جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد کی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات

کراچی : امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سے ادارہ نورحق میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے اعلی تعلیم کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں 4سالہ ڈگری پروگرام اور اعلی تعلیم کے حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تعلیم دشمن پالیسیوں، یونیورسٹی گرانٹس میں کمی کے حوالے سے امیرجماعت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ۔

جامعات و کالجز کے اساتذہ پر مشتمل وفد کی قیادت ڈاکٹر ایس ایم طہ کر رہے تھے ۔ وفد میں ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر منصور احمد، ڈاکٹر انتخاب الفت، ڈاکٹر اسامہ شفیق، ڈاکٹر اصغر دشتی اور پروفیسر ظفر یار شامل تھے۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی بھی موجود تھے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے وفد کا خیر مقدم کیا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے مظلوموں اور محروموں کے ساتھ ہے اور آئندہ بھی مسائل کے حل کے لیے ہر طبقہ فکر سمیت آپ کی جد و جہد میں بھی شانہ بشانہ ہوں گے اور اس کے لیے جماعت اسلامی جلد اس حوالے سے بھر پور و مزاحمتی و آگہی مہم کا آغاز کرے گی ۔

مذید پڑھیں :جامعہ اردو ڈاکٹر کمال حیدر – سید اخلاق حسین نامزد کننندہ کمیٹی انتخابات میں کامیاب

حافظ نعیم الرحمن نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کی خود مختاری کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ٗ اعلی تعلیم کو غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کرنے اس کو محدود کرنے کی حکومتی سازشوں کو بے نقاب کریں گے۔ حکومت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی پالیسوں پر عمل پیرا ہو کر اعلیٰ تعلیم کا حق غریب و متوسط طبقے سے چھیننا چاہتی ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور 4 سالہ ڈگری پروگرام کے باعث تعلیم صرف اشرافیہ تک محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماضی میں ایسے ہی اقدامات کے باعث اسکولوں اور کالجز کو تباہ کیا گیا اور اب اعلی تعلیمی اداروں و جامعات کو تباہ کرنے اور ان کی خود مختاری سلب کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب حکومت صوبائی خود مختاری میں مداخلت کررہی ہے تو دوسری جانب سندھ حکومت کا سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل بھی جامعات کی خود مختاری میں سنگین مداخلت ہے اور جامعات کی آزادی سلب کرنے کا مقصد معاشرے سے مکالمے اور پالیسیوں پر آزاد تحقیق و تنقید کا خاتمہ ہے جس سے معاشرے بدترین زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *