 40 فیصد کم سلیبس کے مطابق امتحانات لینے کا فیصلہ کر لیا ۔

جب کہ دوسری جانب کالج سائیڈ کے ماہر مضامین نے اختصار شدہ سلیبس پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب اختصار شدہ سیلیبس پڑھایا گیا تو سرکاری کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے صوبہ سندھ کے ہزاروں طلبہ آغا خان اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ سے پیچھے رہ جائیں گے اورجامعات کے انٹری ٹیسٹ میں ہزاروں طلباءکے فیل ہونے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

مزید پڑھیں :ڈی جے سائنس کالج میں کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کے ٹرائلس کا انعقاد

ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ ماہ ڈائریکٹریٹ آف کریکیولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ جامشورو نے مختصر نوٹس پر کالج اساتذہ کے ماہر مضامین کا اجلاس طلب کیا تھا اور ماہ اکتوبر میں کالج اساتذہ نے اسکول ایجوکیشن کی جانب سے بنائے گئے 40 فیصد کم سلیبس پر اعتراضات کئے تھے جو محکمہ اسکول ایجوکیشن نے محکمہ کالج ایجوکیشن کے سپرد کیا تھا ۔ اس اجلاس میں کالج اساتذہ کی جانب سے پیش کئے گئے سلیبس پر بحث بھی کی گئی تھی۔

کالج اساتذہ کا کہنا تھا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جو 40 فیصد اختصار شدہ سلیبس مرتب کیا گیا ہے وہ درست نہیں۔ زیادہ تر مضامین خصوصاً پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل کی کتب سے ان اسباق کو بھی نکال دیا گیا ہے جن سے جامعات کے انٹری ٹیسٹ میں سوالات آتے ہیں اور اگر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سلیبس کے تحت انٹر کی سطح پر تعلیم دی گئی اور 2021 کے امتحانات لیے گئے تو صوبہ سندھ کے طلبہ آغا خان اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ سے پیچھے رہ جائیں گے۔

ڈائریکٹریٹ آف کریکیولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ جامشورو کے اجلاس میں کالج ماہر ین مضامین نے اختصار شدہ سلبیس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کالج کے ماہر مضامین کی جانب سے محکمہ کالج ایجوکیشن کو پیش کئے گئے 40 فیصد کم سلیبس کو جاری کرنے پر اصرار کیا گیا ۔

مذید پڑھیں :جامعہ سندھ مدرسۃ الاسلام کا ریڈیو کے 100 سالہ سفر پر سیمینار کا اعلان

تاہم ڈائریکٹریٹ آف کریکیولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ جامشورو نے وقت کے قلت کے باعث دوبارہ کالج طلبہ کے لیے اختصار شدہ سلیبس جاری کرنے سے معذوری ظاہر کی اور اساتذہ کے اس اعتراض مسترد کرتے ہوئے اسکول ایجویشن سندھ کے 40 فیصد کم سلیبس کے مطابق 2021ء کے سالانہ امتحانات لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔تاہم کالج ایجوکیشن کی جانب سے انگریزی اختیاری، شہریت، تعلیم اور نفسیات کے تخفیف شدہ سلیبس کے مطابق امتحانات لئے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔

اس ضمن میں سپلا کراچی ریجن کے صدر منور عباس نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ کالج ایجوکیشن کے ماہرمضامین نے محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے جاری 40فیصد اختصار شدہ سلیبس پر اعتراضات کئے ہیں کیونکہ یہ سلیبس ہمارے طلبہ کو دیگر صوبے کے طلبہ سے پیچھے کر دے گا اور نتیجہ کے طور پر جامعات میں انٹری ٹیسٹ میں فیل ہونے کا باعث بھی ہو سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دیگر مضامین کچھ مسئلہ ہے مگر ریاضی اور فزکس کے اختصار شدہ سلیبس سے کالج اساتذہ مطمئن نہیں۔ اس سلیبس سے طلبہ کا بہت نقصان ہوگا محکمہ اسکول ایجوکیشن نے انا اور ضد کا مسئلہ بنا یا ہوا ہے یہ طلبہ کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *